وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان کی زیر صدارت ضلع صوابی میں صحت کے اداروں کے اہم ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی امور پر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا

وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان کی زیر صدارت ضلع صوابی میں صحت کے اداروں کے اہم ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی امور پر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکرٹری صحت اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی اسد قیصر اور شہرام ترکئی سمیت ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے تمام متعلقہ اراکینِ صوبائی اسمبلی، سیکرٹری صحت شاہد اللہ خان اور محکمہ صحت کے متعلقہ افسران نے شر کت کی۔اجلاس میں متعلقہ اداروں کو جاری اخراجات کے لیے ریکرنگ گرانٹ کی فراہمی پر تفصیلی غور کیا گیا تاکہ اداروں کے انتظامی امور مؤثر انداز میں چل سکیں اور عوام کو بلا تعطل طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اس موقع پر جی کے ایم سی ایم ٹی آئی صوابی اور گجو خان کالج آف ڈینٹسٹری کی مستقل عمارتوں کی تعمیر کے لیے فنڈز کے اجرا پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ترقیاتی پروگرام میں منظور شدہ رقم بروقت تکمیل کے لیے ناکافی ہے اور لاگت میں اضافے کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا جا چکا ہے تاکہ منصوبوں میں تاخیر نہ ہو۔ٹی ایچ کیو ہسپتال ایم ٹی آئی لاہور میں نگار کالج آف نرسنگ اینڈ الائیڈ ہیلتھ سائنسز کی عمارت کی تعمیر کے لیے فنڈز کے اجرا کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ نرسنگ کالج فی الوقت کرایہ کی عمارت میں اپنے وسائل سے چلایا جا رہا ہے جبکہ ضابطہ جاتی تقاضوں کے مطابق متعلقہ اداروں کا قیام مقررہ مدت میں ضروری ہے۔ وزیر صحت نے ہدایت کی کہ اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے۔آئی ٹی انفراسٹرکچر کے حوالے سے پیش رفت پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیر صحت نے ہدایت کی کہ ڈیجیٹل نظام کو کے پی ایم ٹی آئی پالیسی بورڈ کی ہدایات کے مطابق مضبوط بنایا جائے تاکہ گورننس، ڈیٹا مینجمنٹ اور خدمات کی فراہمی کو مزید بہتر کیا جا سکے۔اجلاس میں سی ٹی اسکین، ایکس رے مشینوں اور دیگر اہم طبی آلات کی خریداری کا جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ بیشتر آلات اپنی مدت پوری کر چکے ہیں جس کی وجہ سے مرمت کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ وزیر صحت نے ہدایت کی کہ فرسودہ مشینری کی بروقت تبدیلی اور ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے لیے علیحدہ سی ٹی اسکینر کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ تشخیصی خدمات بلا تعطل جاری رہیں۔بی کے ایم سی ایم ٹی آئی صوابی میں کلینیکل ٹاور کی تعمیر کے منصوبے پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مجوزہ ڈیزائن میں جدید ہسپتال معیار اور انفیکشن کنٹرول تقاضوں کے مطابق بہتری کی ضرورت ہے۔ وزیر صحت نے تجربہ کار کنسلٹنسی فرم کی خدمات حاصل کرنے کی تجویز کی توثیق کی تاکہ مستقبل کی ضروریات کے مطابق جامع اور معیاری ڈیزائن تیار کیا جا سکے۔کارڈیک کیتھیٹرائزیشن لیبارٹری کے قیام کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ نظرثانی شدہ پی سی ون متعلقہ فورم کو ارسال کیا جا چکا ہے اور منظوری کا منتظر ہے۔ وزیر صحت نے اس منصوبے کی جلد منظوری اور تکمیل کے لیے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کی۔ٹوپی اور لاہور کے ٹی ایچ کیو ہسپتالوں کی مرمت، بحالی اور اپ گریڈیشن کے امور بھی زیر غور آئے تاکہ انفراسٹرکچر اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات میں بہتری لائی جا سکے۔ضلع صوابی میں ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال کے قیام کے منصوبے پر بھی غور کیا گیا جس کے لیے خطیر فنڈز درکار ہیں۔ وزیر صحت نے ماں اور بچے کی صحت کی سہولیات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام ضروری کارروائیاں مکمل کر کے بروقت منظوری اور فنڈز کے حصول کو یقینی بنایا جائے۔صوبائی وزیر صحت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع صوابی کے عوام کو معیاری، قابلِ رسائی اور سستی طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور شفافیت کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائیں۔

مزید پڑھیں