باچاخان میڈیکل کمپلیکس ایم ٹی آئی صوابی میں نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹر کا افتتاح

خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمن نے باچاخان میڈیکل کمپلیکس ایم ٹی آئی صوابی میں قائم نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سنٹر کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ یہ سنٹر حکومتِ خیبر پختونخوا، بے نظیر نشوونما پروگرام اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے باہمی اشتراک سے قائم کیا گیا ہے۔افتتاحی تقریب میں چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سنٹر روبینہ خالد، ڈائریکٹر جنرل بی آئی ایس پی عاصم اعجاز اور عالمی ادارہ صحت کے پاکستان میں نمائندہ لیو ڈپنگ نے خصوصی شرکت کی، جبکہ ہسپتال انتظامیہ، طبی ماہرین اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمن نے کہا کہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے کو اپنی اولین ترجیح قرار دے چکی ہے اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غذائی قلت کے شکار بچوں کے علاج و نگہداشت کے لیے نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سنٹر کا قیام ایک اہم پیش رفت ہے، جو نوزائیدہ بچوں کی صحت کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔صوبائی وزیرِ صحت نے نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹر کے قیام میں تعاون پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، بے نظیر نشوونما پروگرام اور عالمی ادارہ صحت کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے صحت کے شعبے کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔افتتاح کے بعد صوبائی وزیرِ صحت اور مہمانوں نے سینٹر کا تفصیلی دورہ کیا اور زیر علاج بچوں کے والدین سے ملاقات کر کے فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔ عالمی ادارہ صحت کے نمائندے لیو ڈپنگ نے صحت کے شعبے میں حکومتِ خیبر پختونخوا کے ساتھ مزید تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر ہسپتال ڈائریکٹر نے صوبائی وزیرِ صحت کو گزشتہ سال کے دوران فراہم کی گئی طبی سہولیات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی اور مستقبل میں عوامی سہولت کے لیے شروع کیے جانے والے بڑے منصوبوں سے بھی آگاہ کیا۔ہسپتال انتظامیہ کے مطابق نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹر 10 بستروں پر مشتمل ہے، جہاں پیدائشی طور پر کمزور اور غذائی قلت کا شکار نوزائیدہ بچوں کو خصوصی طبی نگہداشت، علاج اور غذائی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس سینٹر کے قیام سے نوزائیدہ بچوں کی اموات میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔

مزید پڑھیں