وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمن نے پاکستان انٹرنیشنل میڈیکل کالج حیات آباد میں منعقدہ وائٹ کوٹ تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع ادارے کیڈین، پرنسپل، اساتذہ، والدین اور بڑی تعداد میں طلبہ نے اُن کا پرتپاک استقبال کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ وائٹ کوٹ تقریب طلبہ کے پیشہ ورانہ سفر کا ایک تاریخی اور اہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ سے لیا جانے والا حلف محض چند الفاظ نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت، دیانت داری، پیشہ ورانہ مہارت اور اخلاقی اقدار سے وابستگی کا تاحیات عہد ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ طب ایک باعزت اور مقدس پیشہ ہے جسے لالچ اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اختیار کیا جانا چاہیے۔وزیرِ صحت نے کہا کہ محکمہ صحت کو نوجوان،باصلاحیت، متحرک اور دیانت دار افراد کی ضرورت ہے تاکہ صحت کے نظام کو مؤثر بنایا جا سکے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ صحت کے شعبے میں نااہلی، غفلت اور بددیانتی کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ اس پیشے کا تعلق براہِ راست انسانی جانوں سے ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنے کیریئر میں اعلیٰ اخلاقی معیار کو ہمیشہ ملحوظ رکھیں۔وزیرِ صحت نے والدین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ ملک بھر میں لاکھوں باصلاحیت نوجوان مالی مشکلات کے باعث طبی تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں، لہٰذا جن طلبہ کو یہ موقع ملا ہے وہ اسے ایک قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے معاشرے کی خدمت کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی توجہ معیاری صحت کی سہولیات اور مثبت نتائج پر مرکوز ہے۔ محکمہ صحت کے شعبے میں دیرپا اور مؤثر بہتری کے لیے جامع اور طویل المدتی پالیسیوں پر کام کیاجاہا ہے۔ ان پالیسیوں کا مقصد طبی سہولیات، انسانی وسائل، انفراسٹرکچر اور آلات کی بہتری کو یقینی بنانا ہے۔صوبائی وزیرِ صحت نے احتیاطی صحت (Preventive Healthcare)کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنی طرزِ زندگی اور خوراک کی عادات میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں پر مریضوں کا بڑھتا ہوا دباؤ تشویشناک ہے اور بیماریوں سے بچاؤ ہی اس مسئلے کا مؤثر حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والی نسلوں کے محفوظ، صاف اور صحت مند مستقبل کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔انہوں نے بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز کو اپنی مقامی سطح پر خدمات سرانجام دینی چاہئیں تاکہ بنیادی صحت مراکز (BHUs) اور دیہی صحت مراکز (RHCs) کو فعال بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرائمری ہیلتھ کیئر کو مضبوط بنا کر ہی بڑے ہسپتالوں پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔وزیرِ صحت خلیق الرحمن نے کہا کہ محکمہ صحت تمام خامیوں کو دور کرنے کے لیے شب و روز کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سطح پر صحت کے مراکز میں ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف، ادویات اور جدید آلات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مشترکہ کوششوں اور باہمی تعاون سے صحت کے نظام میں نمایاں اور مثبت تبدیلی لائی جائے گی۔
