غیر حقیقی ڈیٹا ناقابلِ قبول، ہسپتال مینجمنٹ میں مؤثر ہم آہنگی اور مضبوط قیادت ناگزیر ایم ایس کا کردار فیصلہ کن، غفلت پر کوئی رعایت نہیں ہوگی صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمٰن کی صوبہ بھر کے ایم ایس کے ساتھ اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت

خیبر پختونخواکے وزیرِ صحت خلیق الرحمٰن نے صوبہ بھر کے سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ صحت سے متعلق ڈیٹا حقیقت کے مطابق، منظم اور مربوط ہونا چاہیے کیونکہ رپورٹ شدہ اعداد و شمار اور زمینی حقائق میں فرق کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ وزیرِ صحت نے زور دیا کہ ہسپتال مینجمنٹ اور سروس ڈیلیوری میں بہتری کے لیے مؤثر ہم آہنگی، مضبوط قیادت اور مثبت نیت ناگزیر ہے، جس میں ایم ایس کا کردار مرکزی اور فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔اجلاس میں سیکرٹری صحت شاہد اللہ خان، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر شاہین آفریدی سمیت محکمہ صحت کے سینئر افسران اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران صوبے بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں انسانی وسائل، طبی آلات کی دستیابی، انفراسٹرکچر، سروس ڈیلیوری اور انتظامی امور سے متعلق ایک جامع اور مفصل بریفنگ دی گئی۔ ہسپتالوں کی سطح پر ہونے والی پیش رفت، درپیش مسائل اور انتظامی خامیوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ بہتر کارکردگی دکھانے والے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو سراہا گیا جبکہ غفلت اور کمزور انتظام کے ذمہ دار افسران کو جوابدہ ٹھہرایا گیا۔صوبائی وزیرِ صحت نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ محکمہ صحت نے صوبے بھر کے ہسپتالوں کو طبی آلات، انسانی وسائل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ایک مضبوط اور جامع منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ کسی بھی سطح پر کوتاہی، تاخیر یا بہانوں کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ بعض ہسپتالوں میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے جبکہ چند اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ جن علاقوں میں امن و امان کی صورتحال کے باعث صحت کی سہولیات متاثر ہو رہی ہیں وہاں متعلقہ یونٹس کو آؤٹ سورس کیا جا رہا ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور آؤٹ سورس کیے گئے یونٹس میں سروس ڈیلیوری میں واضح بہتری آئی ہے۔وزیرِ صحت نے کہا کہ ہسپتال ری ویمپ اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عملی کام تیزی سے جاری ہے، جس کے تحت انفراسٹرکچر کی بہتری، سہولیات کی توسیع اور انتظامی نظام کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ نئی ہیلتھ پالیسی کے تحت مریضوں کو معیاری، بروقت اور بہتر علاج کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ڈیٹا سے متعلق ہدایات دہراتے ہوئے صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ اعداد و شمار سے زیادہ زمینی حقائق اہم ہیں کیونکہ ایم ایس براہِ راست ہسپتالوں میں موجود ہوتے ہیں اور اصل صورتحال، مسائل اور ضروریات سے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے ایم ایس کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ٹیموں کو متحرک کریں، نظم و ضبط کو یقینی بنائیں اور ہسپتالوں میں واضح، قابلِ پیمائش اور عملی بہتری لائیں۔صوبائی وزیرِ صحت نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت میں سیاسی مداخلت نہایت محدود ہو چکی ہے اور حکومت تمام افسران کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا”محکمہ صحت اپنے اصلاحاتی ایجنڈے پر پوری سنجیدگی سے عمل پیرا ہے اور عوام کو بہتر صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔”اجلاس کے اختتام پر صوبائی وزیرِ صحت نے تمام ایم ایس کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں ہسپتالوں کی کارکردگی، سروس ڈیلیوری اور زمینی صورتحال میں واضح اور نمایاں بہتری نظر آنی چاہیے۔

مزید پڑھیں