خیبر پختونخوا کے وزیر صحت خلیق الرحمٰن نے صحت سہولت پروگرام سے متعلق مالی امور اور انتظامی چیلنجز کا جائزہ لینے کے حوالے سے منعقدہ ایک اہم اجلاس کی صدارت کی

خیبر پختونخوا کے وزیر صحت خلیق الرحمٰن نے صحت سہولت پروگرام سے متعلق مالی امور اور انتظامی چیلنجز کا جائزہ لینے کے حوالے سے منعقدہ ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں ضلع مردان کے مختلف سرکاری ہسپتالوں کو درپیش مسائل پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں صحت سہولت پروگرام کے سربراہ ریاض تنولی، ضلع مردان کے ضلعی نگرانِ صحت اور صحت سہولیات کے نفاذ و انتظام سے متعلق دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے دوران فنڈز کی موجودہ صورتحال، زیرِ التواء ادائیگیوں، طبی خدمات کی فراہمی میں درپیش مشکلات اور صحت کارڈ کے تحت کام کرنے والے ہسپتالوں کو پیش آنے والی انتظامی رکاوٹوں پر جامع بریفنگ دی گئی۔ سربراہ صحت سہولت پروگرام نے بلا تعطل طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے درکار مالی وسائل اور انتظامی ضروریات سے آگاہ کیا۔صوبائی وزیر صحت نے متعلقہ حکام کو بروقت فنڈز کے اجراء کی یقین دہانی کراتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صحت سہولت پروگرام کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ مستحق مریضوں کو معیاری اور مفت طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوامی فلاح حکومت کی اولین ترجیح ہے اور مالی و انتظامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔اجلاس میں مردان کے ہسپتالوں کی کارکردگی، بنیادی ڈھانچے کی ضروریات اور طبی خدمات کی فراہمی میں موجود خامیوں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر صحت نے ہدایت کی کہ تمام درپیش مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں، باہمی رابطہ کاری کو بہتر بنایا جائے اور ضلع کے عوام کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔اجلاس کے اختتام پر خلیق الرحمٰن نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ صحت صورتحال کی مسلسل نگرانی جاری رکھے گا اور صحت کے نظام میں شفافیت، کارکردگی اور احتساب کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گا تاکہ مردان کے عوام کو بلا تعطل اور معیاری طبی خدمات فراہم کی جا سکیں۔

مزید پڑھیں