خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمن نے خیبر گرلز میڈیکل کالج پشاور میں منعقدہ وائٹ کوٹ اور حلف برداری کی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں ایم بی بی ایس کے 150 نئے طلبہ و طالبات نے وائٹ کوٹ پہننے کے ساتھ ساتھ اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کا حلف بھی اٹھایا۔ وزیرِ صحت کی آمد پر ڈین، پرنسپل، اساتذہ، والدین اور طالبات کی بڑی تعداد نے اُن کا پرتپاک استقبال کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ وائٹ کوٹ اور حلف برداری کی تقریب طلبہ کے طبی سفر کا ایک نہایت اہم اور تاریخی مرحلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اٹھایا جانے والا حلف محض رسمی الفاظ نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت، دیانت داری، پیشہ ورانہ مہارت اور اخلاقی اقدار سے وابستگی کا تاحیات عہد ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ طب ایک باعزت اور مقدس پیشہ ہے جسے ذاتی مفادات اور لالچ سے بالاتر ہو کر اپنانا چاہیے۔وزیرِ صحت نے کہا کہ محکمہ صحت کو نوجوان، باصلاحیت، متحرک اور دیانت دار ڈاکٹرز کی اشد ضرورت ہے تاکہ صوبے میں صحت کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ صحت کے شعبے میں غفلت، نااہلی اور بددیانتی کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ اس پیشے کا براہِ راست تعلق انسانی جانوں سے ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنے کیریئر کے ہر مرحلے پر اعلیٰ اخلاقی معیار کو ملحوظ رکھیں۔وزیرِ صحت نے والدین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی بیٹیوں کی تعلیم و تربیت کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بے شمار باصلاحیت نوجوان مالی مجبوریوں کے باعث طبی تعلیم حاصل نہیں کر پاتے، لہٰذا جن 150 طالبات کو یہ موقع ملا ہے وہ اسے ایک قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے عوام کی خدمت کو اپنا نصب العین بنائیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا کی توجہ معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی اور بہتر نتائج کے حصول پر مرکوز ہے۔ محکمہ صحت عوام کو طبی سہولتیں فراہم کرنے اور اس شعبہ کی مؤثر بہتری کے لیے جامع اور طویل المدتی اصلاحات اور پالیسیوں پر عمل پیرا ہے، جن کا مقصد طبی سہولیات، انسانی وسائل، انفراسٹرکچر اور جدید آلات کی بہتری کو یقینی بنانا ہے۔صوبائی وزیرِ صحت نے احتیاطی صحت (Preventive Healthcare) کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بیماریوں سے بچاؤ کے لیے طرزِ زندگی اور خوراک میں مثبت تبدیلی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں پر بڑھتا ہوا دباؤ تشویشناک ہے اور اس کا مؤثر حل بیماریوں کی بروقت روک تھام میں مضمر ہے۔ انہوں نے آنے والی نسلوں کے لیے صاف، محفوظ اور صحت مند مستقبل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان ڈاکٹرز کو چاہیے کہ وہ اپنی خدمات مقامی سطح پر سرانجام دیں تاکہ بنیادی صحت مراکز اور دیہی صحت مراکز کو مؤثر اور فعال بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط پرائمری ہیلتھ کیئر ہی بڑے ہسپتالوں پر دباؤ کم کرنے کا واحد پائیدار حل ہے۔ صوبائی وزیرِ صحت نے مزید کہا کہ محکمہ صحت صوبے بھر میں موجود خامیوں کے ازالے کے لیے مسلسل اور سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے مراکز میں ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف، ادویات اور جدید طبی آلات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مشترکہ کوششوں اور باہمی تعاون سے صوبے کے صحت کے نظام میں واضح اور مثبت تبدیلی لائی جائے گی۔
