خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمٰن کی زیر صدارت محکمہ صحت کے نیوٹریشن پروگرام سے متعلق ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبہ بھر میں غذائی خدمات کی مجموعی کارکردگی، نظامِ کی بہتری اور درپیش انتظامی و عملی مسائل پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔اجلاس کے دوران صوبائی وزیرِ صحت نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ صوبے کے تمام اضلاع میں قائم نیوٹریشن سٹیبلائزیشن سینٹرز (این۔ ایس۔ سی۔ ایس) اور آؤٹ پیشنٹ تھیراپیٹک سینٹرز کی مؤثر، مسلسل اور فعال کارکردگی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے غذائی خدمات کی فراہمی میں موجود خامیوں، خصوصاً کوریج، معیارِ علاج، نگرانی اور سطحِ سہولت رابطہ کاری میں پائے جانے والے نقائص پر سخت نوٹس لیا۔صوبائی وزیرِ صحت نے اس امر پر زور دیا کہ غذائی قلت بالخصوص خواتین اور بچوں میں ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے فوری اصلاحی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ نگرانی کے نظام کو مؤثر بنایا جائے، ضروری غذائی اشیاء اور ادویات کی دستیابی یقینی بنائی جائے، ریفرل سسٹم کو بہتر بنایا جائے اور فیلڈ ٹیموں اور صحت کی سہولیات کے مابین ہم آہنگی کو مزید مضبوط کیا جائے۔ خلیق الرحمٰن نے واضح کیا کہ احتساب اور کارکردگی کی بنیاد پر نظامِ انتظام کو سختی سے نافذ کیا جائے گا اور غذائی خدمات کی بہتری میں کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت نیوٹریشن پروگرام کو صحت اور انسانی ترقی کے مجموعی ایجنڈے کا ایک اہم ستون سمجھتی ہے۔صوبائی وزیرِ صحت نے ترقیاتی شراکت دار اداروں بشمول بی آئی ایس پی،بی این پی،ڈبلیو ایف پی،ڈبلیو ایچ او اور یونیسف کی جانب سے صوبے میں غذائی خدمات کے فروغ کے لیے فراہم کی جانے والی تکنیکی اور مالی معاونت کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مؤثر اشتراکِ عمل کے ذریعے غذائی پروگرامز کو وسعت دینا، رسائی بہتر بنانا اور ان کی پائیداری یقینی بنانا ممکن ہے۔اجلاس کے اختتام پر صوبائی وزیرِ صحت نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ وقت کے تعین کے ساتھ جامع ایکشن پلان مرتب کر کے پیش کیا جائے، تاکہ نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن اور آؤٹ پیشنٹ تھیراپیٹک سینٹرز کی کارکردگی میں واضح بہتری لائی جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت کمزور طبقات خصوصاً ماؤں اور بچوں سمیت سب کو معیاری غذائی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام ممکن اقدامات کرے گی۔
