وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان سے انصاف ڈاکٹرز فورم خیبر پختونخوا کی ایگزیکٹو کونسل کے ایک وفد نے صدر انصاف ڈاکٹرز فورم خیبر پختونخوا ڈاکٹر نبی جان آفریدی کی قیادت میں ملاقات کی اور صوبے میں شعبہ صحت کو درپیش اہم چیلنجز، ہیلتھ کیئر ورک فورس کے مسائل اور طبی انفراسٹرکچر سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پرمیں انصاف ڈاکٹرز فورم کے مرکزی صدر اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مدیر خان وزیر، مرکزی و صوبائی قیادت کے اراکین، پیرا میڈیکس، فزیوتھراپسٹس اور اسٹوڈنٹس ونگ کے نمائندگان بھی موجود تھے۔وفد کی جانب سے ہاؤس آفیسرز اور ٹرینی میڈیکل آفیسرز کے وظائف میں اضافے سے متعلق محکمہ خزانہ میں گزشتہ پانچ ماہ سے زیر التواء سمری کی فوری منظوری کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ بڑھتی ہوئی تعداد میں میڈیکل گریجویٹس کو ایڈجسٹ کرنے اور ہسپتالوں میں سروس ڈیلیوری کو مزید مؤثر بنانے کے لیے 500 ہاؤس آفیسرز اور 500 ٹرینی میڈیکل آفیسرز کی نئی اسامیوں کی تخلیق کی تجویز پیش کی گئی۔اجلاس میں آئندہ صوبائی بجٹ میں ہیلتھ کیئر پرووائیڈرز کی تنخواہوں میں کم از کم 50 فیصد اضافے کی تجویز بھی زیرِ غور آئی، تاکہ افرادی قوت کو برقرار رکھا جا سکے، ان کی حوصلہ افزائی ہو اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔وفد نے شہید ڈاکٹر وردہ مشتاق کے لیے شہداء پیکیج کی جلد حتمی منظوری اور باضابطہ نوٹیفکیشن کے اجراء کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ صحت کے اداروں میں انتظامی خلا کو پُر کرنے کے لیے KPPSC کے ذریعے مینجمنٹ کیڈر کی نشستوں پر ایک مرتبہ کی خصوصی رعایت کی تجویز بھی پیش کی گئی۔اجلاس میں دور دراز علاقوں اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں ہیلتھ کیئرسٹاف کے لیے رہائشی عمارات کی تعمیر، موجودہ رہائشی سہولیات میں توسیع، اور ریسٹ ہاؤسز کی تعمیر و بحالی پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ہیومن ریسورس کی مضبوطی سے متعلق امور پر گفتگو کرتے ہوئے 1000 میڈیکل آفیسرز اور 1000 ڈینٹل سرجن کی اسامیوں کی تخلیق، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں FCPS/MCPS ٹریننگ پروگرامز کی ایکریڈیٹیشن، اور ریپڈ ریسپانس ٹیم (RRT) کی زیر التواء ادائیگیوں کی فوری کلیئرنس کے مطالبات بھی سامنے آئے۔اس کے علاوہ ایڈز کنٹرول پروگرام، ٹی بی کنٹرول پروگرام، SRSPDP، کنٹریکٹ میڈیکل آفیسرز، EPI ویکسینیٹرز اور IMU سٹاف کے ملازمین کی ریگولرائزیشن پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمان نے کہا کہ ہیلتھ کیئر ورکرز صوبے کے صحت کے نظام کی بنیاد ہیں، اور حکومت ان کے جائز مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور پُرعزم ہے۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ غور قرار دیتے ہوئے یقین دلایا کہ تمام قابلِ عمل امور پر متعلقہ فورمز پر بروقت اقدامات کیے جائیں گے۔ صوبائی وزیرِ صحت نے انصاف ڈاکٹرز فورم کے مثبت، تعمیری اور اصلاحاتی کردار کو سراہا اور صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے باہمی تعاون اور مسلسل مشاورت کے عزم کا اعادہ کیا۔
