خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمان کی زیرِ صدارت ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ پشاور میں پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (پی ڈی اے) کا ایک اجلاس منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمان کی زیرِ صدارت ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ پشاور میں پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (پی ڈی اے) کا ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری صحت اور محکمہ صحت کے حکام نے بھی شرکت کی۔صوبائی وزیرِ صحت نے اجلاس میں شریک ایسوسی ایشن کے نمائندگان کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ اجلاس کا مقصد ڈاکٹروں کو درپیش مسائل پر تفصیلی گفتگو کرنا اور صوبے بھر میں صحت کی سہولیات کو مؤثر اور بہتر بنانے کے لیے باہمی اعتماد پر مبنی ایک مضبوط ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرنا ہے۔اجلاس کے دوران صوبائی وزیرِ صحت اور سیکرٹری صحت نے پی ڈی اے کو یقین دہانی کرائی کہ محکمہ صحت ڈاکٹروں کی تمام زیرِ التواء ترقیوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیاجائے گا، جبکہ ڈاکٹروں کے دیرینہ اور جائز مطالبات کو جلد از جلد حل کیا جائے گا۔صوبائی وزیرِ صحت نے اس موقع پر یہ بھی اعلان کیا کہ ڈاکٹروں کو درپیش ٹیکس سے متعلق مسائل کے حل کے لیے پی ڈی اے کے نمائندگان کی سیکرٹری ایکسائز کے ساتھ ایک علیحدہ ملاقات بھی مقرر کی جائے گی۔
پی ڈی اے کے نمائندگان نے ڈاکٹر وردہ کے قتل کے مقدمے میں صوبائی وزیرِ صحت کے فعال اور سنجیدہ کردار پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔ صوبائی وزیرِ صحت نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ڈاکٹروں کے جائز حقوق اور مطالبات کے لیے ہر فورم پر ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے، تاہم انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ محکمہ صحت ڈاکٹروں سے دیانتداری، پیشہ ورانہ ذمہ داری اور مکمل لگن کے ساتھ خدمات کی توقع رکھتا ہے۔صوبائی وزیرِ صحت نے واضح کیا کہ حکومت کی پالیسی میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز (ایم ٹی آئیز) کے بجائے بنیادی صحت کی سہولیات کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے، کیونکہ ایم ٹی آئیز خودمختار بورڈز اور وسائل کے تحت کام کر رہی ہیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ تمام ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز (ڈی ایچ اوز) اور ہسپتال ڈائریکٹرز کو واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ غفلت، نااہلی یا کسی بھی قسم کی بدعنوانی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ مزید بتایا گیا کہ نئی ہیلتھ پالیسی حتمی مراحل میں ہے، جو ڈاکٹروں کو درپیش بیشتر مسائل کے حل میں معاون ثابت ہوگی۔ محکمہ صحت ڈاکٹروں کے مالی اور سماجی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے، جبکہ اصلاحاتی ایجنڈا ڈاکٹروں، مریضوں اور انتظامیہ کے درمیان موجود خلا کو کم کرنے پر مرکوز ہے۔صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز اور پیشہ ورانہ تنظیموں کے ساتھ مسلسل مشاورت اور تعاون کے ذریعے اصلاحات کو آگے بڑھا رہی ہے۔ یہ تعاون سیاسی وابستگیوں اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہوگا، جبکہ میرٹ کو صحت کے نظام میں انقلاب لانے کی بنیاد بنایا جائے گا۔اجلاس کے اختتام پر صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ صحت کا شعبہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور حکومت کا عزم ہے کہ خیبر پختونخوا کو ایک صحت مند، صاف ستھرا اور خوشحال صوبہ بنایا جائے۔

مزید پڑھیں