خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمان کی زیرِ صدارت جمعرات کے روز پشاور میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع کرک کے ایم این اے شاہد خٹک اور ایم پی اے خورشید خٹک سمیت سیکٹری صحت شاہداللہ، متعلقہ ڈی ایچ اوز، ہسپتال انتظامیہ اور محکمہ صحت کے سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ڈی ایچ کیو ہسپتال کرک سمیت ضلع بھر کے دیگر مراکز صحت کو درپیش انتظامی، انسانی وسائل اور سروس ڈیلیوری کے مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ منہدم سول ڈسپنسریاں (سی ڈی) شاہندند اور سی ڈی لاواگر کی تعمیرِ نو نئی اے ڈی پی کے تحت کی جائے گی۔صوبائی وزیرِ صحت نے جنرل ڈیوٹی کے معاملات کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ افسران و ملازمین جو ڈی ایچ او کرک سے تنخواہیں لے رہے ہیں مگر ضلع سے باہر خدمات انجام دے رہے ہیں، انہیں فوری طور پر واپس تعینات کیا جائے اور ان کے خلاف سخت انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ وزیرِ صحت نے اعلان کیا کہ 41 نئے ڈاکٹرز کی منتقلی اور بھرتی کی جائے گی تاکہ ڈی ایچ کیو اور دیگر صحت مراکز میں موجود خلا کو پُر کیا جا سکے اور طبی سہولیات میں بہتری لائی جا سکے۔اجلاس میں ٹائپ ڈی ہسپتال لٹمبر کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو ناقص کارکردگی کی بنیاد پر تبدیل کرنے کی ہدایت دی گئی، جبکہ ڈی ایچ او کرک کو ڈاکٹروں کی ریشنلائزیشن پلان پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تاکہ افرادی قوت کی منصفانہ تقسیم اور مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔دواؤں کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے وزیرِ صحت نے ڈی ایچ کیو ہسپتال کرک میں ہسپتال کی اپنی فارمیسی قائم کرنے کی منظوری دی، جہاں ایم سی سی ادویات کی فہرست اور ایم سی سی ریٹس برقرار رکھے جائیں گے اور ایم سی سی کی آمدن ہسپتال کو حاصل ہوگی۔ اجلاس میں ڈی ایچ کیو کرک میں سی ٹی اسکین سروس کو پی پی پی موڈ کے تحت آؤٹ سورسنگ کے ذریعے شروع کرنے کی بھی منظوری دی گئی، جبکہ ہسپتالوں خصوصاً ایمرجنسی سروسز کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کرنے کی ہدایت کی گئی۔انسانی وسائل کی کمی کو پورا کرنے کے لیے وزیرِ صحت نے ہدایت کی کہ ڈی ایچ کیو کرک میں افرادی قوت کی کمی بالخصوص نرسنگ سٹاف کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہسپتال مینجمنٹ کمیٹی ہسپتال کی نگرانی میں سخت اور مؤثر کردار ادا کرے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ صحت کارڈ کی سہولیات فعال ہیں اور انہیں مزید مؤثر بنایا جائے گا۔اجلاس میں نشاندہی کی گئی کہ مریضوں کا زیادہ دباؤ ٹائپ سی صحت مراکز پر ہے، لہٰذا اسٹاف تعیناتی، او پی ڈی توازن اور سہولیات کی فراہمی اسی تناسب سے یقینی بنائی جائے۔ وزیرِ صحت نے ایچ ایم سی ریونیو میں بہتری، صفائی کی صورتحال کی درستگی، مناسب سیوریج سسٹم کے قیام، ویسٹ مینجمنٹ پالیسی کے نفاذ اور بچوں کے لیے نرسری/چائلڈ فرینڈلی سہولت قائم کرنے کی بھی ہدایت کی۔اگرچہ ڈی ایچ کیو کرک کو خطے کی بہترین عمارتوں میں سے ایک قرار دیا گیا، تاہم وزیرِ صحت نے واضح کیا کہ انتظامی اور مینجمنٹ کے مسائل کو ایک مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچے کے تحت حل کرنا ہوگا۔ انہوں نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ ہسپتال کا جامع معائنہ کر کے تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ قلیل المدتی اصلاحاتی منصوبہ جلد تیار کیا جائے گا جبکہ پیتھالوجی کے تمام بنیادی ٹیسٹوں کی سہولت جلد دستیاب ہوگی۔ ریجنل ڈائریکٹر جنرلز (آر ڈی جیز) کو علاقائی سطح پر نگرانی مزید مؤثر بنانے کی ہدایت دی گئی۔ وزیرِ صحت نے فکسڈ پے پر ڈاکٹروں کی بھرتی کے لیے ڈویژنل کمیٹیاں قائم کرنے کی منظوری دی تاکہ بھرتی کے عمل کو تیز کیا جا سکے، اور اس امر کا اعادہ کیا کہ ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ بالخصوص امن و امان کے مسائل سے دوچار علاقوں میں ایک کامیاب ماڈل ثابت ہوئی ہے۔صوبائی وزیرِ صحت نے ضلع کرک میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے انتظامی اصلاحات، انسانی وسائل کی بہتری، تشخیصی سہولیات کے فروغ اور شفاف ادویات کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کیا۔
