وزارتِ انسانی حقوق پاکستان، محکمہ قانون و انسانی حقوق حکومتِ خیبر پختونخوا اور فاؤنڈیشن فار ایجنگ اینڈ اِنکلیوسِو ڈیولپمنٹ کے اشتراک سے صوبائی مشاورتی اجلاس کا پہلا مرحلہ آج کامیابی سے اختتام پذیر ہو گیا

وزارتِ انسانی حقوق پاکستان، محکمہ قانون و انسانی حقوق حکومتِ خیبر پختونخوا اور فاؤنڈیشن فار ایجنگ اینڈ اِنکلیوسِو ڈیولپمنٹ کے اشتراک سے صوبائی مشاورتی اجلاس کا پہلا مرحلہ آج کامیابی سے اختتام پذیر ہو گیا۔ اجلاس میں اس بات کا اعلان کیا گیا کہ اس مشاورتی عمل کا اگلا سیشن آئندہ ماہ صوبائی سطح پر مختلف اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ منعقد کیا جائے گا، تاکہ مشاورت کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی جا سکے۔اس صوبائی مشاورتی اجلاس کا بنیادی مقصد پاکستان بالخصوص خیبر پختونخوا میں بزرگ شہریوں کے لیے اچھی، محفوظ اور باوقار زندگی کو یقینی بنانے کے لیے قومی پالیسی کی تیاری کے حوالے سے مشاورت کرنا، قابلِ عمل تجاویز زیرِ بحث لانا اور پالیسی کو مؤثر بنانا تھا۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ عمر رسیدہ افراد معاشرے کا تجربہ کار اور قیمتی اثاثہ ہیں، جن کی ضروریات اور حقوق کو پالیسی سازی کے مرکز میں رکھا جانا ناگزیر ہے۔اجلاس کے دوران قومی اور عالمی تناظر میں عمر رسیدگی، میڈرڈ انٹرنیشنل پلان آف ایکشن آن ایجنگ (MIPAA)، آبادیاتی تبدیلیوں اور بزرگ شہریوں کو درپیش سماجی، معاشی اور صحت سے متعلق چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے قومی پالیسی برائے عمر رسیدگی کے مسودے پر اپنی آراء پیش کیں اور صوبائی تناظر میں اسے مزید جامع اور قابلِ عمل بنانے کے لیے سفارشات مرتب کیں۔مشاورتی اجلاس میں مختلف سرکاری محکموں کے افسران، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور متعلقہ ماہرین نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بزرگ شہریوں کے لیے سماجی تحفظ، صحت کی سہولیات، قانونی معاونت اور معاشرتی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے مربوط پالیسی اور مؤثر عملدرآمد کا نظام ضروری ہے۔آخر میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ یہ مشاورتی عمل آئندہ مراحل میں مزید مضبوط کیا جائے گا اور تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت سے ایسی جامع قومی پالیسی مرتب کی جائے گی جو بزرگ شہریوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں عملی کردار ادا کرے۔

مزید پڑھیں