وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ وفاقی اور پنجاب حکومت نے بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے فیملی، وکلا اور سیاسی قیادت کی ملاقاتوں پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کر رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود کسی کو بھی عمران خان سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ یہاں سے جاری ایک بیان میں شفیع جان نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے پاس اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات موجود ہیں جن کے تحت ان کی بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات طے ہے تاہم بدقسمتی سے اڈیالہ جیل کا سپرنٹنڈنٹ اتنا بااختیار بن چکا ہے کہ نہ وہ آئین کو مانتا ہے نہ قانون کو اور نہ ہی عدالتی احکامات کو۔ انہوں نے کہا کہ جب اس معاملے پر سپرنٹنڈنٹ کے خلاف عدالت میں توہین عدالت کی پٹیشن دائر کی گئی تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ پٹیشن بھی سماعت کے لیے مقرر نہیں کی جا رہی۔انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل پنجاب حکومت کے زیر انتظام ہے اور اس کا سپرنٹنڈنٹ پنجاب حکومت کا ماتحت ملازم ہے، یہی وجہ ہے کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز سیاسی انتقام میں اندھی ہو چکی ہیں اور عمران خان سے ملاقاتوں میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔معاون خصوصی نے وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا کے ساتھ روا رکھے گئے نامناسب رویے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاق نے عوام کے ووٹ سے منتخب خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ پی ایس ڈی پی اور این ایف سی شیئرز میں بھی غیر مناسب اور امتیازی سلوک روا رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ایس ڈی پی میں خیبرپختونخوا کے لیے صرف 55 کروڑ روپے مختص کیے گئے جبکہ این ایف سی کی مد میں 4758 ارب روپے بھی صوبے کو فراہم نہیں کیے جا رہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دوسری جانب ایک رپورٹ کے مطابق وفاق نے پنجاب حکومت کو ایک موٹروے کی تعمیر کے لیے 465 ارب روپے کے فنڈز فراہم کیے ہیں۔ پنجاب کے لیے خزانے کا منہ کھولنا اور خیبرپختونخوا کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھنا انتہائی افسوسناک ہے۔شفیع جان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی ترجیحات میں ملک کی ترقی نہیں بلکہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں پر ذاتی خواہشات کی تکمیل شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے 11 ارب روپے مالیت کا جہاز خرید کر اپنا شوق پورا کیا جبکہ وفاق میں کرپشن کا یہ عالم ہے کہ آئی ایم ایف نے بھی اپنی رپورٹ میں وفاق پر مسلط کرپٹ ٹولے کی 5300 ارب روپے کی کرپشن کی نشاندہی کی ہے جو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے لیے باعثِ شرمندگی ہے۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر تنقید کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ وفاقی حکومت نے عوام پر پٹرول بم گرایا ہے اور عوام کی جیب پر 55 روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر وفاقی وزراء کے مطابق ملک میں 28 دن کا پٹرول اسٹاک موجود ہے تو پھر عوام پر 55 روپے کا اضافی بوجھ کیوں ڈالا گیا؟انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کا یہ اقدام غریب عوام پر ظلم کے مترادف ہے جسے پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت یکسر مسترد کرتی ہے۔
