دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا فرنٹ لائن کا کردار ادا کر رہا ہے، معاون خصوصی برائے اطلاعات

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے صوبائی وزیر خزانہ مزمل اسلم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی حالات اور توانائی کے موجودہ بحران کے پیش نظر خیبر پختونخوا حکومت کفایت شعاری کے لیے مثالی اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبے کے غریب خاندانوں کو ریلیف دینے کے لیے 13 ارب روپے کا رمضان پیکج دیا، جس پر انتہائی شفاف انداز میں عملدرآمد کیا گیا اور پیکج کی سو فیصد رقم مستحقین تک پہنچا دی گئی ہے۔ اس پیکج سے 10 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوئے۔
شفیع جان نے کہا کہ بدقسمتی سے اپوزیشن حسبِ معمول عوامی ریلیف اقدامات پر سیاست کر رہی ہے۔ اگر کسی کے پاس رمضان پیکج میں بے ضابطگی کے ٹھوس شواہد موجود ہیں تو وہ سامنے لائے جائیں۔ حکومت ہر قسم کا جواب دینے کے لیے تیار ہے کیونکہ شفاف طرزِ حکمرانی ہماری اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے ”احساس دسترخوان” سمیت دیگر ریلیف اقدامات بھی کیے، جن سے غرباء، مساکین اور مسافر بھرپور مستفید ہوئے۔ پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں ذاتی تشہیر کے لیے شروع کیا گیا رمضان دسترخوان پروگرام آخری عشرے میں بند کر دیا گیا۔
توانائی بحران پر گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا کہ اس بحران نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے، تاہم وفاقی حکومت نے تیل کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافہ کر کے اس کا بوجھ عوام پر ڈال دیا، جس سے عوام مزید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاق اور دیگر صوبوں کے برعکس وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے 16 لاکھ رجسٹرڈ موٹر سائیکل مالکان کے لیے 2200 روپے امداد کا اعلان کیا۔ اسی طرح تھریشنگ سیزن میں کسانوں کو ریلیف دینے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور اس سلسلے میں کسانوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے۔
شفیع جان نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود بی آر ٹی کے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا گیا تاکہ عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے، جبکہ بی آر ٹی فلیٹ میں مزید بسیں شامل کی جا رہی ہیں، جن میں خواتین کے لیے پنک بسیں بھی شامل ہیں۔ اس کے برعکس پنجاب حکومت نے میٹرو کے کرایوں میں اضافہ کر کے عوام پر بوجھ بڑھایا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں قومی کفایت شعاری مہم کو نظرانداز کیا گیا اور حکمرانوں نے 11 ارب روپے کا جہاز خریدا، جبکہ وفاقی اور پنجاب حکومتوں کے حکمران عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے سیر و سیاحت میں مصروف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جہاز کے ویانا جانے کا معاملہ سب کے سامنے ہے، اگر یہ بے بنیاد ہے تو متعلقہ صحافی کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟
معاون خصوصی نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت گڈ گورننس میں دیگر صوبوں سے آگے ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں صوبہ فرنٹ لائن کا کردار ادا کر رہا ہے اور دیگر صوبوں کے لیے ایک شیلڈ کی حیثیت رکھتا ہے، جس کی بدولت دیگر صوبے محفوظ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے سی ٹی ڈی اور سپیشل برانچ کو مستحکم بنانے کے لیے 31 ارب روپے کا پیکج دیا ہے۔ ان اقدامات سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

مزید پڑھیں