جمہوریت کے استحکام میں آزاد صحافت کا کردار کلیدی ہے، شفیع جان

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور صحافی برادری کو درپیش مسائل و مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے،انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے استحکام میں آزاد اور ذمہ دار صحافت کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشہرہ پریس کلب کی نو منتخب کابینہ کی حلف برداری تقریب کے موقع پر بات چیت کے دوران کیا، اس موقع پر معاون خصوصی شفیع جان نے نو منتخب صدر تفہیم الرحمان اور کابینہ کے تمام اراکین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا،اس دوران صدر پریس کلب نے معاون خصوصی کو پریس کلب کو درپیش مسائل و مشکلات سے آگاہ کیا اور پریس کلب نوشہرہ کے دورے کی دعوت دی جس پر معاون خصوصی نے تمام مسائل کے جلد حل کی یقین دہانی کراتے ہوئے آئندہ ہفتے نوشہرہ پریس کلب کے دورے کا اعلان کیا،اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی میاں عمر کاکا خیل بھی موجود تھے، معاون خصوصی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پریس کلبوں میں شفاف انتخابات کے ذریعے کابینہ کا انتخاب ایک خوش آئند اور مثبت روایت ہے جو جمہوری اقدار کے فروغ کا مظہر ہے،انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت آزادی اظہار رائے پر مکمل یقین رکھتی ہے اور صحافیوں کو پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے لیے بہتر، محفوظ اور سازگار ماحول کی فراہمی کو یقینی بنا رہی ہے،انہوں نے مزید کہا کہ نوشہرہ سمیت صوبے بھر کے تمام پریس کلبوں کو درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا جبکہ نوشہرہ پریس کلب کو سالانہ گرانٹ کی جلد فراہمی بھی یقینی بنائی جائے گی،انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ہر مشکل وقت میں صحافی برادری کے ساتھ کھڑی ہے اور صحافیوں کی مثبت اور تعمیری تنقید کا ہمیشہ خیر مقدم کیا جائے گا،دریں اثنا معاون خصوصی شفیع جان نے سال نو کے آغاز پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ نیا سال نئی امیدوں، نئے عزم اور بہتر مستقبل کی نوید لے کر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2025 پاکستان کی تاریخ میں غیر آئینی ترامیم اور جمہوریت پر حملوں کا سیاہ سال ثابت ہوا،انہوں نے دعا کی کہ نیا سال پاکستان کے عوام کے لیے ترقی اور خوشحالی کا سال ثابت ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ سال 2026 عوامی مینڈیٹ کی واپسی اور جعلی حکومتوں کے خاتمے کا سال ہوگا۔ شفیع جان نے مزید کہا کہ جعلی حکومت کے خاتمے اور عمران خان کی رہائی کے بغیر حقیقی معاشی ترقی ممکن نہیں،عوامی مینڈیٹ چرانا آئین و قانون کی صریح خلاف ورزی اور ایک جرم ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا عطا تارڑ بشری بی بی کی جعلی مقدمات اور قید، علیمہ خان اور دیگر سیاسی خواتین پر ظلم و جبر کی مذمت کرینگے۔جعلی فارم 47 حکومت نے ڈاکٹر یاسمین راشد، صنم جاوید اور دیگر خواتین رہنماوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا، شفیع جان نے مزید بتایا کہ خیبر پختونخوا میں شفاف طرز حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کے سفر کو مزید تیز کیا جائے گا اور صوبے کے عوام کی ترقی کے لیے مزید اقدامات اٹھائے جائیں گے،اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات میں تیزی لائی جائے گی جبکہ نیا سال عوامی حقوق کی بحالی اور جمہوریت کے استحکام کا سال ثابت ہوگا۔

مزید پڑھیں