وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کو اس وقت دہشتگردی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے غیر معمولی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ضلع خیبر کے علاقے تیراہ میدان میں شدید برفباری کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ نوجوان وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی ہدایات پر صوبائی وزیر بلدیات و اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے رکنِ صوبائی اسمبلی عبدالغنی کے ہمراہ برفباری سے متاثرہ تیراہ میدان کا دورہ کیا اور متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی خود پشاور سے امدادی کارروائیوں کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔معاونِ خصوصی نے کہا کہ ریسکیو آپریشن میں مختلف اضلاع کی ریسکیو ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جبکہ متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات اور عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ شدید برفباری کے باعث بعض علاقوں میں نقل مکانی ناگزیر ہو گئی ہے، جس سے عوام کو مشکلات درپیش ہیں۔ صوبائی حکومت تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور اس مشکل گھڑی میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔اپوزیشن لیڈر کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ دہشتگردی اور ملٹری آپریشنز کے حوالے سے صوبائی حکومت کی پالیسی بالکل واضح ہے۔ صوبائی اسمبلی میں امن جرگہ کے پندرہ نکات پر صوبائی حکومت اور اپوزیشن جماعتوں نے متفقہ طور پر دستخط کیے ہیں۔ اس کے باوجود صوبے پر بند کمروں میں کیے گئے فیصلے مسلط کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث صوبائی حکومت کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ باجوڑ میں ملٹری آپریشن کے نتیجے میں ہونے والی نقل مکانی کے تمام اخراجات صوبائی حکومت نے برداشت کیے۔ شفیع جان نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت اپنی کارکردگی اور گڈ گورننس پر کسی بھی فورم اور کسی بھی صوبے سے موازنے کے لیے تیار ہے اور اس حوالے سے متعدد بار کھلا چیلنج دیا جا چکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فیصلہ سازی کے عمل میں خیبرپختونخوا حکومت کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے جبکہ محض الزام تراشی کے لیے مخصوص افراد کو آگے لایا جا رہا ہے۔شفیع جان نے مزید کہا کہ سترہ نشستوں پر قائم حکومت اپنے فیصلے صوبے پر مسلط کر رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وہ عناصر جو فارم 47 کے ذریعے ایوانوں میں آئے ہیں، اسمبلیوں سے مستعفی ہوں۔ کرپشن کے حوالے سے نوجوان وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیرو ٹالرنس پالیسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن سے متعلق حقائق آئی ایم ایف کی رپورٹس میں واضح ہو چکے ہیں، لہٰذا دوسروں پر الزام لگانے سے قبل وفاق پر قابض جماعت کو 5300 ارب روپے کی مبینہ کرپشن کا جواب دینا ہوگا۔
