معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان کا وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء تارڑ کو وادی تیراہ سے متعلق بیان پر خط

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء تارڑ کو وادی تیراہ سے متعلق حالیہ بیان پر ایک تفصیلی خط ارسال کیا ہے جس میں زمینی حقائق، آئینی ذمہ داریوں اور انسانی پہلوؤں کو واضح کیا گیا ہے،خط میں شفیع جان نے واضح کیا ہے کہ 26 دسمبر 2025 کو جاری کیا گیا نوٹیفکیشن محض انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور ریلیف و بحالی کے لیے پیشگی تیاریوں سے متعلق تھا جسے کسی مخصوص سکیورٹی حکمت عملی کی تائید یا غیر معینہ مدت تک جاری رہنے والی سکیورٹی کارروائیوں کی منظوری کے طور پر ہرگز نہیں دیکھا جانا چاہیے،انہوں نے کہا کہ ماضی کے تجربات یہ ثابت کرتے ہیں کہ اگر سکیورٹی اقدامات کو وسیع تر سیاسی، معاشی اور سماجی فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگ نہ کیا جائے تو اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں،جن میں عام شہریوں کا متاثر ہونا، معاشی سرگرمیوں میں خلل، سماجی بے دخلی اور جبری نقل مکانی شامل ہیں۔ ایسے اثرات عوامی اعتماد کو مجروح کرتے اور مقامی سطح پر شکایات کو جنم دیتے ہیں،شفیع جان نے خط میں مزید کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں وادی تیراہ کے بعض علاقوں سے آبادی کی نقل مکانی قلیل وقت میں جاری کی گئی انخلائی ہدایات کے نتیجے میں ہوئی، جو صوبائی حکومت اور منتخب سیاسی قیادت سے پیشگی مشاورت کے بغیر دی گئیں۔ یہ اقدامات خراب موسمی حالات اور محدود وقت کے اندر نافذ کیے گئے، جس کے باعث فوری انسانی بحران پیدا ہوا اور صوبائی حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر مداخلت کرنا پڑی،انہوں نے نشاندہی کی کہ آئینی طور پر وفاقی اختیار کے تحت ہونے والی کارروائیوں، بشمول ایکشن ان ایڈ آف سول پاور، کے نتیجے میں متاثرہ شہریوں کی بروقت امداد، بحالی اور معاوضے کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ تاہم مؤثر وفاقی انتظامات کی عدم موجودگی میں صوبائی حکومت نے انسانی ہمدردی کے تحت یہ بوجھ خود اٹھایا،معاون خصوصی برائے اطلاعات نے زور دیا کہ خیبر پختونخوا میں پائیدار امن کا راستہ سیاسی ملکیت، عوامی شمولیت، مکالمے اور سول بالادستی سے ہو کر گزرتا ہے۔ سکیورٹی اقدامات جہاں ناگزیر ہوں، انہیں اس جامع حکمت عملی کے معاون کے طور پر ہونا چاہیے، نہ کہ اس کا متبادل،انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و استحکام محض بیانیوں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے آئینی توازن، شفافیت اور پالیسی، ابلاغ اور زمینی حقائق میں ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ وفاقی سطح پر حساس معاملات، بالخصوص آبادی کی نقل مکانی اور سکیورٹی آپریشنز سے متعلق بیانات، صوبائی اسمبلی کے اجتماعی مؤقف اور زمینی حقائق کے درست عکاس ہونے چاہئیں۔

مزید پڑھیں