خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں امن میلہ کے قریب قائم جوائنٹ چیک پوسٹ پر دھماکے کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
اپنے دفتر سے جاری ایک بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ درازندہ دھماکہ انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت واقعہ ہے۔ دھماکے اور بعد ازاں زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے والی ایمبولینس پر دوسرے حملے کے نتیجے میں مجموعی طور پر 13 افراد شہید جبکہ 35 افراد زخمی ہوئے۔ ابتدائی واقعے میں شہید ہونے والوں میں ایک کسٹمز اہلکار جبکہ باقی شہری شامل ہیں۔ شہداء میں 9 مرد، 2 خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔
شفیع جان نے کہا کہ زخمیوں کو ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال منتقل کرنے کے دوران ریسکیو اہلکاروں کو بھی دوسرے حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک ریسکیو اہلکار شہید جبکہ دو ریسکیو اہلکار زخمی ہوگئے۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے ریسکیو اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر زخمیوں کو بچانے اور انہیں ہسپتال منتقل کرنے والے ریسکیو اہلکاروں کو نشانہ بنانا انتہائی سفاکانہ اور انسانیت کے منافی عمل ہے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے لے جانے والی ایمبولینس پر حملہ اور ریسکیو اہلکار کی شہادت انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
شفیع جان نے کہا کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی اور ہسپتالوں میں منتقلی کا عمل جاری ہے، جبکہ 25 زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان ریفر کیا گیا ہے۔ متعلقہ حکام زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہداء کے اہل خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبرپختونخوا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن صوبہ ہے، جہاں عوام، سیاسی قیادت، علمائے کرام، پولیس اور سکیورٹی فورسز نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو سیاسی بیانات کی نذر نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی صرف خیبرپختونخوا کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کی قومی سلامتی اور انسانی زندگیوں سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ ایسے حساس معاملے پر ہر سطح سے ایسے بیانات سے گریز کیا جانا چاہیے جو صوبوں کے درمیان نفرت، بداعتمادی یا تقسیم کو فروغ دیں۔
شفیع جان نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قوم کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرنے کی ضرورت ہے۔ خیبرپختونخوا کے عوام کئی دہائیوں سے دہشتگردی کا براہِ راست سامنا کر رہے ہیں اور اس جنگ میں ہزاروں قیمتی جانوں کی قربانیاں دی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی صوبے یا اس کی منتخب قیادت کو دہشتگردی کے تناظر میں سیاسی مفادات کے لیے نشانہ بنانا مسئلے کا حل نہیں۔ اس نوعیت کی بیان بازی سے پیدا ہونے والی نفرت اور باہمی بداعتمادی کا فائدہ دہشتگرد عناصر اٹھا سکتے ہیں۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے وفاق اور صوبوں، سیاسی قیادت، عوام، علما، پولیس اور سکیورٹی فورسز کے مابین تعاون اور مشترکہ حکمت عملی ضروری ہے۔ قومی سلامتی کے اس اہم مسئلے کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
شفیع جان نے کہا کہ دہشتگرد اپنے مذموم عزائم کے ذریعے خیبرپختونخوا کے عوام کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ دہشتگردی کے خاتمے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
