وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے پیر کے روز کوہاٹ پریس کلب کا دورہ کیا جہاں انہوں نے پریس کلب کے نو منتخب صدر اور کابینہ اراکین اور دیگر صحافیوں سے ملاقات کی اور انھیں کامیابی پر مبارکباد دی،اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی شفیع جان نے کہا کہ صحافت ایک مقدس پیشہ اور ریاست کا چوتھا ستون ہے جبکہ صوبائی حکومت آزاد صحافت پر پختہ یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد اور ذمہ دار صحافت ہی جمہوریت کے استحکام کی ضمانت ہے،معاون خصوصی نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت اپنی کارکردگی پر صحافیوں کی مثبت اور تعمیری تنقید کا خیرمقدم کرتی ہے اور صحافی برادری اگر عوامی فلاحی منصوبوں میں کسی بھی قسم کی خامیوں کی نشاندہی کرے گی تو حکومت اس پر فوری ایکشن لے گی،شفیع جان نے کہا کہ عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں صحافی برادری کا کردار نہایت کلیدی ہے جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے صحافیوں کی فلاح و بہبود اور انہیں پیشہ ورانہ سہولیات کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صحافیوں کو درپیش مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور ان کے حل کے لیے مؤثر حکمت عملی کے تحت اقدامات کیے جائیں گے،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت اور میڈیا کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا،اس موقع پر صدر کوہاٹ پریس کلب نے معاون خصوصی کو پریس کلب کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا، جس پر معاون خصوصی شفیع جان نے تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی, دریں اثناء معاون خصوصی شفیع جان نے کہا کہ صوبائی حکومت وادی تیراہ کے متاثرین کے لئے مختص ریلیف فنڈز میں شفافیت کو یقینی بنارہی ہے، متاثرہ خاندانوں کی ٹرانسپورٹ اور دوران سفر خوراک پر اب تک 92 کروڑ روپے خرچ کئے گئے،تمام اخراجات کا مکمل آڈٹ ایبل ریکارڈ مرتب کر لیا گیا ہے جس میں ضلعی انتظامیہ اور مقامی مشران کی تصدیق اور وصول کنندہ کے دستخط بمعہ شناختی کارڈ شامل ہیں، شفیع جان نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے متاثرین کو امدادی معاوضہ پیکیج اور ماہانہ معاونت کی مد میں 2 ارب 40 کروڑ روپے مختص کئے ہیں،متاثرہ خاندانوں کو نادرا رجسٹریشن اور تصدیق کے بعد ڈیجیٹل ادائیگی کی جائے گی،امدادی رقوم براہ راست متاثرین کے اکاؤنٹس میں منتقل ہوں گی،انھوں نے کہا کہ عوامی وسائل اور فنڈز کے تحفظ کیلئے سخت مانیٹرنگ کا نظام نافذ ہے جس سے ریلیف فنڈ کی منصفانہ تقسیم اور فنڈ کا شفاف استعمال یقینی بنایا جارہا ہے۔
