وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی سٹریٹ موومنٹ کے سلسلے میں جمعہ کو سندھ کا دورہ کرینگے، شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمدسہیل آفریدی سٹریٹ موومنٹ میں مزید تیزی لانے کے لیے جمعہ کے روز پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کے ہمراہ سندھ کا دورہ کریں گے،اپنے ایک بیان میں شفیع جان نے کہا کہ دورہ سندھ کے دوران وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی پارٹی اسیران جیل، وکلا، صحافیوں، پارٹی قیادت و کارکنان اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقاتیں کریں گے،وزیراعلیٰ، سندھ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کریں گے جبکہ وزیراعلیٰ سندھ سے باضابطہ ملاقات بھی ان کے دورے کا حصہ ہوگی،معاون خصوصی نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان، پارٹی قیادت اور کارکنوں کو جعلی، بے بنیاد اور سیاسی انتقام پر مبنی مقدمات میں قید کرنا دراصل پاکستان تحریک انصاف کو دبانے کی ایک ناکام کوشش ہے، جس کا ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سٹریٹ موومنٹ پوری قوت کے ساتھ جاری ہے، جس کی قیادت خود وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کر رہے ہیں اور پارٹی کارکنان کو منظم، متحرک اور پرامن سیاسی جدوجہد کے لیے تیار کیا جا رہا ہے،شفیع جان نے کہا کہ پنجاب حکومت کے غیر جمہوری اور آمرانہ طرز عمل کے برعکس سندھ حکومت کے وزراء کے بیانات مثبت ہیں، پاکستان کے کسی بھی حصے میں کسی منتخب وزیراعلیٰ کا دورہ کرنا اس کا سیاسی اور جمہوری حق ہے، جسے کسی صورت سلب نہیں کیا جا سکتا،انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان اور دیگر اسیر قیادت کی رہائی کے لیے ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر آواز بلند کی جاتی رہے گی۔ پنجاب حکومت کے غیر جمہوری رویے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ آج بھی اڈیالہ جیل کے باہر قرآن خوانی کے لیے بیٹھی خواتین پر واٹر کینن کا استعمال کیا گیا جو انتہائی قابل مذمت اور شرمناک اقدام ہے۔ پنجاب حکومت سیاسی انتقام میں خواتین کے احترام کو بھی فراموش کر چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بہنوں کا واحد مطالبہ عدالتی احکامات کے مطابق اپنے بھائی سے ملاقات ہے، مگر اس کے باوجود طاقت کا بے جا استعمال کیا جا رہا ہے۔ شفیع جان نے کہا کہ ایسے ہتھکنڈوں سے پاکستان تحریک انصاف ڈرنے والی نہیں۔ جو حکومت زبردستی مسلط کی گئی ہو، وہ جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی اہمیت کو کیسے سمجھ سکتی ہے۔

مزید پڑھیں