وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے وزیر مملکت طلال چوہدری کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ طلال چوہدری کے الزامات سراسر حقائق کے منافی اور سیاسی بدنیتی پر مبنی ہیں، وفاقی اور پنجاب حکومت کے جعلی وزراء کی جانب سے نوجوان وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف مسلسل منظم پراپیگنڈا مہم چلائی جا رہی ہے جو انتہائی قابل مذمت ہے، کبھی انہیں افغانستان سے اور کبھی دہشت گردوں سے جوڑنے کی ناکام کوششیں کی جا رہی ہیں،معاون خصوصی شفیع جان نے کہا کہ عظمیٰ بخاری، اختیار ولی، طلال چوہدری اور عطا تارڑ کو صوبائی حکومت کے خلاف الزام تراشی کے لیے باقاعدہ طور پر بھرتی کیا گیا ہے جو روزانہ میڈیا پر آکر عوام کو گمراہ کرنے کی کوششیں کررہے ہیں اور مسلسل پاکستان تحریک انصاف کی منتحب حکومت کے عوامی مینڈیٹ کا مذاق اڑا رہے ہیں لیکن انکو یہ سمجھنا چاہیے کہ قوم باشعور ہے وہ انکے دھوکے میں نہیں آئے گی۔۔ شفیع جان نے کہا کہ فارم 47 کے ذریعے وفاق پر زبردستی مسلط کی گئی حکومت نے پارلیمان کو ہائی جیک کیا ہے،تاہم پاکستان تحریک انصاف کی منتخب صوبائی حکومت کے خلاف کسی قسم کی مزید ہرزہ سرائی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت منتخب صوبائی حکومت کے خلاف ہرزہ سرائی بند کرے، جعلی وزراء نے عوامی عدالت میں مقابلہ کرنے کی بجائے الزامات کی سیاست کو اپنا شعار بنا لیا ہے،امن و امان پر بات کرتے ہوئے معاون خصوصی شفیع جان نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے ہر ضلع میں دہشت گردی کے خلاف امن جرگے منعقد کیے گئے ہیں۔ نوجوان وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے قیام امن کے لیے صوبائی اسمبلی میں ایک عظیم الشان امن جرگے کا انعقاد کیا، جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول اپوزیشن نے شرکت کی۔ اس جرگے میں امن و امان کے حوالے سے پندرہ نکات پر اتفاق رائے ہوا جن کے دستخط شدہ فیصلے موجود ہیں،انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کی استعداد کار میں اضافے کے لئے 31 ارب روپے کی منظوری دیدی ہے انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے حوالے پہلے دن سے پاکستان تحریک انصاف کی پالیسی واضح ہے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عملی اور ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں، انھوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور اس ضمن میں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔
