زیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے صوبائی حکومت کے خلاف دی جانے والی حالیہ سیاسی بیان بازی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی عہدوں سے وابستہ افراد کو سیاسی کردار ادا کرنے کی بجائے آئین کی پاسداری کرنی چاہیے۔ آئینی مناصب کا تقاضا ہے کہ وہ وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی اور استحکام کے فروغ کا ذریعہ بنیں، نہ کہ سیاسی محاذ آرائی کا۔انہوں نے کہا کہ منتخب صوبائی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے خلاف مسلسل سیاسی بیان بازی دراصل سیاسی مایوسی کی عکاس ہے۔ صوبائی حکومت اور پارٹی پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد، من گھڑت اور حقائق کے برعکس ہیں۔شفیع جان نے کہا کہ خیبرپختونخوا واحد صوبہ ہے جہاں حقیقی عوامی مینڈیٹ سے حکومت قائم ہے، جبکہ دیگر صوبوں میں عوام کی رائے کے برعکس حکومتیں مسلط کی گئی ہیں۔ عوامی مینڈیٹ سے قائم ہونے والی حکومت کو بیان بازی اور سیاسی دباؤ کے ذریعے کمزور نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے عوامی فلاح و بہبود، شفاف طرزِ حکمرانی اور بہتر گورننس کے لیے دن رات کام کر رہی ہے۔ صوبے میں امن و امان کی بہتری، شفافیت اور فلاحی اقدامات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں، اور صوبائی حکومت کی کارکردگی کا عالمی سطح پر اعتراف بھی کیا جا چکا ہے۔معاون خصوصی نے واضح کیا کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے فیصلے کا اختیار بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے پاس ہے، اور بانی پی ٹی آئی کو کسی این آر او کی ضرورت نہیں۔ این آر او کس نے لیے، یہ بات پوری دنیا جانتی ہے۔
دریں اثناء وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور مریم اورنگزیب کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ وفاق اور پنجاب کے وزراء میں سیاسی عدم برداشت عروج پر ہے۔ جعلی وفاقی اور پنجاب حکومت نے بشریٰ بی بی اور دیگر خواتین کو جعلی مقدمات کے ذریعے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کی خواتین کے خلاف ظلم و جبر کی ایک طویل تاریخ ہے۔ کیا پنجاب میں خواتین پر تشدد اور انہیں سڑکوں پر گھسیٹنا ہماری معاشرتی اقدار کی کھلی پامالی نہیں؟ عمران خان کی بہنوں اور دیگر خواتین پر واٹر کینن کا استعمال کون سے مہذب معاشرے میں ہوتا ہے؟۔شفیع جان نے مزید کہا کہ بے بنیاد الزامات لگانا مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا وطیرہ ہے، اور پاکستان تحریک انصاف ڈٹ کر نام نہاد جعلی اور عوام پر زبردستی مسلط حکمرانوں کا مقابلہ کرتی رہے گی۔
