صوبائی وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی کے گھر پر ہینڈ گرنیڈ حملہ قابل مذمت ہے، شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے صوبائی وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی کے گھر پر ہینڈ گرنیڈ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس واقعہ کو ایک بزدلانہ فعل قرار دیا ہے،اپنے بیان میں معاون خصوصی نے کہا کہ ایسی کارروائیوں کے ذریعے نہ تو صوبائی حکومت کو خوفزدہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی منتخب عوامی نمائندوں اور عوام کے حوصلے پست کیے جا سکتے ہیں شفیع جان نے کہا کہ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔تاہم صوبائی وزیر کے گھر کو نقصان پہنچا ہے،انہوں نے بتایا کہ پولیس اور دیگر متعلقہ محکموں کو واقعے کی فوری اور جامع تحقیقات کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور صوبائی حکومت اس حملے میں ملوث عناصر کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت امن دشمن عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے،معاون خصوصی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام، پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیاں دی ہیں،خیبرپختونخوا ایک طویل عرصے سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور پاکستان تحریک انصاف کے منتخب اراکین اسمبلی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کی قیادت، ہزاروں پولیس اہلکار، سیکیورٹی فورسز کے جوان اور بے گناہ شہری دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں،انہوں نے کہا کہ صوبے کو اربوں روپے کے معاشی اور انفراسٹرکچر نقصانات اٹھانا پڑے لیکن بدقسمتی سے وفاق پر مسلط حکمران ٹولہ نہ صرف خیبرپختونخوا کے بقایا جات روکے ہوئے ہے بلکہ روزانہ کی بنیاد پر صوبائی حکومت پر بے بنیاد، غیر ذمہ دارانہ اور سیاسی الزام تراشی کر کے دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں اور شہداء کی قربانیوں کی کھلی توہین کر رہا ہے جو ہمیں کسی صورت قابل قبول نہیں،معاون خصوصی نے کہا کہ دہشت گردی جیسے حساس قومی مسئلے پر وفاقی حکومت کا یہ رویہ انتہائی افسوسناک، غیر سنجیدہ اور نیشنل ایکشن پلان کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے،وفاقی حکومت صوبے کو اس کے آئینی اور مالی حقوق دے رہی ہے، نہ ہی صوبے کے حوالے سے کیے جانے والے فیصلوں میں صوبائی حکومت کو اعتماد میں لے رہی ہے جو یہاں کے عوام کے مینڈیٹ کی توہین ہے،انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کی جان و مال کے تحفظ، امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لاتی رہے گی۔

مزید پڑھیں