وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے پنجاب اسمبلی میں صوبائی وزراء کے ساتھ سیکیورٹی عملے کے ہتک آمیز رویے کی شدید الفاظ میں مذمت

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے پنجاب اسمبلی میں صوبائی وزراء کے ساتھ سیکیورٹی عملے کے ہتک آمیز رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ منتخب عوامی نمائندوں کی تذلیل کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور یہ طرزِ عمل فسطائی سوچ کی واضح عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی جیسے جمہوری ادارے میں منتخب نمائندوں کے ساتھ ناروا سلوک ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا، جس کا مقصد عوامی آواز کو دبانا اور سیاسی انتقام لینا ہے۔ شفیع جان نے مطالبہ کیا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی اس واقعے کا فوری نوٹس لیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔شفیع جان نے کہا کہ ہمارے قائد پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے، پارٹی قیادت کو پابندِ سلاسل کیا گیا اور عوامی مینڈیٹ پر کھلے عام ڈاکہ ڈالا گیا۔ مسترد شدہ ٹولے کو اقتدار کے قلمدان سونپ کر عوام کے فیصلے کی توہین کی گئی، جس کے نتائج آج پورا ملک بھگت رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کی موجودہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ نام نہاد اور مصنوعی ترقی کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ 19 دسمبر کو ڈان میں شائع ہونے والا کالم اسی سچ کی عکاسی کرتا ہے، جسے مسترد شدہ عناصر ہر ممکن طریقے سے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر اب حقائق کو زیادہ دیر دبایا نہیں جا سکتا۔

معاون خصوصی نے کہا کہ ”ووٹ کو عزت دو“ کا نعرہ لگانے والوں کو اب مزید پاکستانی عوام کے ووٹ کی بے حرمتی سے باز آ جانا چاہیے۔ عوام نے واضح اور بھاری اکثریت سے خان کو ووٹ دیا ہے اور عوامی فیصلے کا احترام جمہوریت کا بنیادی تقاضا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے دورہ لاہور کے دوران پورے شہر میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کی گئی، راستے بند کیے گئے اور لبرٹی چوک جانے والے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کون سے جمہوری ملک میں ایک منتخب وزیراعلیٰ کا اس طرح راستہ روکا جاتا ہے۔شفیع جان نے کہا کہ پنجاب کے عوام خوف کے بت توڑ چکے ہیں اور وزیراعلیٰ کے دورے نے کارکنوں اور عوام میں جوش و ولولہ مزید بڑھا دیا ہے۔ طاقت، جبر اور انتظامی ہتھکنڈوں سے عوامی شعور کو دبایا نہیں جا سکتا۔انہوں نے صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کے بیانات کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کے قافلے میں شریک افراد کے لیے ہتک آمیز اور نسلی تعصب پر مبنی الفاظ قابلِ مذمت ہیں۔ ایسے بیانات سیاسی عدم برداشت اور پست ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں