خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (آئی ٹی بورڈ) نے اپنی ایئر بک 2025 جاری کر دی ہے، جس میں خیبر پختونخوا میں ڈیجیٹل اصلاحات کے ایک تاریخی سال کی تفصیلات درج کی گئی ہیں۔
ایئر بک میں درج معلومات کے مطابق سال 2025 کے دوران آئی ٹی بورڈ نے سرکاری محکموں میں پیچیدہ دستی یعنی مینؤل نظام کی جگہ آسان ڈیجیٹل پلیٹ فارمز متعارف کرائے۔ اس ضمن میں دستک کو صوبے بھر میں عوامی خدمات کے حصول کے لئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے طور پر نافذ کیا گیا، جس کے ذریعے ریونیو، پولیس، ٹرانسپورٹ، ہاؤسنگ اور بلدیاتی خدمات سمیت 80 سے زائد سرکاری سروسز کو ڈیجیٹل نظام پر منتقل کیا گیا۔
اس اقدام سے شہریوں کے بار بار دفاتر کے چکر، تاخیر اور غیر ضروری پیچیدگیوں میں نمایاں کمی آئی اور عوام گھر بیٹھے ان خدمات تک رسائی حاصل کررہے ہیں۔
ایئر بک میں خیبر پاس کے اجراء کو بھی ایک سنگ میل قرار دیا گیا ہے، جو صوبے کا متحدہ ڈیجیٹل شناختی نظام ہے۔ کیو آر کوڈ اور محفوظ تصدیقی نظام پر مبنی اس اقدام کے ذریعے ایک شہری، ایک شناخت، ایک حکومت کے تصور کو عملی جامہ پہنایا گیا، جس سے شہریوں کو بار بار دستاویزات جمع کرانے کی ضرورت ختم ہو گئی اور مستقبل میں فلاحی، صحت، تعلیم اور سبسڈی پروگراموں کو ایک ہی شناخت کے تحت مربوط کرنے کی بنیاد رکھی گئی ہے۔
صوبے کو کیش لیس خیبر پختونخوا بنانے کے وژن کے تحت سال 2025 میں صوبائی سطح کی پہلی ڈیجیٹل ادائیگی و فِن ٹیک حکمتِ عملی پر عملدرآمد شروع کیا گیا۔ پیمیر پلیٹ فارم کے ذریعے ایکسائز، ریونیو، آبپاشی اور تعمیرات سمیت 40 سے زائد سرکاری خدمات میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کو ممکن بنایا گیا، جس سے مالی شفافیت، ریونیو کی مؤثر نگرانی اور عوامی اعتماد میں اضافہ ہوا۔
ایئر بک کے مطابق نوجوانوں کی صلاحیتوں میں اضافہ اور روزگار کے مواقع کی فراہمی کے لیے ڈیجیٹل اسکلز پروگرامز، انٹرن شپ، فیلوشپس اور جوئن آئی ٹی پلیٹ فارم کے ذریعے ہزاروں نوجوانوں کو مارکیٹ سے ہم آہنگ مہارتیں فراہم کی گئیں۔ خصوصی طور پر خواتین اور ضم اضلاع کے نوجوانوں کو شامل کر کے ڈیجیٹل شمولیت اور معاشی خودمختاری کو فروغ دیا گیا۔
ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے آئی ٹی پارکس کے دائرہ کار میں توسیع، پاکستان ڈیجیٹل سٹی ہری پور کو اسپیشل ٹیکنالوجی زون کے طور پر فعال بنانا اور اسٹارٹ اپ انکیوبیشن کے اقدامات نمایاں رہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے، برآمدات میں اضافہ ہوا اور صوبے میں نجی شعبے کا اعتماد مستحکم ہوا۔
ادارہ جاتی سطح پر آئی ٹی بورڈ نے سال 2025 میں اپنی گورننس صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا۔ بجٹ اور انسانی وسائل میں وسعت، نئی ڈیجیٹل گورننس پالیسیوں اور ترقیاتی منصوبوں کی منظوری نے ڈیجیٹل اصلاحات کو پائیدار بنیادیں فراہم کیں، جبکہ سرمایہ کاری پر غیر معمولی منافع نے ان اقدامات کی افادیت کو اور بھی مستحکم کیا۔
قومی اور بین الاقوامی سطح پر آئی ٹی بورڈ کے منصوبوں کو نمایاں اعزازات اور عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی۔ یہ کامیابیاں نہ صرف پاکستان کے مثبت ڈیجیٹل تشخص کو اجاگر کرتی ہیں بلکہ صوبے میں ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات پر عوامی اعتماد کو بھی مضبوط کرتی ہیں۔
ایئر بک میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن کے نتیجے میں کاغذ کے استعمال میں کمی، توانائی اور پانی کی بچت، اور کاربن اخراج میں کمی جیسے ماحولیاتی فوائد حاصل ہورہے ہیں، جو پائیدار اور موسمیاتی لحاظ سے محفوظ گورننس کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
