درہ آدم خیل کو سیالکوٹ طرز کے انڈسٹریل زون میں تبدیل کرنے کے حوالے سے اہم اجلاس۔

درہ آدم خیل میں اسلحہ سازی کے کاروباری کلسٹر کو ریگولرائز کرنے کے لیے قائم کی گئی کمیٹی کا ایک اہم اجلاس صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کی زیرِصدارت منعقدہواجس میں مینیجنگ ڈائریکٹر سمال اینڈسٹریز ڈیولپمنٹ بورڈ، ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر کے پی ٹیوٹا، کے پی اکنامک زون ڈیویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی، محکمہ قانون، محکمہ داخلہ، 11 کور کے حکام، ضلعی انتظامیہ کوہاٹ، کوہاٹ پولیس، اسلحہ سازی سے وابستہ مینوفیکچرنگ نمائندگان اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ درہ آدم خیل کا اسلحہ سازی کا کاروباری کلسٹر ملک بھر کے ہنرمندوں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اور اس صنعت کو ایک منظم اور قانونی دائرہ کار میں لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ آفتاب عالم نے کہا کہ ریگولرائزیشن سے نہ صرف اس صنعت کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا بلکہ مقامی معیشت، روزگار کے مواقع اور سرکاری ریونیو میں بھی اضافہ ممکن ہو سکے گا۔اجلاس میں ضلعی انتظامیہ کوہاٹ کی جانب سے پیش کی گئی سروے رپورٹ پر تفصیلی غور کیا گیا، جس کے مطابق اب تک 467 یونٹس کا سروے مکمل کیا جا چکا ہے جبکہ مزید پیش رفت کی گنجائش بھی موجود ہے۔ شرکاء کو 26 مئی 2025 کو ہونے والے اجلاس کے بعد کمیٹی کے طے شدہ ٹرمز آف ریفرنس (TORs) سے بھی آگاہ کیا گیا۔اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ کاروباری کلسٹر کو ریگولرائز کرنے سے درست اعداد و شمار کی دستیابی، مصنوعات کی منظم ترسیل کے مراکز کے قیام اور ریونیو کی بہتر وصولی ممکن ہو سکے گی۔ مقامی صنعت کاروں کو اس منصوبے میں شامل کرنے کے لیے صوبائی سطح پر دی جانے والی مراعات، بالخصوص ایکسائز ڈیوٹی میں ایک بار کی چھوٹ، پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں دو ذیلی کمیٹیوں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ پہلی ذیلی کمیٹی مجوزہ انڈسٹریل زون کے لیے قواعد و ضوابط میں ضروری ترامیم یا موجودہ قوانین میں ایک علیحدہ چیپٹر شامل کرنے پر کام کر رہی ہے، جبکہ دوسری ذیلی کمیٹی انڈسٹریل زون کے لیے درکار تفصیلی سروے مکمل کر رہی ہے جس میں مینوفیکچرنگ یونٹس اور ڈیلرز کا مستند اور جامع ڈیٹا جمع کیا جا رہا ہے۔جلاس میں اسٹیک ہولڈرز کی آراء جاننے، پیچیدہ طریقہ کار کو سادہ بنانے اور منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے حکومتی تعاون کے پہلوؤں پر بھی غور کیا گیا۔ وزیر قانون نے اس موقع پر بتایا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اس منصوبے میں ذاتی دلچسپی رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں صوبائی حکومت کی بھرپور معاونت حاصل رہے گی۔اجلاس میں آگاہ کیا گیا کہ درہ آدم خیل میں ٹیوٹا کی مخدوش عمارت کی بحالی اور ازسرِ نو تعمیر پر آئندہ ایک ماہ میں کام شروع کیا جائے گا، جس سے مقامی ہنرمندوں کی فنی اور تکنیکی صلاحیتوں کو فروغ ملے گا۔ اس موقع پر اسلحہ سازی سے متعلق ایس او پیز کی تیاری، قانون کے مطابق صنعت کے فروغ اور ہنرمندوں کی مہارتوں کو مزید نکھارنے پر بھی زور دیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مجوزہ انڈسٹریل زون کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز اور متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی رابطے کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ قانونی سہولتوں اور قواعد و ضوابط میں ممکنہ نرمی کے ذریعے اس منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران 11 کور کے حکام نے سیالکوٹ کے کاروباری کلسٹر کے ماڈل کو درہ آدم خیل کے مجوزہ انڈسٹریل زون کے لیے بطور اسٹڈی اپنانے کی تجویز بھی پیش کی۔

مزید پڑھیں