صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کی زیرصدارت لیگل کمیٹی کا ایک اہم اجلاس۔

خیبر پختونخوا کے وزیر قانون آفتاب عالم کی زیرصدارت لیگل کمیٹی کا ایک اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس میں رکن صوبائی اسمبلی صوبیہ شاہد، ممبر صوبائی اسمبلی اختر خان، اور منیر حسین لغمانی اور ارباب محمد عثمان خان نے بذریعہ زوم شرکت کی جبکہ سیکرٹری محکمہ قانون اختر سعید ترک، محکمہ داخلہ، محکمہ قانون، محکمہ پراسکیوشن، ایڈوکیٹ جنرل آفس اور دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں صوبے میں رائج مختلف قوانین اور ان سے جڑے سقم پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا بالخصوص انسدادِ دہشت گردی ایکٹ میں موجود نقائص کی نشاندہی اور اس قانون کو موجودہ زمینی حقائق اور حالات سے ہم آہنگ بنانے کے حوالے سے مختلف تجاویز اور آراء پیش کی گئیں۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ محکمہ داخلہ کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ میں تین اہم ڈسکریپنسیز کی نشاندہی کی گئی ہے، تاہم ایکٹ کا جامع اور ہمہ جہت جائزہ لینے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی (سب کمیٹی) کے قیام کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت سزا و جزا کے نظام کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے محکمہ داخلہ کے حکام نے مختلف تجاویز پیش کیں۔ اجلاس میں مروجہ قوانین، مجوزہ قانونی ترامیم کے مسودات اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی مجموعی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ کمیٹی نے قانون سازی کے عمل کو مزید مؤثر، شفاف اور آئین کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر اتفاق کیا۔اجلاس کے دوران رکن صوبائی اسمبلی منیر حسین لغمانی نے تفتیش کے معیار کو بہتر بنانے اور انصاف کی فراہمی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔وزیر قانون نے کہا کہ محکمہ داخلہ نے مذکورہ ایکٹ کو پراسکیوشن کے نقطہ نظر سے دیکھا ہے تاہم عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے اس ایکٹ کو تحقیقی بنیادوں پر مطالعہ کرنے ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق، گڈ گورننس، خواتین اور کمزور طبقات کے تحفظ سے متعلق قانونی پہلوؤں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں مؤثر قانون سازی، عدالتی فیصلوں پر بروقت عملدرآمد اور قانونی نظام میں اصلاحات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ اُنہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ قانونی معاملات میں باہمی رابطہ اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ عوام کو بروقت اور مؤثر انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

مزید پڑھیں