عامر جاوید ممبر ایڈوائزری کونسل برائے قانون و پارلیمانی امورنے کہا ہے کہ جب تک معاشرے میں انسانی ہمدردی، رواداری اور احساس کا جوہر موجود نہیں ہوگا، تب تک ایک متوازن اور فلاحی معاشرہ قائم نہیں ہو سکتا

عامر جاوید ممبر ایڈوائزری کونسل برائے قانون و پارلیمانی امورنے کہا ہے کہ جب تک معاشرے میں انسانی ہمدردی، رواداری اور احساس کا جوہر موجود نہیں ہوگا، تب تک ایک متوازن اور فلاحی معاشرہ قائم نہیں ہو سکتا؛ اس مقصد کے حصول کے لیے نظامتِ عامہ قانون و انسانی حقوق کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری نظام کو چلانے والے تمام عمال و افسران کی بہترین کاوشوں کی بھرپور پذیرائی کی جائے گی، جبکہ فرائض میں معیار پر پورا نہ اترنے والے عملے کا محاسبہ اور سرزنش کی جائے گی۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام الناس کو خدمات کی بلا تاخیر فراہمی ہی کسی بھی حکومت کی اصل روح ہے اور اس معاملے میں کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں نظامتِ عامہ قانون و انسانی حقوق کے تعارفی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری محکمہ قانون اور ڈائریکٹر جنرل قانون و انسانی حقوق سمیت دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ ادارہ صوبے میں قانون اور انسانی حقوق کی پاسداری کا اہم ترین ادارہ ہے، جو حکومت کے تمام قانونی مقدمات کی نگرانی کے علاوہ بین الاقوامی معاہدوں اور عالمی تجارتی رعایتوں (جی ایس پی پلس) سے متعلق رپورٹنگ کا ذمہ دار ہے۔ ادارے کے دو اہم شعبے ہیں؛ شعبہ انسانی حقوق (ہیومن رائٹس ونگ) بنیادی حقوق کی ترویج، تحفظ اور نفاذ کو یقینی بناتا ہے، جبکہ شعبہ وکالت (اٹارنی ونگ) عدالتوں میں حکومت کے سول (دیوانی) مقدمات کا دفاع کرتا ہے۔اجلاس میں مشیرِ قانون عامر جاوید نے دیوانی مقدمات میں ضلع وکلائ (ڈسٹرکٹ اٹارنیز) کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ان کی پیشہ ورانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ششماہی یا سالانہ رپورٹ باقاعدگی سے پیش کی جائے۔

مزید پڑھیں