خیبر پختونخوا کابینہ کی قانون ساز کمیٹی کا اجلاس، اہم قانونی مسودات اور ادارہ جاتی امور پر غور

خیبر پختونخوا کے وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیرِ صدارت کابینہ کی قانون ساز کمیٹی کا اہم اجلاس آج پشاور میں منعقد ہوا، جس میں صوبے کی ترقی، معاشرتی انصاف، امن و استحکام اور اچھی حکمرانی کے لیے متعدد اہم قانونی مسودات اور ادارہ جاتی امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس میں خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے سماجی بہبود ملک لیاقت علی خان، سیکرٹری محکمہ قانون و انسانی حقوق اختر سعید ترک، سیکرٹری محکمہ زراعت ڈاکٹر محمد بختیار خان، سپیشل سیکرٹری محکمہ داخلہ شگفتہ نوید، سپیشل سیکرٹری محکمہ اعلیٰ تعلیم فضل حسین، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مدثر نذر، محکمہ قانون، محکمہ داخلہ و قبائلی امور، ایڈووکیٹ جنرل آفس، محکمہ سماجی بہبود، محکمہ اعلیٰ تعلیم، بورڈ آف ریونیو، محکمہ خزانہ اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں خیبر پختونخوا معذور افراد کو بااختیار بنانے کے بل 2026 پر خصوصی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے کی مجموعی آبادی کا تقریباً 3.60 فیصد حصہ معذور افراد پر مشتمل ہے۔ مجوزہ قانون کا مقصد معذور افراد کے حقوق کا تحفظ، ان کی باعزت شمولیت اور سماجی و معاشی بااختیاری کو یقینی بنانا ہے۔صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے مجوزہ بل کو معاشرے کے کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ اور انہیں بااختیار بنانے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت معذور افراد کو مساوی مواقع، ضروری سہولیات اور باعزت زندگی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ بل کی مختلف شقوں کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ بنایا جائے اور ایسی تجاویز شامل کی جائیں جو عملی طور پر قابلِ نفاذ ہوں۔ وزیر قانون نے مالی ذمہ داریوں میں غیر ضروری اضافے سے بچنے کے لیے بعض شقوں پر نظرثانی اور ضروری شقوں کو حذف کرنے کی تجویز بھی دی۔ انہوں نے قانونی تقاضے پورے نہ کرنے والے متعلقہ اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔مشیر برائے سماجی بہبود ملک لیاقت علی خان نے اجلاس کو بتایا کہ ضلع دیر میں معذور افراد کی بحالی اور خصوصی تعلیم کے لیے مختص 46 آسامیوں پر تاحال تعیناتی نہیں ہوسکی۔ اجلاس میں معذور افراد کے لیے مقررہ کوٹے، ڈس ایبل پرسنز ری ہیبیلیٹیشن فیس اور خصوصی افراد کی تعلیم سے متعلق مختلف تجاویز بھی زیرِ غور آئیں۔ مشیر سماجی بہبود نے خصوصی تعلیم کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے اس شعبے میں افرادی قوت میں اضافے پر زور دیا تاکہ معذور افراد کی مناسب تعلیم، تربیت، بحالی اور نگہداشت کو یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس میں انسدادِ پرتشدد انتہا پسندی کے لیے قائم سینٹر آف ایکسیلنس کو محکمہ اعلیٰ تعلیم سے محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے انتظامی دائرہ اختیار میں منتقل کرنے کے معاملے پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ خیبر پختونخوا سینٹر آف ایکسیلنس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم کے حکام نے ادارے کے اغراض و مقاصد، مینڈیٹ اور جاری اقدامات کے حوالے سے جامع پریزینٹیشن پیش کی۔صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ پرتشدد انتہا پسندی کے سدباب کے لیے مربوط، مؤثر اور ادارہ جاتی حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔ انہوں نے بالخصوص ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوانوں اور دیگر افراد کے متشدد گروہوں سے وابستہ ہونے کے امکانات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ صوبے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے منشیات کے استعمال اور پرتشدد انتہا پسندی کے ممکنہ باہمی تعلق کے حوالے سے بھی فورم کو آگاہ کیا اور متعلقہ حکام کو اس ضمن میں ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔اجلاس میں پروگرام کے مختلف موضوعاتی شعبوں کے تحت نوجوانوں میں قیادت کی صلاحیتیں اجاگر کرنے، خواتین کو بااختیار بنانے اور معاشرے کے مختلف طبقات کی شمولیت کو فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ بین المذاہب ہم آہنگی، سماجی یکجہتی، امن سازی اور مکالمے کے ذریعے معاشرتی تنازعات کے پُرامن حل کو بھی اہمیت دی گئی۔ کمیونٹی سطح پر ثالثی اور تنازعات کے حل، قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے استعدادِ کار اور لچک پیدا کرنے، ثقافتی ورثے اور شناخت کے تحفظ و احیائ، امن کے فروغ میں تاریخی و ثقافتی ورثے کے مثبت کردار، نوجوانوں کے لیے ہنرمندی اور معاشی مواقع کی فراہمی، جبکہ پائیدار ترقی کے لیے پالیسی اور گورننس اصلاحات کو بھی پروگرام کا اہم حصہ قرار دیا گیا۔سپیشل سیکرٹری محکمہ داخلہ شگفتہ نوید نے کہا کہ فنکشنل مینڈیٹ کے لحاظ سے سینٹر آف ایکسیلنس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم کا موجودہ مینڈیٹ برقرار رہے گا، تاہم اس کے انتظامی امور محکمہ داخلہ کے زیرِ انتظام لانے کی تجویز ہے۔اس موقع پر وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی نے نان کائنٹیک (Non-kinetic) سرگرمیوں، نوجوانوں کی شمولیت، تحقیق اور سیمینارز سمیت ادارے کے وسیع دائرہ کار کا حوالہ دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ نوجوان نسل کو پرتشدد انتہا پسندی سے محفوظ رکھنے کے لیے سینٹر آف ایکسیلنس کا انتظامی تعلق محکمہ اعلیٰ تعلیم کے ساتھ برقرار رہنا چاہیے۔فورم نے قرار دیا کہ سینٹر آف ایکسیلنس کے انتظامی دائرہ اختیار کا حتمی تعین وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے احکامات کی روشنی میں کیا جائے گا، جس کے بعد ضرورت کے مطابق متعلقہ قوانین اور قواعد میں ضروری ترامیم کو حتمی شکل دی جائے گی۔اجلاس میں خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن ترمیمی بل 2026 پر بھی غور کیا گیا، جس کا مقصد پبلک سروس کمیشن کے نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور میرٹ پر مبنی بنانا ہے۔اسی طرح خیبر پختونخوا تمباکو بورڈ ایکٹ 2026 پر بھی غور کیا گیا، جس کا مقصد تمباکو کے شعبے کے لیے مؤثر ضابطہ کار وضع کرنا اور صحتِ عامہ کے تحفظ کے لیے ضروری قانونی و انتظامی اقدامات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ صوبائی حکومت بانی چیئرمین عمران خان کے وژن اور وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی رہنمائی میں ایسے قوانین مرتب کر رہی ہے جو نہ صرف موجودہ تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں بلکہ عوام کے حقوق، امن و استحکام اور اچھی حکمرانی کو بھی مضبوط بنائیں۔انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ تمام قانونی، مالی اور انتظامی پہلوؤں کا جامع جائزہ لے کر واضح، قابلِ عمل اور قانون کے تقاضوں سے ہم آہنگ سفارشات جلد پیش کی جائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں