
ممبر ایڈوائزری کونسل برائے قانون و پارلیمانی امور عامر جاوید نے کہا ہے کہ سرکاری مقدمات میں مؤثر قانونی دفاع، بروقت پیروی اور سرکاری وسائل کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی اٹارنیز اس امر کے پابند ہوں گے کہ مقدمہ جیتنے یا ہارنے کی صورت میں فیصلے کے ساتھ اپنی قانونی رائے (اوپینین) بھی جمع کرائیں۔ اس ضمن میں کسی بھی قسم کی غفلت ناقابلِ برداشت ہوگی۔مشیر قانون نے متعلقہ حکام کو 400 دیوانی مقدمات کا آزادانہ آڈٹ کرنے کے احکامات جاری کیے۔ مشیرِ قانون نے ضلعی اٹارنیز کی مجرمانہ غفلت کی روک تھام کے لیے سیکرٹری محکمہ قانون کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے شکایات سیل کے قیام کو یقینی بنانے کا حکم دیا۔ مزید برآں، ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں بھی اسی نوعیت کا شکایات سیل قائم کرنے کی ہدایت کی۔عامر جاوید نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر ڈسٹرکٹ اٹارنی ایبٹ آباد، دیر اپر اور بنوں کو بالترتیب 92، 91 اور 92 فیصد کامیابی کی شرح حاصل کرنے پر ستائشی نوٹ جاری کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جائے اور انتظامی و قانونی خامیوں کا مؤثر ازالہ کیا جائے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کے روز پشاور میں 15 اکتوبر کو جاری کردہ ہدایات پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل لائ اینڈ ہیومن رائٹس نے صوبے کے 36 اضلاع میں سول مقدمات اور ضلعی اٹارنیز کی کارکردگی سے متعلق رپورٹ پیش کی۔رپورٹ کے مطابق، یکم ستمبر 2025ئ سے 30 ستمبر 2026ئ تک 3,296 سول مقدمات میں سے 2,511 مقدمات، یعنی تقریباً 76 فیصد، میں سرکاری اداروں کے حق میں فیصلے ہوئے، جبکہ 785 مقدمات میں فیصلے ان کے خلاف آئے۔ ان مقدمات سے متعلق مجموعی مالی ذمہ داری 4,327.96 ملین روپے ریکارڈ کی گئی، جبکہ 116 مقدمات میں مالی تخمینہ واضح نہیں تھا۔عامر جاوید نے بٹگرام، چارسدہ، مالاکنڈ، نوشہرہ، پشاور، سوات اور تورغر میں مقدمات کی کارکردگی کا خصوصی جائزہ لینے، لٹیگیشن پالیسی پر عمل درآمد یقینی بنانے اور ضلعی اٹارنیز کی کارکردگی کا آڈٹ کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے انتظامی محکموں میں لٹیگیشن سیلز کو فعال بنانے، ضروری قانونی ریکارڈ کی بروقت فراہمی، ضلعی اٹارنیز کی تربیت اور متعلقہ حکام کی جواب دہی یقینی بنانے پر بھی زور دیا.انہوں نے لٹیگیشن مینجمنٹ سسٹم اور ایس اے پی سسٹم کو فعال بنانے، خالی آسامیوں پر تقرریوں اور ایڈووکیٹ جنرل آفس و ڈائریکٹوریٹ جنرل لائ اینڈ ہیومن رائٹس کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کی ہدایت کی، تاکہ سرکاری مفادات کا تحفظ، قانونی امور میں شفافیت اور انتظامی کارکردگی میں بہتری یقینی بنائی جا سکے۔ہر ڈسٹرکٹ اٹارنی کو ماہانہ کی بنیاد پر کارکردگی رپورٹ جمع کرنے اور غفلت کی صورت میں تادیبی کاروائی عمل میں لانے کے احکامات جاری کیے ۔
