خیبر پختونخوا کے وزیر برائے قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیرِ صدارت محکمہ قانون کے تحت اس کے فوجداری اور دیوانی قوانین کا ازسرنو جائزہ لینے اور اس سے جڑے دیگر منصوبوں کے پی سی۔ون (PC-I) پر تفصیلی پریزنٹیشن کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری محکمہ قانون، ڈی جی لاء اینڈ ہیومن رائٹس، محکمہ قانون کے حکام اور ایڈووکیٹ جنرل آفس کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ قانون کے حکام نے مجوزہ پی سی۔ون کے اغراض و مقاصد، مالی تخمینوں، منصوبے کی افادیت اور متوقع نتائج پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس کے دوران منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا اور شرکاء کی جانب سے تجاویز بھی پیش کی گئیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ دیوانی اور فوجداری قوانین کا بلا واسطہ اثر سماج پر ہوتا ہے لہذا ان قوانین کو ازسر نو جائزہ لینے کے لئے پی سی ون میں منصوبہ کی شمولیت پر زور دیا گیا۔۔وزیرِ قانون آفتاب عالم نے ہدایت کی کہ پی سی۔ون کو جدید تقاضوں، شفاف مالی نظم و نسق اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے حتمی شکل دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ قانون کی استعداد کار میں بہتری اور نظامِ انصاف کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ترقیاتی منصوبے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پی سی۔ون میں دی گئی تجاویز کی روشنی میں ضروری ترامیم کے بعد اسے متعلقہ فورمز سے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
