خواتین کے خلاف کام کی جگہ پر ہراسگی کے قانون میں ضروری ترامیم کے حوالے سے ایک اہم اجلاس صوبائی وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور خیبر پختونخوا آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں خاتون محتسب رباب مہدی، سیکرٹری محکمہ قانون اختر سعید ترک، ایڈووکیٹ جنرل آفس کے حکام، محکمہ قانون کے افسران اور دیگر متعلقہ محکموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران خواتین کی ہراسگی سے متعلق موجودہ قانون میں ضروری ترامیم کے ذریعے اسے مزید مؤثر بنانے پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ قانون میں واضح، جامع اور قابلِ عمل ترامیم وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ خواتین کو ہراسگی جیسے سنگین مسئلے سے مؤثر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔اجلاس میں قانون کی تمام سیکشنز اور ذیلی سیکشنز کو فصیح، واضح اور مربوط انداز میں مرتب کرنے پر زور دیا گیا تاکہ قانونی ابہام کا خاتمہ ہو اور عملدرآمد میں آسانی پیدا ہو۔ اس موقع پر موجودہ ایکٹ اور مجوزہ ترامیم کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا گیا، جبکہ قانون میں مزید بہتری لانے کے لیے مختلف عملی تجاویز زیر غور آئیں۔وزیر قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت خواتین کے حقوق کے تحفظ اور انہیں محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، اور ہراسگی کے قانون کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ مجوزہ ترامیم کو جلد حتمی شکل دے کر عملی پیش رفت کو یقینی بنایا جائے۔
