خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق آفتاب عالم کی زیرِ صدارت قانون ساز کمیٹی کے دو اہم اجلاس منعقد ہوئے، جن میں نیشنل علماء و مشائخ کونسل بل 2025 اور خیبر پختونخوا انفورسمنٹ آف ویمن پراپرٹی رائٹس ایکٹ 2019 میں مجوزہ ترامیم پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا

خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون، پارلیمانی امور و انسانی حقوق آفتاب عالم کی زیرِ صدارت قانون ساز کمیٹی کے دو اہم اجلاس منعقد ہوئے، جن میں نیشنل علماء و مشائخ کونسل بل 2025 اور خیبر پختونخوا انفورسمنٹ آف ویمن پراپرٹی رائٹس ایکٹ 2019 میں مجوزہ ترامیم پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔پہلے اجلاس میں نیشنل علماء و مشائخ کونسل بل 2025 کی مختلف شقوں، اغراض و مقاصد اور قانونی و آئینی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا، سیکرٹری محکمہ قانون، سیکرٹری اوقاف و مذہبی امور، محکمہ قانون کے حکام سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ متعلقہ حکام نے بل کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دی اور اپنی آراء پیش کیں۔دوسرے اجلاس میں خیبر پختونخوا انفورسمنٹ آف ویمن پراپرٹی رائٹس ایکٹ 2019 میں مجوزہ ترامیم پر تفصیلی تبادلہ? خیال کیا گیا۔ اجلاس میں ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا، سیکرٹری محکمہ قانون اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ قانون کے مؤثر نفاذ، خواتین کو وراثتی و جائیداد کے حقوق کی بروقت فراہمی اور درپیش عملی و قانونی رکاوٹوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں مجوزہ ترامیم کا تقابلی مطالعہ کرتے ہوئے قانون کے ڈیفینیشن کلاز میں ضروری تبدیلیوں سے متعلق مختلف تجاویز زیرِ غور آئیں۔اجلاس میں اس امر پر بھی غور کیا گیا کہ سیکشن 4 کے تحت خواتین اور غیر سرکاری تنظیموں کی باہمی تحریری رضامندی سے صوبائی محتسب کے روبرو شکایت دائر کی جا سکتی ہے، جبکہ سیکشن 4 اور سیکشن 7 کے مابین قانونی تضاد کے باعث سیکشن 7 کو حذف کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ مزید برآں، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں سیکشن 9 میں ایک نئی ذیلی شق شامل کرنے کی سفارش بھی کی گئی۔ اجلاس میں عدالتی فیصلوں کے تحقیقی مطالعے اور قانون کے اغراض و مقاصد کے بہتر تعین پر بھی زور دیا گیا۔وزیرِ قانون آفتاب عالم نے دونوں اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قانون سازی کا بنیادی مقصد معاشرے میں ہم آہنگی، مشاورت اور ادارہ جاتی بہتری کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت خواتین کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے قوانین کو مزید مضبوط، قابلِ عمل اور مؤثر بنایا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام مجوزہ ترامیم کو عوامی مفاد اور زمینی حقائق کے مطابق حتمی شکل دی جائے۔اجلاسوں کے دوران متعدد اہم سفارشات مرتب کی گئیں جبکہ بعض نکات پر مزید مشاورت کے لیے آئندہ اجلاس میں دوبارہ غور کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

مزید پڑھیں