خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیر صدارت پشاور میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں مجوزہ آئینی ترمیمی بل اور اس کے صوبے پر ممکنہ آئینی، مالی اور وفاقی اثرات کے ساتھ ساتھ مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے حاصل کی گئی اراضی کی منتقلی اور اس کے تصفیے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری محکمہ قانون اختر سعید ترک، محکمہ قانون کے حکام، محکمہ خزانہ، بلدیات و دیہی ترقی، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، زراعت، اعلیٰ تعلیم، صحت سمیت دیگر متعلقہ محکموں، جامعات اور ضلعی انتظامیہ کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ بظاہر انتظامی نوعیت کی مجوزہ آئینی قانون سازی درحقیقت سینیٹ میں نمائندگی، قومی مالیاتی کمیشن اور وفاقی اکائیوں کے درمیان آئینی توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، اس لیے اس پر کسی بھی پیش رفت سے قبل تمام صوبوں سے بامعنی اور سنجیدہ مشاورت ناگزیر ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ سابقہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد صوبے کے رقبے میں تقریباً چھتیس فی صد جبکہ آبادی میں سولہ فی صد اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کا حصہ انیس اعشاریہ چھ چار فی صد بنتا ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اس شرح کے مطابق صوبے کو سالانہ تقریباً تین سو اسی ارب روپے ملنے چاہئیں، تاہم یہ رقم تاحال صوبے کو فراہم نہیں کی جا رہی جو آئینِ پاکستان بالخصوص آرٹیکل 160(3A) کے تحت صوبوں کے مالی حقوق کے تحفظ کے منافی ہے۔اسی اجلاس میں کابینہ کی قائمہ کمیٹی کے ایجنڈے کے تحت مختلف ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری اقدامات کے لیے حاصل کی گئی اراضی سے متعلق زیر التوا کیسز، عدالتی فیصلوں اور ڈیکری کی صورت میں واجب الادا رقوم کے معاملات پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس میں اراضی کے تصفیے میں درپیش قانونی و انتظامی پیچیدگیوں، تاخیر کے اسباب اور ان کے حل کے لیے عملی تجاویز پیش کی گئیں اور اس امر پر زور دیا گیا کہ زمین کے حصول اور اس سے متعلق مالی واجبات کے معاملات کو قانون کے مطابق، شفاف اور بروقت نمٹایا جائے تاکہ حکومت کو غیر ضروری مالی بوجھ اور عدالتی کارروائیوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔وزیرِ قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی نظام کی مضبوطی صوبائی خودمختاری، منصفانہ وسائل کی تقسیم اور تمام اکائیوں کے درمیان برابری کے اصول سے مشروط ہے، اس لیے کسی بھی آئینی ترمیم یا انتظامی فیصلے میں صوبوں کے حقوق اور مفادات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت صوبے کے آئینی، مالی اور قانونی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی اور اس ضمن میں ہر دستیاب آئینی و قانونی فورم پر اپنا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ اراضی کے حصول اور اس سے متعلق تمام زیر التوا کیسز کا جامع جائزہ لے کر قابلِ عمل سفارشات مرتب کی جائیں تاکہ ان معاملات کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔
