خیبر پختونخوا کے وزیر برائے قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیرِ صدارت جمعرات کے روز پشاور میں اعلیٰ سطحی کمیٹیوں کے اہم اجلاس منعقد ہوئے جن میں صوبائی سطح پر قانون، امن و امان اور صحت سے متعلق اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاسوں میں وزیرِ بلدیات و اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی، وزیرِ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان، مشیرِ خزانہ مزمل اسلم، ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل اتمان خیل، سیکرٹری محکمہ صحت شاہد اللہ خان، سیکرٹری محکمہ قانون اختر سعید ترک، رئیس خان اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔پہلے اجلاس میں پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو (PPHI) کے کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی سے متعلق سپریم کورٹ آف پاکستان کے 5 دسمبر 2024 کے فیصلے، موجودہ قوانین اور صوبائی پالیسیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ محکمہ صحت کی جانب سے عدالتی فیصلے کا باریک بینی سے تجزیہ پیش کیا گیا جبکہ ملازمین کی مستقلی سے متعلق مختلف قانونی و انتظامی تجاویز پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران متعلقہ افسران نے پریزنٹیشنز اور ورکنگ پیپرز کے ذریعے کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی اور عدالتی فیصلے کی روشنی میں حتمی سفارشات تیار کرنے کے لیے مشاورت کی گئی۔بعد ازاں وزیر قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیر صدارت اے ٹی اے 1997، مینٹیننس آف پبلک آرڈر (MPO) اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 144 سے متعلق امور پر متعلقہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، قوانین کے نفاذ کے موجودہ طریقہ کار، شہری آزادیوں کے تحفظ اور متعلقہ قوانین کے عملی اطلاق کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیر قانون نے اس موقع پر کہا کہ دہشت گردی اور امن و امان سے متعلق قوانین کا بنیادی مقصد عوام کے جان و مال کا تحفظ ہے تاہم ان قوانین کے نفاذ میں آئین، قانون اور بنیادی انسانی حقوق کو ہر صورت مدنظر رکھا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ دفعہ 144 اور MPO جیسے قوانین کا استعمال صرف ناگزیر حالات میں، شفاف طریقے سے اور مقررہ قانونی حدود کے اندر ہونا چاہیے تاکہ عوامی اعتماد مجروح نہ ہو۔اجلاس میں متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی کہ قوانین کے اطلاق، نگرانی اور جائزے کے مؤثر نظام کو مزید بہتر بنایا جائے اور کسی بھی ممکنہ زیادتی یا غلط استعمال کی روک تھام کے لیے واضح اور مؤثر میکنزم وضع کیا جائے۔ وزیر قانون نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت قانون کی بالادستی، امن و امان کے قیام اور شہری حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
