تحریر: انجینئر اطہر
خیبر پختونخوا کی تاریخ میں اقلیتی برادری کے حقوق اور تحفظ کے حوالے سے حالیہ دنوں میں ایک اہم سنگ میل عبور کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت دہشت گردی سے متاثرہ اقلیتی برادری کے انڈومنٹ فنڈ کی اسسمنٹ کمیٹی کا اجلاس محض ایک رسمی کارروائی نہیں، بلکہ ریاست کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں کے ادراک کا ایک عملی مظہر ہے۔
پشاور کے آل سینٹس چرچ کوہاٹی گیٹ کے المناک سانحے کو ایک دہائی سے زائد عرصہ بیت چکا ہے، لیکن متاثرہ خاندانوں کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔ ان خاندانوں کی آنکھوں میں انصاف اور امداد کی جو آس تھی، اسے وزیراعلیٰ کے حالیہ فیصلے نے ایک نئی زندگی بخشی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھنے کے مترادف ہے، بلکہ ریاست کے اس پختہ عزم کا اظہار بھی ہے کہ اقلیتی برادری کا تحفظ ہماری اولین آئینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔
اس تاریخی فیصلے کے تحت انڈومنٹ فنڈ کی سیڈ منی کو 200 ملین روپے سے بڑھا کر 400 ملین روپے کر دیا گیا ہے۔ فنڈز میں یہ سو فیصد اضافہ اس بات کی ضمانت ہے کہ وسائل کی کمی اب کسی متاثرہ خاندان کی امداد میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔ اس کے ساتھ ہی وزیراعلیٰ نے واضح ہدایت جاری کی ہے کہ رواں ہفتے ہی متاثرین میں مالی معاونت کے چیکس تقسیم کر دیے جائیں تاکہ ان کا طویل انتظار ختم ہو سکے۔
حکومت نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی رقوم میں جو اضافہ کیا ہے وہ بلا شبہ بے مثال ہے:
بیواؤں کے لیے: امداد 10 لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔
یتیم بچوں کے لیے: رقم 5 لاکھ سے بڑھا کر 15 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔
معذور افراد کے لیے: امداد 5 لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔
زخمیوں کے لیے: مقررہ رقم ایک لاکھ سے بڑھا کر 6 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔
مالی امداد کے ساتھ ساتھ انتظامی سطح پر بھی دور رس اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ محکمہ اوقاف میں اقلیتی برادری کے لیے ایک علیحدہ ڈائریکٹوریٹ کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے، تاکہ ان کے مسائل ایک ہی چھت تلے فوری حل ہو سکیں۔
ان اقدامات کا سب سے اہم پہلو معاشرتی اثرات ہیں۔ جب ریاست اپنے ہر شہری کو بلا امتیازِ مذہب و ملت تحفظ کا احساس دلاتی ہے، تو اس سے معاشرے میں پھیلی نفرتوں کا خاتمہ ہوتا ہے۔ ایسے مخلصانہ اقدامات سے شہریوں کے درمیان آپس میں محبتیں اور یگانگت پروان چڑھتی ہے، جو ایک مضبوط قوم کی بنیاد ہے۔ جب ایک مظلوم کو انصاف اور حق ملتا ہے، تو ملک میں امن و سکون کی فضا مستحکم ہوتی ہے، اور یہی وہ امن ہے جو کسی بھی ملک کے لیے ترقی کے دروازے کھول دیتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ خیبر پختونخوا حکومت ہر شہری کو برابر کے حقوق اور مواقع فراہم کرنے کے لیے بھرپور طریقے سے کوشاں ہے۔ ملک کی تعمیر و ترقی میں اقلیتی برادری کا خون اور پسینہ شامل ہے، اور آج ریاست نے ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ خود کو تنہا نہ سمجھیں۔ یہ تمام اقدامات معاشرے میں بین المذاہب ہم آہنگی اور باہمی احترام کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوں گے۔
