قومی مالیاتی کمیشن اور ضم شدہ علاقوں کا مسئلہ

تحریر: ڈاکٹر انجینئر محمد اطہر سوری

قومی مالیاتی کمیشن پاکستان کے آئین کے تحت ایک اہم آئینی ادارہ ہے۔ اس کا بنیادی مقصد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مالیاتی وسائل کی شفاف تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔ یہ ادارہ وفاقی ڈھانچے میں مالیاتی مساوات لاتا ہے تاکہ تمام علاقوں کو آبادی، غربت اور پسماندگی کی بنیاد پر مساوی ترقی کے مواقع میسر آ سکیں۔

ساتویں این ایف سی ایوارڈ کی مدت 2015 میں ختم ہو چکی ہے، اور نئے ایوارڈ کی عدم موجودگی میں اسی کو صدارتی آرڈرز کے ذریعے توسیع دی جا رہی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے ضم شدہ علاقوں (سابقہ فاٹا) کا سنگین مسئلہ شروع ہوتا ہے۔ جب 2010 میں ساتواں ایوارڈ بنا، تو اُس وقت فاٹا وفاقی زیر انتظام علاقہ تھا، لہٰذا اسے این ایف سی کے وسائل سے خارج رکھا گیا، جس کے نتیجے میں یہ علاقہ مالیاتی طور پر نظرانداز ہوا۔

وقت گزرنے کے بعد، 31 مئی 2018 کو 25ویں آئینی ترمیم کے ذریعے فاٹا کو باقاعدہ طور پر خیبر پختونخوا (کے پی) میں ضم کر دیا گیا۔ اس انضمام سے صوبے کی آبادی اور جغرافیہ میں اضافہ ہوا۔ چونکہ ساتویں ایوارڈ میں ان علاقوں کو شامل نہیں کیا گیا تھا، لہٰذا یہ ایوارڈ اب آئینی طور پر نامکمل ہے۔

اس انضمام کے نتیجے میں، حکومت خیبر پختونخوا پر 6.4 ملین سے زائد افراد کی ترقی کی تاریخی ذمہ داری تو عائد ہو گئی، مگر اس کے لیے مطلوبہ مالی وسائل فراہم نہیں کیے گئے۔ یہ عمل “مالیات فنکشن کے تابع” کے عالمی اصول کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ اسی مالیاتی غفلت کے باعث ان علاقوں میں غربت کی شرح (73.94%) قومی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔

حکومت خیبر پختونخوا کو 2010-11 سے 2023-24 تک دیگر صوبوں کے مقابلے میں تقریباً 1,335.1 ارب روپے کم فنڈنگ ملی، جو ایک بڑا مالیاتی مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے، حکومت خیبر پختونخوا نے این ایف سی میں عارضی اصلاحات کی تین تجاویز دی ہیں

خصوصی ’پاکستان بلڈنگ گرانٹ‘: تاریخی کمی کو پورا کرنے کے لیے دس سالہ خصوصی گرانٹ دی جائے۔

 دہشت گردی فنڈ میں اضافہ: موجودہ 1 فیصد حصہ بڑھا کر کم از کم 3 فیصد کیا جائے تاکہ انسداد دہشت گردی کے اقدامات کے لیے وسائل بہتر ہوں۔

 کے پی کے حصے کا دوبارہ شمار: ساتویں ایوارڈ کو آئینی طور پر درست کرنے کے لیے ضم شدہ علاقوں کی آبادی اور رقبہ شامل کر کے کے پی کا حصہ دوبارہ شمار کیا جائے، جو صوبے کی آبادی کے تناسب سے 19.64% ہونا چاہیے

ان تجاویز کا مقصد صرف ان علاقوں کو معاشی دھارے میں لانا نہیں، بلکہ بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی پر قابو پانے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے ایک مستحکم خیبر پختونخوا کو یقینی بنانا ہے۔

عوامی آگاہی اور مسئلے کے حل کے لیے، حکومت خیبر پختونخوا نے صوبے کی جامعات میں سیمینارز اور آگاہی مہم کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے ان سیمینارز کا باقاعدہ آغاز پیر، 1 دسمبر 2025 سے ہوگا۔ اس مہم میں کوہاٹ، ہری پور، شانگلہ، کرک، سوات، ڈیرہ اسماعیل خان، بونیر، اور فاٹا یونیورسٹی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں