نظامت امور نوجوانان خیبرپختونخوا کے تحت ناران بٹکنڈی میں یتیم بچوں کے لیے پانچ روزہ ”لیڈرشپ کیمپ” کامیابی سے اختتام پذیر ہوگیا۔کیمپ کا انعقاد ”چمکتے ستارے” کے نام سے کیا گیا تھا۔اس منفرد اقدام کا مقصد معاشرے کے قابل رحم طبقات سے تعلق رکھنے والے بچوں کو قائدانہ صلاحیتوں، روحانی تربیت اور شہری ذمہ داریوں سے آراستہ کرنا تھا۔ کیمپ میں روحانی تربیتی نشستیں، قیادت سازی کی عملی مشقیں اور نعت، اذان و تقریری مقابلوں کا انعقاد کیا گیا جنہوں نے شرکاء میں اعتماد، اظہارِ خیال اور سماجی شعور کو فروغ دیا۔کیمپ کی سب سے یادگار سرگرمی ”ٹریک ٹو لالازار” رہی جس کے ذریعے نوجوانوں میں ٹیم ورک، برداشت اور فطرت سے محبت کے جذبات اجاگر کیے گئے۔ شرکاء نے ”کلین اینڈ گرین پاکستان” مہم میں بھی بھرپور حصہ لیا جس سے ان میں ماحولیاتی ذمہ داری اور قومی معاملات میں اجتماعی شرکت کا شعور اجاگر ہوا۔ڈائریکٹر یوتھ افیئرز ڈاکٹر نعمان مجاہد نے کیمپ کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیمپ محض تفریحی سرگرمی نہیں بلکہ خود شناسی اور قیادت کے سفر کا آغاز تھا۔ انھوں نے کہا کہ کیمپ میں ہمارے یتیم بچے چمکتے ستارے اپنی قابلیت اور حوصلے سے یہ ثابت کر گئے کہ وہ قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈائریکٹوریٹ کا عزم ہے کہ خیبرپختونخوا کے نوجوانوں، خصوصاً محروم طبقے سے تعلق رکھنے والوں کے لیے شمولیتی اور تجرباتی بنیادوں پر تربیتی مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ مستقبل کے باکردار، باہمت اور باصلاحیت رہنما بن سکیں۔
جنگلات، جنگلی حیات اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے جانیں قربان کرنے والے اہلکار قوم کے ہیروز ہے۔
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے جنگلات، جنگلی حیات و ماحولیات پیر مصور خان نے جنگلات، جنگلی حیات اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے والے اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء جنگلات قوم کے اصل ہیروز ہے جنکی قربانیوں کو ہمیشہ یا رکھا جائے گا، جنگلات کے تحفظ کے لئے فرائض انجام دینے والے اہلکاروں کی خدمات قابل تحسین ہے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے 31 جولائی عالمی یوم رینجرز کی مناسبت سے پشاور چڑیا گھر کے آڈیٹوریم میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر محکمہ جنگلات، جنگلی حیات اور پشاور چڑیا گھر کے اعلی حکام اور رینجرز بھی موجود تھے،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی پیر مصور خان نے کہا کہ ہمارے رینجرز ہی اصل ہیروز ہیں، جو دشوار گزار پہاڑی علاقوں، جنگلات اور وادیوں میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر فرائض انجام دیتے ہیں۔ وہ نہ صرف درختوں کی حفاظت کرتے ہیں بلکہ نایاب اور خطرے سے دوچار جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کے 41 اہلکاروں نے فرض کی راہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ پیر مصور خان نے رواں سال سوات میں جنگلات میں لگی آگ پر قابو پانے کی کوشش میں شہید ہونے والے اہلکار طالع مند کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ فرض شناسی، قربانی اور حوصلے کی واضح مثال ہیں۔پیر مصور خان نے محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کے ان تمام افسران اور اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا جو قدرتی وسائل کے تحفظ، غیر قانونی کٹائی، اسمگلنگ اور شکار کی روک تھام کے لئے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔پیر مصور خان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہم رینجرز کی سہولیات، تربیت اور تحفظ کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہے ہیں تاکہ جو لوگ ماحول کی حفاظت کرتے ہیں، وہ خود بھی محفوظ ہوں،معاونِ خصوصی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ مجھے فخر ہے کہ بانی چئیر مین عمران خان کے ویژن کے مطابق جنگلات کے فروغ اور تحفظ کے لئے کام کرنے کاموقع ملا، جنگلات کے فروغ، ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے مزید اقدامات اٹھائے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ بانی چئیر مین عمران خان کے ویژن کے مطابق اور وزیراعلی کی قیادت میں جنگلات کے فروغ اور تحفظ کے لئے کام کرنے کاموقع ملا ہے، جنگلات کے فروغ، ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے مزید اقدامات اٹھائے جائیں گے،انھوں نے ملازمین کو یقین دلایا کہ انکے جائز حقوق، ترقی اوراپ گریڈیشن کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھارہے ہیں، ملازمین کے مسائل و شکایات کے ازالے کے لئے میرا دفتر انکے لئے ہمیشہ کھلا رہے گا، پیر مصور خان نے ملازمین پر زور دیا کہ پوری دلجمعی اور لگن کے ساتھ اپنے سرکاری فرائض سر انجام دیں۔تقریب کے آخر میں محکمہ جنگلات اور جنگلی حیات کے شہدا کے لئے اجتماعی دعا بھی کی گئی جبکہ پشاور چڑیا گھر اور محکمہ جنگلی حیات کے فیلڈ سٹاف کو توصیفی اسناد بھی دئیے گئے،
اقوام متحدہ کے بہبود آبادی فنڈ اور ادارہ شماریات کے حکام نے ورکشاپ میں افسران کی گہری دلچسپی کو سراہا۔
پاکستان ادارہ شماریات اور اقوام متحدہ کے فنڈ برائے آبادی (یو این ایف پی اے) کے اشتراک سے پشاور کے مقامی ہوٹل میں جاری تین روزہ تربیتی ورکشاپ بعنوان “ڈیٹا کی تشریح اور استعمال” جمعرات کو اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ کا مقصد حکومتی پالیسی سازی اور منصوبہ بندی کے شعبوں میں شماریاتی ڈیٹا کے مؤثر اور سائنسی استعمال کو فروغ دینا تھا۔ورکشاپ کے دوران پاکستان ادارہ شماریات کے ماہرین نے شرکاء کو جن موضوعات پر تفصیلی تربیت فراہم کی ان میں سرکاری حسابات کا قومی ترقی میں کردار، افرادی قوت سروے کے اعدادوشمار کا تجزیاتی استعمال، انسانی، معاشی و زرعی مردم شماری، موضع شماری اور فریم سازی، انٹرایکٹو ڈیش بورڈز کی لائیو پریزنٹیشن اور پالیسی سازی میں ڈیٹا کے عملی استعمال پر گروپ مشقیں شامل تھیں۔اس موقع پر ڈیٹا ڈسیمینیشن ڈیسک بھی قائم کیا گیا جہاں شرکاء کو تعلیم، صحت، معیشت، صنعت، تجارت اور سماجی اشاریوں سے متعلق حسبِ ضرورت اعداد و شمار فراہم کئے گئے۔ اقوام متحدہ کے فنڈ برائے ابادی کے ڈیٹا انالسٹ مقدر شاہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ادارہ شماریات بہرہ ور خان نے تربیتی ورکشاپ میں خیبرپختونخوا کے قومی تعمیر و ترقی سے وابستہ مختلف محکموں کی دلچسپی کو سراہا۔ مقررین نے اس بات پر اظہار اطمینان کیا کہ پاکستان ادارہ شماریات ملک کا مرکزی شماریاتی ادارہ ہے جو شفاف، بروقت اور قابلِ اعتماد ڈیٹا کی فراہمی سے پالیسی سازوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں ادارہ شماریات سے وابستہ قومی ایوارڈ یافتہ مایہ ناز ماہرین محمد سرور گوندل اور ڈاکٹر نعیم الرحمن کی مخلصانہ کاوشوں کو بطور خاص سراہا اور بتایا کہ اس طرح کے ورکشاپس ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی، مالی شفافیت اور زمینی حقائق کی بہتر تفہیم کیلئے ناگزیر اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تربیتی ورکشاپ ڈیٹا پر مبنی منصوبہ بندی، بین الاادارہ جاتی تعاون اور قومی ڈیٹابینک کے مؤثر استعمال کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوئی ہے۔
اسلام آباد میں عجائب ترکیہ تصویری نمائش کا افتتاح، پاکستان و ترکی کے ثقافتی رشتوں کا خوبصورت اظہار
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں جمعرات کے روز ترکی کے ثقافتی ورثے پر مبنی تصویری نمائش عجائب ترکیہ کا اہتمام کیا گیا. گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور عوامی جمہوری ترکیہ کے سفیرڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے تصویری نمائش کا افتتاح کیا. نمائش کا انعقاد یونس ایمرے انسٹیٹیوٹ ترکش کلچرل سنٹر اور نیشنل پریس کلب کے باہمی اشتراک سے کیا گیا. اس موقع پر یونس ایمرے انسٹیٹیوٹ کے سربراہ خلیل توکار، پاکستان میں تیکا کے ہیڈ صالح تونا، نیشنل پریس کلب کے صدر اظہر جتوئی، سیکرٹری نیئر علی، فنانس سیکرٹری وقار عباسی، سینئر نائب صدر احتشام الحق سمیت پاکستان میں ترکیہ کے سفارتخانے اور این پی سی کے اہم عہدیداران سمیت صحافیوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔
گورنر اور ترکیہ کے سفیر نے تصویری نمائش میں آرٹسٹس کی تیار کردہ پینٹنگز کا بھی معائنہ کیا. گورنر خیبر پختونخوا نے اس اہم موضوع نیشنل پریس کلب انتظامیہ اور ایمرے انسٹیٹیوٹ کو مبارکباد پیش کی اور نمائش کو دو طرفہ ثقافتی تعلقات کے فروغ کا مثبت قدم قرار دیا.گورنر خیبر پختونخوانے اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصویریں ترکی کی تاریخ، ثقافت اور خوبصورتی کی آئینہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان بھائی چارے اور مشترکہ اقدار پر مبنی دیرینہ تعلقات ہیں جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔گورنر نے پاکستان اور ترکی کے باہمی تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بھائی چارے، تاریخی رشتوں اور مشترکہ اقدار پر مبنی ایک مضبوط رشتہ قائم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے اور یہ نمائش بھی اسی پائیدار دوستی کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی مشرق اور مغرب کا پل ہے جہاں روایت اور جدت ایک ساتھ چلتی ہیں۔ اس نمائش کے ذریعے پاکستانی عوام ترکی کی روحانی، فنکارانہ، اور معمارانہ خوبصورتی کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں گے۔
مارکیٹ بیسڈ مہارتوں سے نوجوانوں کو بااختیار بنا رہے ہیں، طفیل انجم کی زیر صدارت اجلاس
وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو مارکیٹ بیسڈ روزگار کی فراہمی اور انکی فنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے اہم اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیکریٹری انڈسٹری کمیٹی روم میں KP-REP پر پیش رفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ہے ۔ اجلاس میں سیکرٹری انڈسٹری صنعت و فنی تعلیم مسعود احمد ، ایم ڈی ٹیوٹا پروجیکٹ مینیجرKPREP امجد معراج ودیگر نے شرکت کی ہے۔اجلاس میں ایم ڈی کے پی ٹیوٹا نے فورم کو KPREP کے دو ذیلی اجزاء یعنی سٹار اپ کیپٹل برائے خود روزگار اور جاب مارکیٹ انٹیگریشن کی پیشرفت کے بارے میں تفصیلی بریفننگ دی ۔ فورم نے KPTEVTA کی اب تک کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور منصوبے پر بروقت عملدرآمد کے لیے انٹرویو اور درخواست گزار کی جانچ پڑتال کے عمل کو تیز کرنے پر زور دیا ۔ اجلاس میں ایم ڈی کے پی ٹیوٹا نے منصوبے کے نفاذ میں درپیش بنیادی مسائل اور چیلنجز پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی نے کہا کہ چھوٹے مسائل کو مشترکہ طور پر حل کیا جا سکتا ہے جبکہ بڑے مسائل کو مناسب فیصلوں کے لیے آئندہ اجلاس میں پراجیکٹ سٹیئرنگ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ معاون خصوصی نے اس بات پر زور دیا کہ TEVT کا شعبہ نوجوانوں کو مارکیٹ سے متعلقہ مہارتوں سے آراستہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس طرح تعلیم اور روزگار کے درمیان فاصلے کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ تربیت اور ملازمت کے تجربے سے روزگار میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ خود روزگار کے لیے گرانٹس انٹرپرینیورشپ کو فروغ دیتے ہیں بے روزگاری کو کم کرتے ہیں اور مقامی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اکاؤنٹنٹ جنرل کا ملاکنڈ کا دورہ، مالیاتی شفافیت اور جدید نظام کے فروغ پر زور
اکاؤنٹنٹ جنرل خیبر پختونخوا خالد محمود نے ضلع ملاکنڈ کا ایک روزہ دورہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر ملاکنڈحامد الرحمٰن نے اکاؤنٹنٹ جنرل خیبر پختونخوا کی ملاکنڈ آمد پر پُرتپاک استقبال کیا اور ان کے ہمراہ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس ملاکنڈ کا دورہ بھی کیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر ملاکنڈ، اکاؤنٹس آفیسر ڈی سی آفس، صوبیدار میجر ملاکنڈ لیویز اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ اکاؤنٹنٹ جنرل کو ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس کی ذمہ داریوں، کارکردگی، ضلعی سطح پر مالیاتی امور، سرکاری فنڈز کے شفاف استعمال، تنخواہوں و پنشن کی ادائیگی کے نظام اور جاری مالیاتی اصلاحات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ڈپٹی کمشنر ملاکنڈ اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر ملاکنڈ نے اکاؤنٹنٹ جنرل کو ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس کے مسائل کے بارے میں آگاہ کیا، جس پر انہوں نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے اکاؤنٹس آفس کی مجموعی کارکردگی کو سراہا اور شفافیت، مالی نظم و ضبط، مؤثر جوابدہی اور جدید مالیاتی نظام کے فروغ پر زور دیا۔
ضم اضلاع میں امن و ترقی کے لیے جرگوں کے انعقاد اور دہشتگردی کے خاتمے کا عزم۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا، جس میں ضم اضلاع سمیت صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل عمر احمد بخاری، چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، آئی جی پولیس ذوالفقار حمید، مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف، اور دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام شریک ہوئے، جبکہ ضلع باجوڑ، خیبر اور شمالی وزیرستان سے ارکانِ اسمبلی کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا۔ اجلاس کے دوران شرکاء کو سیکیورٹی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، اور دہشتگردی کے خلاف مربوط، مؤثر اور بااعتماد اقدامات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سول انتظامیہ، پولیس، سکیورٹی فورسز اور انٹیلیجنس اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ دہشتگردی جیسے ناسور کا جڑ سے خاتمہ ممکن ہو سکے۔ اجلاس کے بعد اپنے ویڈیو پیغام میں وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈاپور نے خیبرپختونخوا کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدامنی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، اور حکومت، عوام اور اداروں کو مل کر امن قائم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن ممالک پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے درپے ہیں، اور دہشتگرد انہی کے آلہ کار ہیں۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ دہشتگرد آبادیوں میں پناہ لے کر عوام اور فورسز کے درمیان فاصلے پیدا کرنا چاہتے ہیں، لیکن حکومت عوام کے تعاون سے ان کو ناکام بنائے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کی نشاندہی کریں کیونکہ یہ نہ صرف قانون بلکہ دینی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ 2 اگست سے ڈویژنل سطح پر جرگوں کا آغاز کیا جا رہا ہے، جن میں مقامی مشران، سیاسی قائدین اور سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے گی۔ اس عمل کے بعد ایک گرینڈ جرگہ ہوگا جس میں امن کے قیام کے لیے ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے معدنی وسائل عوام کی ملکیت ہیں اور ان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ جھوٹے بیانیے پھیلانے والے عناصر کی نشاندہی کر کے ان کو بے نقاب کرنا ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا
“ہماری حکومت، ہماری افواج اور ہمارے عوام ایک پیج پر ہیں۔ دہشتگردی کے خاتمے کی یہ جنگ ہم سب نے مل کر لڑنی ہے اور اللہ کی مدد سے ہم یہ جنگ جیت چکے ہیں۔
محکمہ مواصلات و تعمیرات خیبرپختونخوا کے تحت اہم اجلاس – انفراسٹرکچر مسائل اور منصوبہ جاتی اصلاحات زیرغور
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے مواصلات و تعمیرات، محمد سہیل آفریدی کی زیرصدارت محکمانہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری مواصلات و تعمیرات محمد اسرار، مینجنگ ڈائریکٹر انجینئر سہیل ادریس، چیف انجینئرز اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں مرکزی ڈیزائن آفس کی پیش کردہ تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی گئی جس میں ادارے کی موجودہ کارکردگی، بنیادی ڈھانچے کی کمزوریاں، اور اصلاحات کے لیے مجوزہ اقدامات زیر بحث آئے۔ اجلاس کے دوران مختلف اضلاع بالخصوص سوات میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات، تباہ شدہ پلوں، سڑکوں کی مرمت اور بجٹ کے مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ چیف انجینئرز نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ موجودہ حالات میں ڈیزائن اور تعمیراتی منصوبوں کے لیے درکار وسائل کی شدید ضروت ہے۔ سڑکوں اور پلوں کی بروقت مرمت کے لیے فنڈز کی عدم فراہمی سے ترقیاتی کاموں میں تاخیر ہو رہی ہے۔ معاونِ خصوصی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام متاثرہ انفراسٹرکچر کا تفصیلی سروے کر کے ترجیحی بنیادوں پر مرمتی منصوبے تیار کیے جائیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت عوامی مسائل کے حل اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ اجلاس میں سنٹرل ڈیزائن آفس کو جدید خطوط پر استوار کرنے، سرویئنگ اور واٹر ٹیسٹنگ یونٹس کے قیام، انجینئرز اور آرکیٹیکٹس کی پیشہ وارانہ تربیت، اور ڈیزائن سافٹ ویئر کی فراہمی جیسے اقدامات پر بھی اتفاق رائے پایا گیا۔ معاونِ خصوصی محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ محکمہ مواصلات و تعمیرات خیبرپختونخوا کو مالی اور انتظامی خودمختاری کے ساتھ ایک مضبوط ادارہ بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ترقیاتی منصوبے بہتر طریقے سے مکمل کیے جا سکیں۔
عوامی مسائل کا فوری حل ہماری اولین ترجیح ہے، دفتر ہر وقت عوام کے لیے کھلا ہے: ڈاکٹر شفقت ایاز
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز نے اپنے دفتر میں حلقہ انتخاب سے آئے ہوئے عوامی وفد سے ملاقات کی۔ ملاقات کرنے والوں میں انصاف یوتھ وِنگ ملاکنڈ کے نائب صدر ناصر خان، جنرل سیکرٹری شعیب اور دیگر ساتھی شامل تھے۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے وفد کے مسائل اور تجاویز کو نہایت توجہ سے سنا اور موقع پر موجود متعلقہ افسران کو فوری، شفاف اور مؤثر اقدامات کی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کا فوری حل تحریک انصاف کی حکومت کی اولین ترجیح ہے، کیونکہ یہی عمران خان کے عوامی خدمت کے نظریے کی بنیاد ہے — ایک ایسی ریاست جہاں حکمران طبقہ عوام کا خادم ہو، ان کے مسائل میں شریک ہو اور ہر شہری کو اس کی دہلیز پر انصاف اور سہولت میسر ہو۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی قیادت میں صوبائی حکومت اسی وژن کو عملی شکل دے رہی ہے جس کی بنیاد بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت ہر سطح پر عوامی مسائل کے حل، شفاف طرزِ حکمرانی اور عام آدمی کو بااختیار بنانے کے لیے بھرپور جدوجہد کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کا دفتر عوام کے لیے ہر وقت کھلا ہے، اور وہ خود ہر وقت عوامی خدمت کے لیے موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کا پیغام ہے کہ عوامی نمائندہ صرف الیکشن کے دنوں میں نظر نہ آئے بلکہ روزمرہ کی زندگی میں عوام کے ساتھ رہے، ان کے دکھ درد کو سمجھے اور اپنی ذمہ داری کو عبادت کا درجہ دے۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے وفد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے مسائل کو نظرانداز کرنا حکومت کی پالیسی نہیں، بلکہ ہم عوام کے اعتماد کو اپنی سب سے بڑی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انشاء اللہ ہر مسئلے کا حل نکالا جائے گا اور عوامی خدمت کا سفر مزید تیزی سے جاری رکھا جائے گا۔
مشیر صحت احتشام علی نے محکمہ صحت کے سب سے بڑے سولرائزیشن منصوبے کا افتتاح کر دیا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر صحت احتشام علی نے کہا ہے کہ صوبے میں بنیادی صحت کی سہولیات کو جدید، پائیدار اور خود کفیل بنانے کے لیے محکمہ صحت نے عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج دیہی مرکز صحت ریگی للمہ، پشاور میں 20 کے وی سولرائزیشن منصوبے کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سیکرٹری صحت خیبرپختونخوا شاہد اللہ، ہیلتھ کیئر امپرومنٹ پروجیکٹ (HCIP) کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر بلال، محکمہ صحت کے افسران، مقامی نمائندگان اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔مشیر صحت نے بتایا کہ ہیلتھ کیئر امپرومنٹ پروجیکٹ (HCIP) کے تحت آئندہ چھ ماہ کے دوران 195 پرائمری ہیلتھ کیئر مراکز کو سولر سسٹم پر منتقل کیا جائے گا، جن میں کیٹیگری C اور D کے مراکز صحت شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پشاور، نوشہرہ، صوابی اور ہری پور کے چار اضلاع میں 9 مراکز صحت پر سولرائزیشن کا عمل جاری ہے، جن میں سے پشاور میں 3 مراکز صحت کو اس مرحلے میں سولر پر منتقل کیا جا رہا ہے، جن میں ریگی للمہ کا RHC بھی شامل ہے۔احتشام علی کا کہنا تھا کہ سولر سسٹم کی بدولت ان مراکز میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی ممکن ہوگی، جس سے عوام کو بروقت اور بہتر طبی سہولیات دن رات میسر آ سکیں گی۔ اس اقدام سے نہ صرف صحت کی سہولیات مستحکم ہوں گی بلکہ یہ ماحولیاتی تحفظ کی جانب بھی ایک مثبت قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ان مراکز صحت کی مرمت و تزئین اور جدید طبی آلات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے گا تاکہ یہ مراکز 24/7 فعال رہ سکیں۔مشیر صحت نے کہا کہ HCIP کے تحت چاروں اضلاع میں بنیادی صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے اب تک 3.3 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں جس کے تحت نشتر آباد اسپتال پشاور میں عوام کو مفت علاج کی سہولت کی فراہمی پر 800، بی ایچ یوز اور آر ایچ سیز میں سیکیورٹی و صفائی عملہ کی فراہمی پر 870، مفت ادویات اور فیملی پلاننگ سہولیات پر 720، ہیلتھ کیئر پرووائیڈرز کی تربیت پر 254 اور ہیلتھ پروموٹنگ اسکولز پر 25 ملین روپے خرچ کیے گئے۔مشیر صحت نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو معیاری، مفت اور بلاتعطل صحت کی سہولیات ان کے قریبی مراکز میں فراہم ہوں، اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
