Home Blog Page 106

چترال کے دور دراز علاقوں کو صحت کی مفت اور بروقت سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

مشیر صحت خیبرپختونخوا احتشام علی نے کہا ہے کہ چترال کے عوام کو درپیش صحت کے مسائل کا بخوبی ادراک ہے اور صوبائی حکومت دور دراز علاقوں کو معیاری، مفت اور بروقت صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔یہ بات انہوں نے چترال کے محکمہ صحت سے متعلق ترقیاتی منصوبوں پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی محترمہ ثریا بی بی، سپیشل سیکرٹری ہیلتھ شریف حسین، ڈی جی پبلک ہیلتھ سروسز اکیڈمی ڈاکٹر عبدالوحید، چیف ایگزیکٹیو صحت سہولت پروگرام ڈاکٹر ریاض تنولی اور انصاف ڈاکٹرز فورم کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں چترال میں سرکاری نرسنگ کالج کے قیام کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ڈی جی ڈاکٹر عبدالوحید نے بتایا کہ نرسنگ کالج کے لیے مجوزہ 15 کنال اراضی پر قانونی پیچیدگیوں کے باعث تعمیراتی کام کا آغاز نہیں ہوسکا۔ مشیر صحت نے متعلقہ حکام کو فوری طور پر اس منصوبے کا پی سی ون تیار کرکے جمع کرانے کی ہدایت جاری کی تاکہ تعمیراتی کام کا آغاز جلد از جلد ممکن ہو سکے۔چترال میں ماہر امراض نسواں (گائناکالوجسٹ) کی عدم دستیابی پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ مشیر صحت احتشام علی نے سپیشل سیکرٹری ہیلتھ کو خصوصی ہدایت کی کہ اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ اس موقع پر سپیشل سیکرٹری ہیلتھ شریف حسین نے بتایا کہ فکسڈ پے پر گائناکالوجسٹ اور دیگر ڈاکٹرز کی تعیناتی کے لیے سمری محکمہ خزانہ کو بھیج دی گئی ہے، جس کی منظوری کے بعد تقرریوں کا عمل جلد شروع ہو جائے گا۔انصاف ڈاکٹرز فورم کے صوبائی صدر ڈاکٹر نبی جان آفریدی نے اجلاس کو یقین دلایا کہ فورم کی جانب سے تین ماہ کے لیے چترال میں گائناکالوجسٹ کی مفت خدمات فراہم کی جائیں گی۔اجلاس میں صحت سہولت پروگرام کی چترال میں عارضی معطلی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر ریاض تنولی نے بتایا کہ بونی میڈیکل سنٹر، گرم چشمہ، اور شاہگرام سمیت دیگر مراکز صحت کے لیے گریڈ 5 کے نئے ریٹس تجویز کیے گئے ہیں۔ پالیسی بورڈ سے منظوری کے بعد یہ ریٹس فوری طور پر ان ہسپتالوں پر نافذ ہوں گے تاکہ عوام صحت کارڈ کے تحت مستفید ہو سکیں۔مزید برآں، شاہگرام اور گرم چشمہ میں آغا خان ہیلتھ سروسز کے ساتھ ایم او یو کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ اجلاس میں اس ایم او یو کی فوری تجدید کے لیے متعلقہ فورمز کو اقدامات کی ہدایت دی گئی۔اجلاس میں اپر اور لوئر چترال کی انتظامی تقسیم کے بعد محکمہ صحت کے ٹیکنیکل اسٹاف کی تقسیم اور نئی تقرریوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، جس پر مشیر صحت نے متعلقہ حکام کو فوری کارروائی کی ہدایت جاری کی۔مشیر صحت نے کہا کہ محکمہ صحت چترال کے عوام کی خدمت کے لیے پرعزم ہے اور ان کے دیرینہ مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا رہا ہے۔

محکمہ بلدیات خیبر پختونخوا اور نادرا کے درمیان سول رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹم کے توسیعی معاہدے پر دستخط

محکمہ بلدیات خیبر پختونخوا اور نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے مابین سول رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹم کے توسیعی معاہدے پر منگل کے روز پشاور میں ایک اہم تقریب میں دستخط کیے گئے۔ اس موقع پر وزیرِ بلدیات خیبر پختونخواارشد ایوب خان نے تقریب کی صدارت کی جبکہ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ ثاقب رضا اسلم، ڈائریکٹر جنرل لوکل گورنمنٹ خیبرپختونخوا جنید خان اور ڈائریکٹر جنرل نادرا خیبر پختونخوا خالد خان بھی اس موقع پر موجود تھے۔ توسیعی معاہدے کے تحت سول رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹم موبائل ایپلیکیشن کا اجراء عمل میں لایا گیا ہے، جو شہریوں کو ان کی بنیادی معلومات کی رجسٹریشن اور حصول کو آسان بنانے میں مدد فراہم کرے گا۔ وزیر بلدیات ارشد ایوب خان نے اس اقدام کو ملک کی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سول رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹم موبائل ایپلیکیشن کا اجرا نہ صرف رجسٹریشن کے عمل کو شفاف اور مؤثر بنائے گا بلکہ دیہی اور دور دراز علاقوں کے شہریوں کو بھی ان کی قانونی شناخت کے حقوق تک آسان رسائی فراہم کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ نادرا اور محکمہ بلدیات کے درمیان اشتراک عمل صوبے میں ڈیجیٹل گورننس کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔تقریب کے آخر میں تمام شرکاء نے باہمی تعاون کے اس نئے باب پر اطمینان کا اظہار کیا اور اسے خیبر پختونخوا میں جدید اور مربوط شہری سہولیات کی فراہمی کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔

آبادی میں بے ہنگم اضافہ سنگین مسئلہ، علماء رہنمائی کریں: معاون خصوصی ملک لیاقت علی

وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی ملک لیاقت علی نے کہا ہے آبادی میں بے ہنگم اضافہ سے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ اگر آبادی کے اس سیلاب کے آگے بند نہیں باندھا گیا تو اگلے 27 سال کے دوران پاکستان کی آبادی 49 کروڑ ہو جائے گی جس کو سنبھالنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔ علماء کرام اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس حوالے سے قوم کی رہنمائی کریں تاکہ ہم اپنی نئی نسل کو ایک محفوظ اور توانا مستقبل دے سکیں۔ وہ مقامی شادی ہال میں محکمہ بہبود آبادی کے زیر اہتمام یو این ایف پی کے تعاؤن سے علماء کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ کانفرنس میں ڈائریکٹر جنرل بہبود آبادی ریحان گل خٹک، بہبود آبادی کے ضلعی افسران، مردان بونیر اور صوابی کے ڈسٹرکٹ و تحصیل خطباء اور علماء کرام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علمائے کرام نے بہبود آبادی کے حوالے سے اسلامی تعلیمات، بچوں کو ماں کا دودھ پلانے/رضاعت کے دورانیہ پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ بعض شرائط کے ساتھ معاشرے کی فلاح اور انسانیت کی بھلائی کے لیے آبادی کی منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی ملک لیاقت علی نے کہا کہ بچے پیدا کرنا کمال نہیں بلکہ ان کی بہتر نگہداشت، تربیت اور ان کو تعلیم صحت اور دیگر سہولیات کی فراہمی بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں بے ہنگم اضافہ سے غربت بے روزگاری اور سماجی برائیوں میں اضافہ ہوتا ہے اس لیے اس اہم مسئلہ پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے اور ایک ٹھوس لائحہ عمل بناکر اس پر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ علماء قوم کی رہنمائی کے منصب پر فائز ہیں اس لیے وہ اس حوالے سے اپنے خطبات میں ان مسائل پر روشنی ڈالیں اور متوازن بیانیہ سے متعلق عوام میں آگاہی پیدا کریں۔

حقیقی آزادی تحریک کو مؤثر بنانے کے لیے مشاورت، 5 اگست کا احتجاج تاریخ ساز ہوگا: ڈاکٹر شفقت ایاز

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز نے پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے صدر و چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی جنید اکبر خان سے اُن کے دفتر میں ملاقات کی۔ اس موقع پر ایم این اے اصغر علی اور ایم پی اے ملک عدیل بھی موجود تھے۔ملاقات میں ملک کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال، 5 اگست کے احتجاج کی حکمت عملی، اور بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی قیادت میں جاری حقیقی آزادی کی تحریک کو مزید مؤثر اور منظم انداز میں آگے بڑھانے پر تفصیلی مشاورت ہوئی۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے کہا کہ چیئرمین عمران خان پاکستان کے عوام کی آواز اور ان کی امید کا مرکز ہیں۔ اُن کی قیادت میں قوم نے حقیقی آزادی کا شعور حاصل کیا ہے، اور اب ہر کارکن پر لازم ہے کہ وہ اس تحریک کو اگلے مرحلے تک لے جانے میں اپنا کردار ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں صوبائی حکومت نہ صرف آئینی اور جمہوری بنیادوں پر قائم ہے بلکہ پارٹی منشور کے مطابق عوام کی فلاح و بہبود، ترقی، اور سیاسی خودمختاری کے لیے بھی بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے مزید کہا کہ پانچ اگست کا احتجاج ملک کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہو گا، جس میں خیبرپختونخوا بھر سے کارکنان بھرپور شرکت کریں گے اور یہ پیغام دیں گے کہ قوم عمران خان کے بیانیے کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے پارٹی صدر جنید اکبر خان کی تنظیمی کاوشوں اور کارکنان سے مسلسل رابطے کو سراہا اور کہا کہ پارٹی کی ضلعی و تحصیل سطح پر مضبوطی کے لیے یہی تسلسل درکار ہے۔

تیراہ واقعے کے زخمیوں کی عیادت، خیبر پختونخوا حکومت متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے: معاونِ خصوصی

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے مواصلات و تعمیرات محمد سہیل آفریدی نے قومی اسمبلی کے رکن شاہد خٹک اور صوبائی اسمبلی کے رکن جوہر محمد کے ہمراہ ایف سی ہسپتال شاہ کس کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے تیراہ میں فائرنگ سے زخمی افراد کی عیادت کی، ان کی خیریت دریافت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔اس موقع پر محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ حکومت خیبر پختونخوا تیراہ واقعے کے متاثرین کے غم میں برابر کی شریک ہے اور دکھ و تکلیف کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور تیراہ واقعے کی خود نگرانی کر رہے ہیں اور مسلسل متعلقہ انتظامیہ سے رابطے میں ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے قبائلی عمائدین کا جرگہ بھی پشاور میں طلب کیا ہے، جہاں ان کے مسائل سنے جائیں گے اور پائیدار حل کے لئے مزید اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی فیصلے پر پہنچنے سے پہلے مقامی سطح پر عوامی شمولیت یقینی بنانے کے لئے جرگوں کے انعقاد کا سلسلہ بھی شروع کیا جارہا ہے۔معاونِ خصوصی نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام اور پائیدار امن یقینی بنانے کے لئے سیاسی ہم آہنگی کے تحت گزشتہ ہفتے آل پارٹیز کانفرنس بھی اسی مقصد کے لیے بلائی تھی، جس میں بدقسمتی سے بعض اپوزیشن جماعتوں نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت متاثرہ افراد کے لئے مالی امداد کا اعلان کر چکی ہے اور اس مشکل وقت میں حکومت ہر متاثرہ خاندان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

سوات کے باصلاحیت تائیکوانڈو کھلاڑیوں کو ایک لاکھ روپے کے اعزازی چیک، وزیر برائے لائیو سٹاک

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان نے سوات سٹی میئر شاہد علی خان کے ہمراہ سوات کا نام ملکی اور بین الاقوامی سطح پر روشن کرنے والے تین باصلاحیت تائیکوانڈو اسٹارزکھلاڑیوں عائشہ آیاز، محمد عامر اور عبداللہ کو ایک، ایک لاکھ روپے کے اعزازی چیک پیش کیے۔ تقریب مئیر سٹی کے دفتر میں ایک پروقار انداز میں منعقد ہوئی جس کا مقصد نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی کامیابیوں کو سراہنا تھا۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان نے اس موقع پر کہا کہ سوات کے یہ سپوت ہمارے فخر کا باعث ہیں اور حکومت خیبرپختونخوا نوجوانوں کی فلاح و ترقی کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کھیل نوجوان نسل کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے اور انہیں صحت مند معاشرے کا فرد بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان ہمارے معاشرے کا روشن مستقبل اور قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کے ٹیلنٹ کو ہم ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ سوات کے باصلاحیت نوجوانوں نے ہر میدان میں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا ہے اور صوبائی حکومت ان کی ہر ممکن حوصلہ افزائی اور سرپرستی کرے گی۔سٹی میئر شاہد علی خان نے بھی کھلاڑیوں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ سوات کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت ہے جنہیں مزید مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

وزیر مال خیبرپختونخوا کی زیر صدارت محکمہ ریونیو اینڈ اسٹیٹ کا ماہانہ کار کردگی جائزہ اجلاس

خیبرپختونخوا کے وزیر مال نزیر احمد عباسی کی زیر صدارت محکمہ ریونیو اینڈ اسٹیٹ خیبر پختونخوا کا ماہانہ جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ کی ماہانہ کار کردگی اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کی پیش رفت کے حوالے سے جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ خیبر پختونخوا بشمول ضم اضلاع کے تمام متعلقہ پراجیکٹ ڈائریکٹرز نے شرکت کی اور اپنے منصوبہ جات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس کے دوران صوبائی وزیرنے تمام پراجیکٹ ڈائریکٹرز کو ہدایت کی کہ وہ ہر منصوبے کے لیے ماہانہ اہداف مقرر کریں اور ان کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اہداف کے حصول کا ہر مہینے باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور پیش رفت کا مستقل بنیادوں پر مشاہدہ کیا جائے گا۔انہوں نے ای-اسٹامپ پیپر کے حوالے سے ہدایت کی کہ چونکہ اس نظام کا نفاذ ہو چکا ہے، اس لیے اس کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ عوام کو اس جدید سہولت سے فائدہ پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو اس عمل میں تیزی لانے کی بھی تاکید کی۔وزیر ریونیو نے مزید کہا کہ جن منصوبوں میں کسی قسم کے رکاوٹیں یا مسائل درپیش ہیں، ان کے حل کے لیے مقامی عوام اور منتخب عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لے کر فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ جاری ترقیاتی سرگرمیوں میں تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔ وزیر مال نے کہا کہ تمام افسران اپنی ذمہ داریاں بروقت اور سنجیدگی سے نبھا ئیں تاکہ عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی ممکن ہو اور ریونیو سسٹم کو مزید شفاف اور موثر بنایا جا سکے۔

خیبرپختونخوا حکومت کا خواتین کو ڈیجیٹل مہارتوں سے بااختیار بنانے کا عزم

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز نے کہا ہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے وژن کے مطابق صوبے کی خواتین کو ڈیجیٹل مہارتوں سے لیس کر کے انہیں بااختیار بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ خواتین کو ٹیکنالوجی، کاروبار اور ڈیجیٹل صلاحیتوں کے میدان میں آگے لانا ایک ترقی یافتہ، جدید اور خود کفیل خیبرپختونخوا کی جانب اہم قدم ہے۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز (آئی ایم سائنسز) پشاور میں ”خیبرپختونخوا اپ اسکل: خواتین کے لیے ڈیجیٹل اور کاروباری مہارتیں ” کے عنوان سے منعقدہ خصوصی تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت خواتین کو ڈیجیٹل انقلاب کا حصہ بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ حکومت سائنس و ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ اور خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ کے ذریعے ایسے تمام منصوبے شروع کر رہی ہے جن کے ذریعے خواتین کو تربیت دی جائے گی، ان کی کاروباری سوچ کو اجاگر کیا جائے گا اور انہیں جدید ڈیجیٹل مارکیٹ کا حصہ بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں خواتین کے لیے خصوصی تربیتی پروگرامز کا آغاز کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے وہ آئی ٹی اور ڈیجیٹل بزنس میں مہارت حاصل کر کے باعزت روزگار حاصل کر سکیں گی۔ یہ اقدامات صرف انفرادی ترقی کے لیے نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ ڈیجیٹل انٹرپرینیورشپ کو فروغ دے کر خواتین کو معاشی میدان میں خود کفیل بنایا جائے گا، اور وہ خود اپنا کاروبار شروع کرنے کے قابل ہوں گی۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے مزید کہا کہ ان تمام اقدامات سے ایک ایسے خیبرپختونخوا کی بنیاد رکھ رہے ہیں جو جدید، بااختیار، اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہوگا، جہاں خواتین ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں گی۔انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت اور آئی ایم سائنسز کے درمیان بہت جلد ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے جائیں گے، جس کے تحت خواتین کی ڈیجیٹل مہارتوں کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔ تاکہ خواتین کو ہنر سکھا کر انہیں خودمختار بنایا جا سکے۔

خیبرپختونخوا میں نوجوانوں کے لیے ایمپلائی ایبل ڈیجیٹل اسکلز منصوبے کا افتتاح

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سائنس، ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز نے آج خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے فلیگ شپ منصوبے ”ایمپلائی ایبل ڈیجیٹل اسکلز انیشیٹو فار یوتھ آف خیبرپختونخوا” کا باضابطہ افتتاح کیا۔افتتاحی تقریب حیات آباد پشاور میں خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ کے دفتر میں منعقد ہوئی، جس میں آئی ٹی ماہرین، اساتذہ، نوجوانوں، سول سوسائٹی نمائندگان اور میڈیا کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شفقت ایاز نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا وژن ہے کہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مہارتوں اور فری لانسنگ کے میدان میں آگے لایا جائے تاکہ وہ معاشی طور پر خودمختار بن سکیں۔“انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، جس میں ڈیجیٹل اسکلز پروگرامز کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت ہزاروں نوجوانوں کو مفت تربیت دی جائے گی تاکہ وہ عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ سے جُڑ کر فری لانسنگ اور آن لائن روزگار حاصل کر سکیں۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے کہا کہ ہم ڈیجیٹل معیشت کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، اور حکومت کا کام ہے کہ ان صلاحیتوں کو اجاگر کر کے انہیں عالمی سطح کے مواقع فراہم کرے۔ معاونِ خصوصی نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ، سائنس و ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مل کر ایسے مزید پروگرامز کا بھی آغاز کرے گا جن سے نہ صرف نوجوان بلکہ خواتین، خصوصی افراد اور دیہی علاقوں کے طلبہ و طالبات بھی مستفید ہو سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل خیبرپختونخوا کا خواب تب ہی ممکن ہے جب ہم اپنے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، کوڈنگ، گرافکس، ویب ڈویلپمنٹ، ایپ ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور دیگر اسکلز میں تربیت دیں۔“تقریب کے اختتام پر میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے معاونِ خصوصی نے کہا کہ ہم نوجوانوں پر سرمایہ کاری کو سب سے اہم ترجیح سمجھتے ہیں۔ یہ اسکلز پروگرام نہ صرف خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو روزگار دے گا بلکہ ملکی معیشت کو بھی مضبوط بنانے میں کردار ادا کرے گا۔“

صوبائی حکومت مویشی پال زمینداروں کی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات اٹھارہے – صوبائی وزیر

خیبرپختونخوا کے وزیر لائیو سٹاک، فشریز و امداد باہمی فضل حکیم خان یوسفزئی نے گورنمنٹ کیٹل بریڈنگ اینڈ ڈیری فارم ہری چند ضلع چارسدہ کا اچانک دورہ کیا جہاں پر انہوں نے مختلف سیکشنز کا معائنہ کیا اور فارم میں مویشیوں کے لئے دی جانے والی سہولیات کے معیار کا جائزہ لیا۔ مختلف سیکشن، لیبارٹریز، سیمنز پروڈکشن یونٹ اور مویشیوں کو دی جانے والی خوراک ونڈا کا بھی معائنہ کیا۔انہوں نے اس موقع پر ہدایت کی کہ مویشیوں کو معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے سٹاف کی حاضری چیک کی اور ہدایت کی کہ ڈیری فارم سے حاصل ہونے والے دودھ کی فروخت میں مقامی افراد کو ترجیح دی جائے تاکہ مقامی لوگ کو معیاری و غذائیت سے بھرپور دودھ مل سکے۔اس کے علاؤہ فارمز سے حاصل ہونے والی پیداوار میں مقامی افراد کو ترجیح دی جائے۔ فضل حکیم خان یوسفزئی کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی سربراہی میں لائیو سٹاک کے شعبے کی ترقی کیلئے اقدامات اٹھارہے ہیں۔ مویشیوں کی بہترین افزائش نسل میں ہری چند فارمز کا کردار قابل ستائش ہے۔ صوبائی حکومت مویشی پال زمینداروں کی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات اٹھاررہا ہے۔مصنوعی نسل کشی مراکز سے مویشی پال حضرات کو ہرممکن تعاون فراہم کیا جائے گا تاکہ مویشی پال لوگوں کو نسل کشی کے امور میں مسائل کا سامنا نہ ہو اور بہترین قسم کے جانوروں کی نسل کو فروغ دیا جاسکے۔ دورے کے دوران ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک توسیع ڈاکٹر اصل خان اور محکمہ لائیو اسٹاک کے متعلقہ حکام موجود تھے۔ دورے کے دوران صوبائی وزیر لائیو سٹاک فشریز و امداد باہمی فضل حکیم خان یوسفزئی کو گورنمنٹ کیٹل بریڈنگ اینڈ ڈیری فارم ہری چند ضلع چارسدہ کی کارکردگی اور دیگر امور کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔ دورے کے دوران ڈائریکٹر ڈیری فارم ڈاکٹر مومن خان نے گورنمنٹ کیٹل بریڈنگ اینڈ ڈیری فارم ہری چند کے بارے میں بتایا کہ ڈیری فارم کو رائل ڈچ حکومت کے امدادی پروگرام کے تحت سال 1982 میں قائم کیا گیا۔ خیبر پختونخوا میں واحد غیر ملکی کیٹل بریڈنگ اور ڈیری فارم سال 1982 میں 90 فریزین گائے اور 1 بیل درآمد کیا گیا۔ بعد میں فریزین گائے کے تبادلے کے ذریعے حکومت پنجاب سے 30 جرسی گائے حاصل کی گئیں۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے فارم کی سرگرمیوں میں گہری دلچسپی لی اور اس کی کارکردگی کو سراہا اور فارم کے اس معیار کو برقرار رکھنے پر زور دیا اور ہدایت کی کہ صوبے کے زمینداروں کی خدمت بہترین طریقے سے جاری رکھیں۔