Home Blog Page 108

From a Simple Post to a Movement

It started with a simple message, a plea for safer celebrations. I hit “post” on a video urging people to say no to aerial firing, hoping it might change a few minds.

I never expected it to turn into a movement.

But just hours later, something incredible happened. 🔇
Search “Say no to aerial firing” on Facebook—my video is taking over the feed.

It’s not just one post anymore; it’s a wave. People are sharing, reposting, and tagging their friends. The message is spreading across every platform, proving that peace is something we all want.

Seeing my video pop up everywhere isn’t about fame—it’s proof that kindness can go viral.

Let’s keep spreading the peace. Together, we can turn a celebration into a safe space for everyone.

خیبر پختونخوا حکومت پانی کے ضیاع کو روکنے اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے، شفیع جان

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ عالمی یوم آب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پانی زندگی، صحت عامہ اور پائیدار ترقی کی بنیاد ہے۔ محفوظ، قابل اعتماد اور منصفانہ انداز میں پانی کی فراہمی یقینی بنانا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت پانی کے ضیاع کو روکنے اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار لوکل گورننس سکول حیات آباد میں یونیسیف ، واٹسن سیل اشتراک سے عالمی یوم آب کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے بطور مہمان خصوصی خطاب میں کیا۔ سیمنار میں آبی ماہرین سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ سیمینار میں پانی کی اہمیت ، پینے کے صاف پانی کی فراہمی سمیت دیگر امور پر سیر حاصل بحث ہوئی۔معاون خصوصی شفیع جان نے کہا کہ بانی چئیرمن عمران خان کے ویژن کے مطابق وزیراعلی سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبے میں ماحولیات،جنگلات سمیت ہر شعبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لئے عملی اقدامات جاری ہیں۔ خیبرپختونخوا حکومت عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے اور صاف پانی کی فراہمی کے لئے اربوں روپے کے منصوبوں پر کام کررہی ہے۔ ان منصوبوں کے تحت خیبر پختونخوا سٹیز امپرومنٹ پراجیکٹ کے تحت صوبے کے پانچ بڑے شہروں میں پانی کی ترسیل اور فلو واٹر میٹرز کی تنصیب پر کام جاری ہے۔ اس طرح پانی کے ضیاع کو روکنے کے لئے ٹیوب ویلوں میں سپروائزری کنٹرول اینڈ ڈیٹا ایکوزیشن کے ذریعے پانی کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی۔ اسی طرح پینے کے صاف کی فراہمی کے لئے بوسیدہ پائپ لائنز کی تبدیلی پر بھی کام جاری ہے۔ بوسیدہ پائپ لائنز کی تبدیلی سے پانی کے ضیاع میں کمی اور معیار میں بہتری آئے گی،
انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے آبادی کا ایک بڑا حصہ تاحال محفوظ پینے کے صاف پانی تک رسائی سے محروم ہے۔صوبائی حکومت اگلے تین سال میں صوبے کے ہر گھر تک صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہیں۔ آبی تحفظ اور صفائی ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔صرف صاف پانی کی فراہمی کافی نہیں جب تک اس کے ساتھ مناسب صفائی اور حفظان صحت کا نظام موجود نہ ہو۔شفیع جان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں بہتر منصوبہ بندی، مؤثر حکمرانی اور پانی کی فراہمی و صفائی کے نظام میں پائیدار سرمایہ کاری پر توجہ دینا ہوگی۔ دیرپا بہتری کے لیے حکومتی اداروں، جامعات، کمیونیٹیز کے درمیان مضبوط تعاون ناگزیر ہے۔ خیبرپختونخوا میں صفائی اور حفظان صحت کے حوالے سے یونیسیف کا کردار قابل تحسین ہے۔ ہمیں مل کر پانی کے ضیاع کو روکنا ہوگا اور آنے والی نسلوں کے لیے اس قیمتی وسیلے کو محفوظ بنانا ہوگا۔ بحیثیت قوم ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی ، پانی کا بے جا اور غیر ضروری استعمال ترک کرنا ہوگا۔

وزیر صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان کی ہدایات پر پیرامیڈیکل ڈپلومہ امتحانات کی رول نمبر سلپس جاری

وزیر صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان کی ہدایات کی روشنی میں فیکلٹی آف پیرامیڈیکل اینڈ الائیڈ ہیلتھ سائنسز (FPAHS) نے ڈپلومہ کورسز کے سالانہ امتحانات (مارچ 2026) کے لیے رول نمبر سلپس اپنی آن لائن ویب پورٹل پر اپ لوڈ کر دی ہیں۔فیکلٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق تمام متعلقہ پیرامیڈیکل کالجز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے طلبہ کی رول نمبر سلپس فوری طور پر ڈاؤن لوڈ کر کے انہیں فراہم کریں۔ طلبہ کو بھی تاکید کی گئی ہے کہ وہ اپنی رول نمبر سلپس براہِ راست اپنے متعلقہ اداروں سے حاصل کریں تاکہ کسی قسم کی دشواری سے بچا جا سکے۔فیکلٹی کے مطابق صوبہ بھر سے تقریباً 36 ہزار 200 طلبہ ان امتحانات میں شرکت کریں گے، جو 31 مارچ سے 8 اپریل 2026 تک 23 مختلف کیٹیگریز میں منعقد ہوں گے۔امتحانات کے انعقاد کے لیے صوبہ بھر میں 55 امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر محمد رحمان آفریدی امتحانی عمل کی مجموعی نگرانی کریں گے، جبکہ امتحانات کے شفاف اور منظم انعقاد کے لیے تقریباً 500 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے تمام امتحانی مراکز پر پولیس اہلکار بھی موجود ہوں گے۔اس حوالے سےڈاکٹر محمد رحمان آفریدی نے مزید بتایا کہ فیکلٹی میں ایک مرکزی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے، جہاں سے امتحانی عمل کی مسلسل مانیٹرنگ کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ امتحانات کے دوران نقل یا کسی بھی قسم کی بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔وزیر صحت خلیق الرحمان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ امتحانات کے انعقاد میں شفافیت، میرٹ اور نظم و ضبط کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی تمام تر توجہ امتحانات پر مرکوز رکھیں اور دیانتداری کے ساتھ امتحانی عمل میں حصہ لیں۔

خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر برائے آبپاشی ریاض خان سے ان کے دفتر پشاور میں رکن قومی اسمبلی عاطف خان اور ڈیڈک چیئرمین بونیر کبیر خان نے ملاقات کی۔

خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر برائے آبپاشی ریاض خان سے ان کے دفتر پشاور میں رکن قومی اسمبلی عاطف خان اور ڈیڈک چیئرمین بونیر کبیر خان نے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، پارٹی معاملات اور علاقائی ترقی سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں، عوامی مسائل کے حل اور پارٹی کو مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی۔صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت عوامی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے صوبے کے مختلف اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کو تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے عوامی مسائل کے حل کیلیے صوبائی حکومت سنجیدہ ہےعوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلیے کوشاں ہیں عوام کے اعتماد پر پورا اترنے کی بھر پور کوشش کررہے ہیں عوام کو ضروریات ذندگی کی سہولیات میسر کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔رکن قومی اسمبلی عاطف خان اور چیئرمین بونیر کبیر خان نے بھی صوبائی وزیر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ عوامی مسائل کے حل اور پارٹی کےاستحکام کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے۔

KPRA declares Friday as Working Day for Essential Staff

The Khyber Pakhtunkhwa Revenue Authority (KPRA) has announced that, in light of the ongoing financial year closing and the critical importance of revenue-related operations during the final quarter, Friday will be observed as a normal working day for essential staff of the Authority. According to an official order issued by the KPRA Headquarters, the decision has been taken to ensure uninterrupted progress of key financial and administrative activities, which are vital at this crucial stage of the fiscal cycle. The last quarter of the financial year is considered particularly significant for revenue collection, reconciliation, and reporting, necessitating enhanced operational readiness and staff availability.

The Director General Ms. Irum Naz, has directed all concerned officers and officials categorized as essential staff to strictly comply with the order and ensure their (attendance) on Fridays as per regular working hours. The move is aimed at strengthening institutional efficiency, meeting revenue targets, and facilitating timely completion of all pending and ongoing assignments.

All Directors, Collectors, Additional Collectors, and relevant administrative personnel have been informed accordingly. The Authority has emphasized the importance of collective efforts and dedication from its workforce to achieve organizational objectives during this critical period.
The KPRA remains committed to ensuring effective revenue administration and maintaining fiscal discipline in the province through proactive and timely measures.

خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی/ہری پور میں کاروائی

پشاور: سوشل میڈیا پر فوڈ پوائزننگ کی خبروں پر فوڈ اتھارٹی کا فوری ایکشن

پشاور : فوڈ سیفٹی ٹیم کا ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ مشترکہ آپریشن، ترجمان فوڈ اتھارٹی

پشاور: فوڈ سیفٹی ٹیم کا ٹراما سینٹر ہری پور کا دورہ، متاثرہ افراد سے تفصیلات حاصل کرلیں، ترجمان

پشاور: شاپنگ ایریا میں واقع شاحی پیزا پر چھاپہ، ترجمان

پشاور: کچن میں صفائی کے انتہائی ناقص انتظامات ،باسی چکن، ایکسپائرڈ کولڈ ڈرنکس برآمد، ترجمان

پشاور: غیر معیاری مس لیبل شدہ اشیاء بھی برآمد کرکے سرکاری تحویل میں لے لیا گیا، ترجمان

سنگین خلاف ورزیوں پر شاحی پیزا سیل، مالک کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز، ترجمان

پشاور : عوام کی صحت سے کھیلنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی ہوگی ، ڈائریکٹر جنرل کاشف اقبال جیلانی

وزیرِ صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمان کی زیرِ صدارت ڈی ایچ کیو ہسپتال نوشہرہ سے متعلق ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا

وزیرِ صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمان کی زیرِ صدارت ڈی ایچ کیو ہسپتال نوشہرہ سے متعلق ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی محمد عمر کاکاخیل، سیکرٹری ہیلتھ، ایڈیشنل سیکرٹریز، پراجیکٹ ڈائریکٹرز اور ایم ایس ڈی ایچ کیو نوشہرہ سمیت محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں ڈی ایچ کیو ہسپتال نوشہرہ کی مجموعی کارکردگی، درپیش مسائل اور عوام کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ہسپتال کی موجودہ صورتحال، مریضوں کے بوجھ، طبی عملے کی دستیابی اور بنیادی سہولیات کے معیار پر بھی جامع بریفنگ دی گئی۔وزیرِ صحت خلیق الرحمان کو ہسپتال کی عمارت کی موجودہ حالت اور اس کی بہتری کے لیے مجوزہ Revamping منصوبے پر بھی آگاہ کیا گیا۔ اجلاس میں ہسپتال کی نئی عمارت کی تعمیر، جدید طبی سہولیات کی فراہمی، اور مریضوں کے لیے بہتر ماحول کی فراہمی کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔خلیق الرحمان نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال نوشہرہ کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو تاکید کی کہ ہسپتال کی اپ گریڈیشن اور تعمیراتی منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔وزیرِ صحت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انشاءاللہ بہت جلد ڈی ایچ کیو ہسپتال نوشہرہ کی نئی عمارت کی تعمیر کی باقاعدہ منظوری دی جائے گی اور اس منصوبے پر عملی کام کا آغاز کیا جائے گا، تاکہ عوام کو بہتر اور جدید طبی سہولیات میسر آ سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے اور تمام ضلعی ہسپتالوں کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا تاکہ عوام کو ان کے اپنے علاقوں میں بہترین علاج کی سہولت فراہم ہو۔

کمشنر ہزارہ ڈویژن فیاض علی شاہ نےکمشنر ہاؤس ایبٹ آباد میں شجرکاری مہم کا افتتاح کیا

کمشنر ہزارہ ڈویژن فیاض علی شاہ نے کمشنر ہاؤس ایبٹ آباد میں پودا لگا کر شجرکاری مہم کا باقاعدہ آغاز کیا۔ اس موقع پر کنزرویٹر آف فاریسٹ، سیکرٹری ٹو کمشنر، اسسٹنٹ کمشنرز (ریونیو و پولیٹیکل) اور محکمہ جنگلات کے نمائندگان بھی موجود تھے۔کمشنر ہزارہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شجرکاری ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات میں کمی اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے اور ہر شہری کو اس قومی فریضے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ جاری شجرکاری مہم کے دوران زیادہ سے زیادہ پودے لگائیں اور ان کی مناسب دیکھ بھال کو بھی یقینی بنائیں تاکہ یہ مہم دیرپا اور مؤثر نتائج دے سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف پودے لگانا کافی نہیں بلکہ ان کی حفاظت اور افزائش بھی یکساں اہم ہے۔کمشنر ہزارہ نے ہدایت کی کہ محکمہ جنگلات کے ساتھ مل کر ڈویژنل سطح پر ایک جامع منصوبہ تشکیل دیا جائے، جس کے تحت پورے ہزارہ ڈویژن میں شجرکاری مہم کو مؤثر انداز میں شروع کیا جائے۔ اس سلسلے میں ایک مخصوص مقام (پیچ) کی نشاندہی بھی کی جائے جہاں یونیورسٹی کے طلبہ کے تعاون سے بڑے پیمانے پر پودے لگائے جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ شجرکاری مہم کو کامیاب بنانے، اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جائے اور مربوط حکمت عملی کے تحت اقدامات کیے جائیں۔آخر میں انہوں نے کہا کہ تمام ادارے باہمی تعاون سے شجرکاری کو فروغ دیں اور عوام میں اس حوالے سے شعور اجاگر کریں تاکہ خطہ ہزارہ کو سرسبز و شاداب بنایا جا سکے

محکمہ ایکسائز کی ٹیکس نادہندگان کے خلاف کارروائیاں، مردان اور کوہاٹ میں متعدد پراپرٹی یونٹس سیل

محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول خیبر پختونخوا کی جانب سے ٹیکس نادہندگان کے خلاف جاری مہم کے تحت ضلع مردان اور کوہاٹ میں کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد پراپرٹی یونٹس سیل کر دیے گئے۔محکمہ سے موصولہ تفصیلات کے مطابق، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر مردان محمد خالد کی نگرانی میں تحصیل تخت بھائی میں ٹیکس نادہندگان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی جس کے دوران متعدد ڈیفالٹر پراپرٹی یونٹس کو سیل کیا گیا۔دوسری جانب ضلع کوہاٹ میں بھی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر رحمان الدین کی ہدایت پر بڑے ٹیکس نادہندگان کے خلاف خصوصی مہم جاری ہے۔ اس سلسلے میں ٹیکس واجبات کی وصولی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔محکمہ کے مطابق متعدد بار نوٹس جاری کرنے کے باوجود ٹیکس واجبات ادا نہ کرنے والے نادہندگان کے خلاف قانونی کارروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔ اسی تناظر میں کوہاٹ کے وارڈ نمبر 1، 3 اور 5 میں کارروائی کے دوران متعدد ٹیکس نادہندہ یونٹس کو سیل کر دیا گیا۔محکمہ ایکسائز نے جائیداد مالکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ٹیکس واجبات بروقت ادا کریں تاکہ قانونی کارروائی اور ممکنہ مشکلات سے بچا جا سکے

وزیر بلدیات، انتخابات و دیہی ترقی حکومت خیبر پختونخوا نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے بلین ٹری سونامی اور ٹین بلین ٹری پروگرام جیسے ماحول دوست اقدامات کے ذریعے ماحولیاتی تحفظ اور بحالی کے لیے ایک مؤثر قومی مثال قائم کی ہے

وزیر بلدیات، انتخابات و دیہی ترقی حکومت خیبر پختونخوا نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے بلین ٹری سونامی اور ٹین بلین ٹری پروگرام جیسے ماحول دوست اقدامات کے ذریعے ماحولیاتی تحفظ اور بحالی کے لیے ایک مؤثر قومی مثال قائم کی ہے۔
انہوں نے یہ بات حیات آباد میں زیرِ تعمیر باغِ ناران ایکسٹینشن پارک میں پودا لگا کر شجرکاری مہم کا افتتاح کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وقت کے ساتھ یہ مسئلہ شدت اختیار کر رہا ہے، اور اس کا سب سے مؤثر حل اجتماعی کوششوں میں مضمر ہے۔ ہر شہری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ماحول کے تحفظ اور اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کم از کم ایک درخت ضرور لگائے۔
وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ باغِ ناران جیسے منصوبے محض تفریحی مقامات نہیں بلکہ شہری جنگلات کو فروغ دینا ہے جس کا مقصد شہروں کے ماحولیاتی نظام کو بہتر بنانا ہے۔ اس طرح کے اقدامات شہری درجہ حرارت میں کمی، فضائی آلودگی میں بہتری، زیرِ زمین پانی کی بحالی اور پرندوں و دیگر حیات کے لیے مسکن فراہم کرنے میں مدد دیتے ہیں، یوں کنکریٹ کے پھیلتے ہوئے جنگل میں زندگی کی نئی رمق پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہری جنگلات عوامی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔ سبزہ زاروں تک رسائی ذہنی دباؤ میں کمی، ذہنی سکون میں اضافہ اور جسمانی سرگرمیوں کے فروغ کا باعث بنتی ہے، خصوصاً گنجان آباد شہری علاقوں میں۔ پشاور جیسے شہر میں، جہاں تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی قدرتی وسائل پر دباؤ ڈال رہی ہے، باغِ ناران جیسے منصوبے شہریوں کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوتے ہیں۔ سماجی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ اچھی منصوبہ بندی کے تحت بنائے گئے عوامی پارکس صنفی شمولیت کو فروغ دیتے ہیں، جہاں خواتین، بچوں اور خاندانوں کے لیے محفوظ اور قابلِ رسائی ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ ایسے مقامات خواتین کی عوامی زندگی میں شرکت بڑھانے، سماجی روابط کو مضبوط کرنے اور معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نہایت کم حصہ ڈالنے کے باوجود موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں بار بار آنے والے سیلاب، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور دیگر ماحولیاتی خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس تناظر میں شہری جنگلات کا فروغ محض ایک ماحولیاتی اقدام نہیں بلکہ مستقبل کے لیے ناگزیر حکمتِ عملی ہے