Home Blog Page 116

ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے ورچوئل تعلیم کا باقاعدہ آغاز کر دیا اس سلسلے میں گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول حیات آباد پشاور میں ایک پر وقار تقریب کا اہتمام

ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے ورچوئل تعلیم کا باقاعدہ آغاز کر دیا اس سلسلے میں گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول حیات آباد پشاور میں ایک پر وقار تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ مہمان خصوصی تھے۔ تقریب کے دیگر شرکا میں سیکرٹری محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے علاوہ محکمہ تعلیم کے افسران اور تعلیم کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے بھی شرکت کی۔ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے مینجنگ ڈائریکٹر قیصر عالم نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ فاؤنڈیشن ورچوئل سکول کا منصوبہ سرکاری سطح پر اپنی نوعیت کا ایک منفرد منصوبہ ہے جس کے تحت سرکاری مڈل ، ہائی اور ہائیر سیکنڈری سکولوں میں اساتذہ کی کمی کو دور کرنے کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل مضامین کی تدریس کی غرض سے آن لائن کلاسوں کا بندو بست کیا گیا ہے۔ ان مضامین میں جماعت ششم سے لے کر بارہویں جماعت تک انگلش ، اردو ، سائنس ، ریاضی، فزکس ، بیالوجی اور کمسٹری کے مضامین شامل ہیں ۔ ان مضامین کے تمام اسباق نیشنل کریکلم پالیسی (NCP) اور صوبائی نصاب و سلیبس کے مطابق تیار کیے گئے ہیں تاکہ ہر بچے کو معیاری اور یکساں تعلیمی مواقع میسر ہوں ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری تعلیم نے بتایا کہ ابتدائی طور پر صوبے کے مختلف اضلاع سے ایسے پچاس (50) سکولوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے جس میں طلباء کی کثرت اور اساتذہ کی کمی کو سامنے رکھ کر ان سکولوں کی مالی معاونت کی گئی ہے تا کہ آن لائن کلاسوں کے اہتمام کے لیے ان سکولوں کو بنیادی سامان کمپیوٹر، ایل ای ڈی سکرین اور انٹرنیٹ کا بندو بست کیا جا سکے ۔ انھوں نے مزید بتایا کہ آن لائن تدریس کا یہ نظام انتہائی مفید اور کم خرچ ہے جس میں کسی قسم کے تعمیراتی خرچوں کی ضرورت نہیں بلکہ تعلیم کے موجودہ ڈھانچے کو بروئے کار لا کر طلباء کو تعلیم دی جائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ طلباء کیلئے آن لائن امتحانات کے نظام کو بھی مربوط بنایاجائے گا۔ اس نظام کے تحت طلبا کو ماہر اساتذہ کے ریکارڈ شدہ لیکچرز بھی میسر ہوں گے جس سے طلباء گھر بیٹھے بھی استفادہ حاصل کر سکتے ہیں اس حوالے سے اساتذہ کی بھی تربیت کی جارہی ہے۔چیف سیکرٹری خیبر پختو نخوا شہاب علی شاہ نے اس منصوبے کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا جس کے تحت تدریسی نظام میں انقلاب برپا ہوگا۔
ورچوئل تدریسی عمل کے تحت طلباء اور طالبات دونوں کو تعلیم تک رسائی کے یکساں مواقع میسر ہوں گے۔ فاؤنڈیشن ورچوئل سکول کی افادیت پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے چیف سیکرٹری نے بتایا کہ دور دراز علاقوں میں اساتذہ کی تعیناتی طلباء اور طالبات کی سکولوں تک رسائی، خواندگی کی عمر کے حامل بچوں کا سکولوں میں داخلہ اور تعلیم مکمل کیے بغیر بچوں اور بچیوں کا سکول سے خروج چند ایسے پیچیدہ عوامل ہیں جو ہمارے صوبے کی شرح خواندگی پر اثر ڈالتے ہیں۔ ڈیجیٹل تدریسی نظام ان رکاوٹوں کو دور کرے گا۔چیف سیکرٹری نے اس موقع پر امید ظاہر کی ‘ فاؤنڈیشن ورچوئل سکول کے کامیاب نفاذ کے بعد اس منصوبے کے جال کو صوبے کے دیگر تمام سکولوں تک پھیلایا جائے گا جس کے ذریعے قلیل وقت میں محدود وسائل کو بروئے کار لا کر شرح خواندگی کے اہداف کو حاصل کیا جائے گا ۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ہمیں متحد ہو کر دکھی انسانیت کی خدمت جاری رکھنی ہے،  انسانی خدمت کے جذبہ، احساس اور خلوص کے بغیر کوئی ادارہ کامیاب نہیں ہوسکتا

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ہمیں متحد ہو کر دکھی انسانیت کی خدمت جاری رکھنی ہے،  انسانی خدمت کے جذبہ، احساس اور خلوص کے بغیر کوئی ادارہ کامیاب نہیں ہوسکتا، ہلال احمر نے اپنی کارکردگی سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہے۔انجمن ہلال احمر کے رضاکار ضم اضلاع میں انسانیت کی خدمت کا جو مشن جاری رکھے ہوئے ہیں وہ قابل تحسین ہے۔
ان خیالات کا اظہارانہو ں نے منگل کے روز گورنر ہاؤس پشاور میں انجمن ہلال احمر ضم اضلاع کے سٹاف و رضاکاروں کو ضم ضلع باجوڑ میں خدمات پر خراج تحسین پیش کرنے کیلئے منعقدہ تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں چیئرمین انجمن ہلال احمر ضم اضلاع ایڈوکیٹ عمران وزیر، چیئرمین انجمن ہلال احمر خیبرپختونخوا فرزند وزیر،سیکرٹری انجمن ہلال احمر ضم اضلاع سعید کمال، پاکستان پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر محمدعلی شاہ باچہ، سیاسی رہنمااخونزادہ چٹان، مولاناہارون الرشید، باجوڑ کے عمائدین اور انجمن ہلال احمر ضم اضلاع کے سٹاف اور رضاکاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا نے پی آر سی ایس ضم اضلاع کے تین ایمبولینسز،  سولرائزئشن اور واش منصوبوں، ٹیوب ویلز بحالی منصوبوں کا افتتاح کیا  اور گورنرہاؤس میں لگائے گئے ایکٹیویٹی سٹالز کامعائنہ بھی کیا۔ چیئرمین عمران وزیرایڈوکیٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ انجمن ہلال احمر ضم اضلاع کی جانب سے باجوڑ کے سیلاب متاثرین میں جلد امدادی رقوم تقسیم کی جائیں گی.
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنرنے قبائلی اضلاع میں جاری انسانی خدمات پر انجمن ہلال احمر ضم اضلاع کو خراج تحسین پیش کیا ۔گورنر نے کہا کہ ضلع کرم میں مرکزی شاہراہ کی بندش کے باوجود انجمن ہلال احمر ضم اضلاع کی جانب سے عوام تک امداد کی فراہمی یقینی بنانا قابل تعریف ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ میری ہدایات پر انجمن ہلال احمر کی دونوں برانچز نے نہ صرف مؤثر عملدرآمد کیا بلکہ نئے وژن اور نئے جذبے کے ساتھ آگے بڑھتی دکھائی دیں۔گورنر خیبرپختونخوا نے ملکی و غیر ملکی ڈونرز اداروں کا بھی شکریہ ادا کیا جو قدرتی آفات کے دوران متاثرہ عوام کی بحالی اور امدادی سرگرمیوں میں ہلال احمر خیبرپختونخوا کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد متاثرہ خاندانوں کی دوبارہ بحالی میں بھی ہلال احمر کے رضاکاروں کا کردار نہایت اہم ہے۔انہوں نے یقین دلایا کہ وہ ہر موقع پرانہیں ساتھ پائیں گے۔آخر میں گورنرنے رضاکاروں میں تعریفی اسناداورمتاثرین باجوڑ میں ہائی جین کٹس تقسیم کیے

CS Shahab Ali Shah Reviews Good Governance Roadmap for Housing and Livestock Departments

Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa, Shahab Ali Shah, chaired a review meeting on the good governance roadmap implementation of Housing and Livestock Departments with Secretaries and relevant officials.
The meeting reviewed milestones of the Housing Department. It was informed that an online payment system in line with the government’s cashless economy initiative has been launched. A land sharing management system for the New Peshawar Valley has been developed, featuring an online system with Google Maps that shows Mauzas Khasras of the New Peshawar Valley.
The Chief Secretary directed that the system should provide end-to-end information for users, emphasizing that the awareness map is created for the public.
The Housing Department has fully adopted EPADs (E-Pak Acquisition and Disposal System) for transparency and e-procurement. An online grievance redressal system and public feedback system are operational in the department. Regional Facilitation Centers have been established in four divisions: Peshawar, Malakand, Kohat, and Hazara completed. Work is progressing smoothly on the New Peshawar Valley and Bani Gul Housing schemes. The government has decided that every new housing scheme should include green spaces.
The meeting was also updated on the Ehsaas Apna Ghar initiative, which provides interest-free loans of up to Rs 1.5 million to low-income individuals for building homes.
The Livestock Department’s milestones were also reviewed, including initiatives to double the vaccination rate from 7% to 15% for large animals. The department is also working on developing 571 acres of land in Hari Chan through Public Private Partnership for corporate cattle farming, with milestones on track. Additionally, the department is distributing livestock units to 1,000 vulnerable farmers, focusing on women and vulnerable communities, with the objective of poverty elimination. The expansion of veterinary health services through support to unemployed DVM graduates and strengthening service delivery in underserved areas is also underway.
The Chief Secretary instructed the KP IT Board to develop a real-time app for tracking the vaccination process in livestock department.
Furthermore, CS said that teams to inspect facilities on the ground across different departments in line with the good governance roadmap.

محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبرپختونخوا کی جانب سے انٹر کالجزسپورٹس گالا 2025 کی تقسیم انعامات کی تقریب کا انعقاد

محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبرپختونخوا کے زیر اہتمام خیبرپختونخوا انٹر کالجز اسپورٹس گالا 2025 کی شاندار تقریب تقسیم انعامات بروز بدھ گورنمنٹ فرنٹیئر کالج فار ویمن پشاور میں منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم محمد سہیل آفریدی اور وزیرِ مواصلات و تعمیرات مینا خان آفریدی تھے۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک اور نعت شریف سے کیا گیا۔ گورنمنٹ فرنٹیئر کالج فار ویمن پشاور کی پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر شاہین عمر، محکمہ اعلیٰ تعلیم کے ڈائریکٹرز، اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے عہدیداران اور طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔وزیرِ اعلیٰ تعلیم محمد سہیل آفریدی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تمام اساتذہ، طلبہ و طالبات، اور محکمہ تعلیم کے افسران کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ اپنے اساتذہ کا احترام کریں، اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے ویژن کے مطابق ہمیشہ اپنے مقاصد بلند رکھیں اور ان کے حصول کے لیے محنت کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ “یہ طلبہ ہمارا فخر اور ملک کا مستقبل ہیں، میں کسی صورت ان کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں کروں گا۔” وزیرِ مواصلات و تعمیرات مینا خان آفریدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ “میں نے بطور وزیرِ اعلیٰ تعلیم اپنے اٹھارہ ماہ کے دور میں پوری کوشش کی کہ خیبرپختونخوا کے تعلیمی نظام میں اصلاحات لائی جائیں، سہولت پیدا کی جائے اور اسے جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ عمران خان چاہتے ہیں کہ پاکستان ایک فلاحی ریاست بنے، جو کسی کے تابع نہ ہو بلکہ ایک خودمختار ملک کے طور پر ابھرے۔” تقریب کے اختتام پر محمد سہیل آفریدی اور مینا خان آفریدی نے خیبرپختونخوا انٹر کالجز اسپورٹس گالا 2025 کے تمام فاتح طلبہ و طالبات میں انعامات تقسیم کیے۔

کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیر صدارت ماہ اگست اور ماہ ستمبر کے حوالے سے ضلع کارکردگی کا جائزہ اجلاس

پشاور ڈویژن کے تمام پانچوں اضلاع میں تجاوزات اور ٹریفک کی روانی میں خلل پیدا کرنے والے غیر قانونی سپیڈ بریکرز کے خلاف نتیجہ خیز آپریشن کے احکامات جاری، تجاوزات کے خلاف آپریشن کے لیے تاجروں اور عوام کو اعتماد میں لیا جائے، ڈپٹی کمشنرز کو اسکولوں اور مراکز صحت کے دوروں میں تیزی لانے، سو فیصد عملے کی حاضری یقینی بنانے اور عوام کو بہترین سہولیات کی فراہمی کے بھی احکامات جاری اس کے علاوہ تمام پانچوں اضلاع میں غیر قانونی کرش پلانٹس اور بل بورڈز کے خاتمے کے لیے بھی ہدایات جاری، صوبائی حکومت کے عوامی ایجنڈا پر عملدرآمد کے حوالے سے بھی تمام ڈپٹی کمشنرز سے دس دنوں میں رپورٹ طلب۔ اس حوالے سے کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیر صدارت ماہ اگست اور ماہ ستمبر کے حوالے سے ضلع کارکردگی کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں پشاور ڈویژن کے تمام پانچوں اضلاع پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، قبائلی ضلع مہمند اور ضلع خیبر کے ڈپٹی کمشنرز نے بزریعہ ویڈیو لنک شرکت کی اجلاس میں تمام پانچوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے اپنے اپنے اضلاع کی ماہ اگست اور ماہ ستمبر کی کارکردگی کے حوالے سے کمشنر پشاور ڈویژن کو تفصیلی آگاہی دی جس کے تناظر میں ضروری احکامات جاری کیے گئے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں زیر التوا ریونیو، لینڈ ایکوزیشن اور انتقلات کیسز جلد سے جلد نمٹائے تاکہ عوام کو بار بار پیشیوں سے نجات دلائی جاسکے اس کے علاوہ سٹیزن پورٹل پر موصول شکایات کے فوری ازالے اور نتیجہ خیز کھلی کچہریوں کے انعقاد اور سرکاری واجبات کی فوری اصولی کے بھی احکامات جاری کیے اس حوالے سے کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے صوبائی حکومت کے عوامی ایجنڈے کے تحت ہدایات پر عمل درآمد کے حوالے سے تمام ڈپٹی کمشنرز سے دس دنوں میں رپورٹ طلب کرلی۔

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی کی زیر صدارت ڈائریکٹوریٹ جنرل ایکسٹینشن لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈیویلپمنٹ خیبرپختونخوا پشاور میں ماہانہ کارکردگی سے متعلق اہم اجلاس

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹیو فضل حکیم خان یوسفزئی کی زیر صدارت ڈائریکٹوریٹ جنرل ایکسٹینشن لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈیویلپمنٹ خیبرپختونخوا پشاور میں ماہانہ کارکردگی سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری لائیو اسٹاک محمد طاہر اورکزئی، ایڈیشنل سیکرٹری لائیو سٹاک نیاز محمد خان، ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک توسیع ڈاکٹر اصل خان سمیت تمام ضلعی و پروجیکٹ ڈائریکٹرز اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمے کی ماہانہ کارکردگی، گڈ گورننس روڈ میپ اور ڈسٹرکٹ سروس ڈیلیوری کے امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ جس طرح ایمرجنسی کی صورت میں عوام ریسکیو 1122 کو کال کرکے ایمبولینس سروس حاصل کرتے ہیں اسی طرز پر محکمہ لائیو سٹاک میں بھی مویشی پال کسانوں کے لیے ایک ہیلپ لائن نمبر مقرر کیا جائے تاکہ صوبے بھر کے کسان اس نمبر پر رابطہ کرکے فوری رہنمائی، علاج اور دیگر سہولیات حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کا مقصد عوامی خدمت کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے تاکہ ہر مویشی پال کسان کو اپنے دروازے پر سہولت میسر ہو۔ صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ عوامی خدمت کے اس نئے نظام کو جلد از جلد فعال کیا جائے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک توسیع ڈاکٹر اصل خان نے صوبائی وزیر کو محکمانہ کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ دی اور بتایا کہ پچھلے مہینے کے مقابلے میں اس ماہ محکمہ لائیو سٹاک کی کارکردگی میں پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے محکمے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسی جذبے اور محنت کے ساتھ خدمت کا یہ سلسلہ جاری رکھا جائے اور مزید بہتری کو اپنی ترجیح بنایا جائے۔ اس دوران صوبائی وزیر نے تمام ضلعی ڈائریکٹرز سے حلف لیا کہ وہ جانوروں کا خیال اسی طرح رکھیں جیسے اپنے بچوں کا رکھتے ہیں۔ اجلاس میں تمام ضلعی ڈائریکٹرز نے صوبائی وزیر کو اپنے مسائل سے آگاہ کیا، جن میں رسک الاؤنس، رہائشی سہولتوں اور دیگر اہم معاملات شامل تھے۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے یقین دہانی کرائی کہ تمام جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام افسران اپنی ڈیوٹی ایمانداری اور دیانتداری سے انجام دیں کیونکہ غفلت برتنے والے افسران کے لیے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے سٹاف کی حاضری کو یقینی بنانے اور عوامی خدمت کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا۔اجلاس کے اختتام پر صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے بہترین کارکردگی دکھانے والے افسران میں شیلڈز تقسیم کیں۔

ڈاکٹر شفقت ایازکی اپنے دفتر میں عوامی وفود سے ملاقاتیں، مسائل سنے، فوری احکامات جاری کیے، اور عوامی خدمت کے تسلسل کو مزید مضبوط بنایا

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز نے بدھ کے روز اپنے حلقے سمیت صوبے کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے عوامی وفود سے تفصیلی ملاقاتیں کیں، اُن کے مسائل سنے، تجاویز حاصل کیں، اور فوری حل کے لیے متعلقہ محکموں کو احکامات جاری کیے۔دفتر میں آنے والے عوامی وفود نے تعلیم، صحت، پانی، بجلی، انٹرنیٹ، روزگار، سڑکوں کی حالت، اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق مسائل ڈاکٹر شفقت ایاز کے سامنے رکھے۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے تمام مسائل نہایت توجہ سے سنے اور وفود کو یقین دلایا کہ وہ ذاتی طور پر اِن تمام امور کی نگرانی کریں گے تاکہ عوام کو جلد از جلد ریلیف فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندہ ہونے کے ناطے اُن کا فرض ہے کہ وہ عوام کے درمیان رہیں، اُن کی بات سنیں، اور اُن کے دکھ درد کو اپنا سمجھیں۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی قیادت میں صوبائی حکومت نے عوامی خدمت، شفاف طرزِ حکمرانی، اور فوری مسئلہ حل کرنے کے نئے طریقہ کار متعارف کرائے ہیں، تاکہ ہر شہری کو انصاف اور سہولت اُس کی دہلیز پر فراہم ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈاپور دن رات خیبرپختونخوا کی ترقی کے لیے کوشاں ہیں۔ اُن کا ویژن ایک ایسا مضبوط، جدید اور خودکفیل صوبہ ہے جہاں تعلیم، صحت، آئی ٹی، زراعت، توانائی، اور نوجوانوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے عوامی مسائل کے حل کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے، تاکہ شفافیت، تیز رفتاری، اور عوامی اطمینان میں اضافہ ہو۔انہوں نے کہا کہ بانی چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کا وژن یہی ہے کہ“عوام کو طاقت کا سرچشمہ”بنایا جائے، اور عوامی نمائندے حقیقی معنوں میں عوام کے خادم بنیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ہمیشہ نوجوانوں کی تعلیم، روزگار، انصاف، اور ٹیکنالوجی کے فروغ کو اپنی پالیسیوں کا محور بنایا، اور آج خیبرپختونخوا حکومت اُسی وژن کو عملی جامہ پہنا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے ہمیشہ پی ٹی آئی پر اعتماد کیا ہے، اور اب صوبائی حکومت اُس اعتماد پر پورا اترنے کے لیے دن رات کام کر رہی ہے۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے کہا کہ عمران خان اور علی امین گنڈاپور دونوں کا ویژن یہی ہے کہ خیبرپختونخوا پاکستان کا سب سے جدید، تعلیم یافتہ، ڈیجیٹل، اور خوشحال صوبہ بنے، جہاں ہر شہری کو برابری کے مواقع، انصاف، اور بنیادی سہولیات حاصل ہوں۔ ڈاکٹر شفقت ایاز نے کہا کہ عوامی خدمت ہی اُن کی سیاست کا بنیادی مقصد ہے، اور وہ ہر روز عوام سے براہِ راست ملاقاتیں جاری رکھیں گے تاکہ اُن کے مسائل اُن کے سامنے ہی حل کیے جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ“یہی عمران خان کا وژن اور علی امین گنڈاپور کی پالیسی ہے۔ڈاکٹر شفقت ایاز نے یقین دلایا کہ خیبرپختونخوا حکومت عوامی خدمت کے اس تسلسل کو مزید مضبوط بنائے گی، اور صوبے کے ہر شہری کو جدید سہولتوں اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی یقینی بنائے گی۔

وزیراعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ابتدائی ثانوی تعلیم محمد عاصم خان کے زیر صدارت محکمہ تعلیم اے ڈی پی جائزہ اجلاس

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد عاصم خان نے ایجوکیشن حکام کو ہدایت جاری کی کہ محکمہ تعلیم کے جاری منصوبوں کی جلداز جلد تکمیل یقینی بنانے کیساتھ ساتھ نئے منصوبوں کیلئے لائحہ عمل فوری طور پر تیار کیا جائے اور ریلیز شدہ بجٹ کو فوری خرچ کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بہتر عوامی مفاد میں شروع کردہ منصوبے فوری طور پر مکمل کرنااور درس وتدریس شروع کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں طلباء و طالبات سکولوں سے باہر ہیں اور ان منصوبوں کی تکمیل سے ان بچوں کو اپنے ہی قریبی علاقوں میں بہترین تعلیمی سہولیات میسر ہوں گی۔ انہوں نے ایجوکیشن حکام کو تنبیہہ کی کہ جن ملازمین کی وجہ سے کام میں تاخیر ہو ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسز اور سیکرٹریٹ پلاننگ سیکشن میں ذمہ داریوں کا تعین کیا جائے ہر سیکشن سے اس کی پراگریس بارے پوچھا جائے گا۔ تمام کاموں کیلئے ٹائم لائن مقرر کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ سکول جن میں تعمیراتی کام مکمل ہوچکاہے ان کیلئے ملازمین کے پوسٹوں کی منظوری کے کیسز بھیجے جائیں اور وہاں تعلیمی سرگرمیاں شروع کی جائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ نئے بنائے گئے منصوبوں کے پی سی ون پر کام کی رفتار تیز کی جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت دی کہ صوبے کے ہر ضلع کے ہر سکول کو فرنیچر، وائٹ بورڈز اور مفت درسی کتب کی فراہمی کیساتھ ساتھ مفت سکول بیگز کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے۔ یہ ہدایات اُنہوں نے محکمہ تعلیم اے ڈی پی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کی۔ اجلاس میں سیکرٹری ایجوکیشن محمد خالد، سپیشل سیکرٹری مسعود، چیف پلاننگ آفسر زین اللہ شاہ بشمول پلاننگ اور مانیٹرنگ سیکشنز کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔معاون خصوصی برائے تعلیم محمد عاصم خان نے مزید کہا کہ محکمہ تعلیم میں ٹیلی تعلیم کے نام سے پائلٹ کے تحت آن لائن تعلیمی پروگرام شروع کیا جارہا ہے جس کو پھر صوبے کے دیگر اضلاع تک توسیع دی جائے گی۔ اساتذہ کی تربیتی پروگرام میں مزید اصلاحات لائے جا رہی ہیں۔ جبکہ آئی ٹی لیبز، سائنس لیبز، سپورٹس سہولیات، لائبریری اور ڈیجیٹل کلاس رومز پر مشتمل سنٹر آف ایکسیلینس تعلیمی ادارے صوبے کے تمام اضلاع میں بھی قائم کئے جائیں گے۔ اور صوبے کے ہر ضلع میں موجود 2 سکولوں کو بھی سٹیٹ آف دی آرٹ بنایا جائے گا۔ جسمیں پشاور کے سٹی نمبر ون اور لیڈی گرفتھ سکولز شامل ہیں۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایات کے مطابق بندوبستی اضلاع کے 100 سکولوں کو رینٹڈ بلڈنگز میں کھولنے۔ زیادہ طلباء کی شرح رکھنے والے سکولوں میں 500 اضافی کلاس رومز کی تعمیر۔ بالخصوص سیلاب زدہ علاقوں میں 50 پرائمری سکولوں کو پری فیبریکیٹڈ سٹرکچر کے تحت قائم کرنے اور آج ایس ایف کے تحت گرلز کمیونٹی سکولوں اور اے ایل پی سینٹرز کے قیام اور 150 مڈل لیول سکولوں کو رینٹڈ بلڈنگز میں کھولنا ہمارے نئے منصوبوں میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ ڈی آئی خان میں گرلز کیڈٹ کالج کے قیام بشمول ضم اضلاع کی تعلیمی بہتری کے لئے 50 سکولوں میں باقی ماندہ کام کی تکمیل اور 120 گرلز سکولوں میں سہولیات کی فراہمی اور ضم اضلاع کے 150 پرائمری و مڈل سکولوں کو رینٹڈ بلڈنگز میں کھولنا ہمارے اہداف ہیں۔ انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ زیادہ پسماندہ اور خصوصاََ ضم اضلاع کیلئے کرائٹیریا پالیسی میں نرمی کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ وہ 28 سکیمیں جو کہ تکمیل کے قریب ہیں ان کو فوری مکمل کریں اور بجٹ ریلیز کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ معاون خصوصی کو بتایا گیا کہ میگا منصوبوں میں گرلز کیڈٹ کالج ڈی ائی خان، گرلز کیڈٹ کالج مردان، کیڈٹ کالج لکی مروت، ضم اضلاع کے بچوں کے لیے ماہانہ وظیفہ پروگرام، ضم اضلاع کے سکولوں کی سولرائزیشن، ضم اضلاع کے اسکولوں کی بحالی و آباد کاری کا منصوبہ اور ضم اضلاع کے اسکولوں کے طلباء و طالبات کو مفت درسی کتابوں اور اسکول بیگز کی فراہمی بشمول دیگر اہم منصوبے شامل ہیں۔

ڈاکٹر سمیرا شمس کی بطور چیئرپرسن خیبرپختونخوا کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن تقرری کی گئی ہے

حکومتِ خیبرپختونخوا نے ڈاکٹر سمیرا شمس کی بطور خیبرپختونخوا کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن تقرری کی ہے۔ یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں کمیشن کے ارکان کی منظوری بھی دی گئی اورکابینہ کی منظوری کے بعد اس حوالے سے محکمہ زکوٰۃ و عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم اور وومن ایمپاور منٹ کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق کمیشن دس اراکین پر مشتمل ہے جن میں شبینہ ایاز، آمنہ پرویز، طیبہ بتول، مسلم تاج، ڈاکٹر منہاس مجید، شکیرا سید، طاہرہ کلیم، اکرام خان، کومل یونس اور حمیرہ نواز شامل ہیں۔یہ تقرری خواتین کے حقوق کے فروغ، ان کی سماجی و معاشی بااختیاری اور صنفی مساوات کے لیے صوبائی حکومت کے عزم کا مظہر ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے سماجی بہبود، سید قاسم علی شاہ نے چائلڈ پروٹیکشن یونٹ صوابی کے زیر اہتمام منعقدہ ایک خصوصی پروگرام میں بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے سماجی بہبود، سید قاسم علی شاہ نے چائلڈ پروٹیکشن یونٹ صوابی کے زیر اہتمام منعقدہ ایک خصوصی پروگرام میں بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ پروگرام کا مقصد بچوں کے تحفظ، فلاح و بہبود، اور ان کے بنیادی حقوق سے متعلق عوامی شعور و آگاہی کو فروغ دینا تھا۔اس موقع پر یونیسف خیبر پختونخوا کے ہیڈ، ڈپٹی کمشنر صوابی، محکمہ سماجی بہبود کے اعلیٰ افسران، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور بچوں کے حقوق پر کام کرنے والے مختلف اداروں کے عہدیداران نے بھی شرکت کی۔اپنے خطاب میں صوبائی وزیر سید قاسم علی شاہ نے کہا کہ “بچوں کا تحفظ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ کسی بچے پر جسمانی یا ذہنی تشدد ناقابلِ برداشت ہے۔ ہمیں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہوگا جہاں ہر بچہ محفوظ، پُراعتماد اور باوقار زندگی گزار سکے۔ اللہ تعالیٰ ان معصوم جانوں کے بارے میں ہم سے ضرور سوال کرے گا۔ بچوں کی نگہداشت صرف ایک سرکاری فریضہ نہیں بلکہ دینی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ”ان شاء اللہ بہت جلد ایک مؤثر نظام متعارف کرایا جائے گا تاکہ اگر کسی بچے کو مدد کی ضرورت پیش آئے تو وہ بلاجھجک براہِ راست مجھ سے یا محکمہ سماجی بہبود سے رابطہ کر سکے۔”صوبائی وزیر نے یونیسف کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ماضی کی طرح آئندہ بھی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ہدایات کے مطابق بچوں کے تحفظ کے لیے شراکت داری کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل میں ایسے پروگرامز متعارف کرائے جائیں گے جو بچوں کو معیاری تعلیم، فنی ہنر اور جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً مصنوعی ذہانت (AI) جیسے شعبوں میں تربیت دے کر ایک بااعتماد اور خودمختار شہری بنانے میں مدد فراہم کریں گے۔تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیر نے نمایاں خدمات انجام دینے والے افسران اور معزز مہمانوں میں شیلڈز بھی تقسیم کیں۔