Home Blog Page 116

Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa Chairs Weekly Review Meeting

Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa Shahab Ali Shah on Monday directed district administrations and relevant authorities to strictly enforce the provincial POL monitoring system in view of rising energy demands and evolving international developments affecting fuel markets.

Chairing the weekly review meeting, the Chief Secretary reviewed the demand and supply position of petroleum products across the province, and assessed their availability in line with the notified prices. He instructed Deputy Commissioners to conduct regular market inspections to ensure uninterrupted supply, prevent hoarding or overcharging, and promptly address public complaints.

The meeting also reviewed progress on several mega flagship projects being implemented under the Public-Private Partnership (PPP) framework. Officials briefed the forum on key initiatives including the Thandiani Tourism Project, Ganool Integrated Tourism Zone, Buyun Ski Resort Kalam, and Daraban Economic Zone. Updates were also shared on major infrastructure projects such as the Peshawar–D.I. Khan Motorway, Swat Motorway, Dir Motorway, the road linkage between Indus Highway (N-55) and Hakla–D.I. Khan Motorway, as well as initiatives related to electric vehicle charging stations and EV rickshaw and bus programmes. Progress on the Peshawar Revitalization Initiative was also reviewed.

The forum further examined a series of innovative governance and land revenue management interventions introduced by the Deputy Commissioner Peshawar office. These included digitization of Girdawari, development of Khasra-wise validation tables and Jadwal, e-audit of the e-registry system, and the scanning and digital audit of Mahafiz Khana land records.

The Chief Secretary appreciated these initiatives, observing that such reforms would enhance transparency, accuracy and public facilitation in land revenue administration. He directed the authorities to initiate work on the province-wide implementation and scaling up of these interventions.

He further instructed officers to develop standardized brochures and operational guidelines to serve as reference documents for replicating these reforms in other districts of the province. Administrative Secretaries, Commissioners and Deputy Commissioners attended the meeting both in person and via video link.

PHE Minister Fazal Shakoor Khan chairs important review meeting of various schemes

The Khyber Pakhtunkhwa Minister for Public Health Engineering, Fazal Shakoor Khan on Monday presided over an important review meeting of PHE schemes in Peshawar-I, Mansehra, and Upper Waziristan.

The meeting was held at his at Civil Secretariat Peshawar which was attended by the concerned Executive Engineers (XENs) of the respective districts along with other relevant officials.

The Provincial Minister was given a detailed briefing regarding various ongoing schemes of the Public Health Engineering Department. The concerned XENs informed the Provincial Minister in detail about the current status of the projects, progress made so far, challenges being faced, and the future course of action.

On this occasion, the Provincial Minister issued directives to the concerned XENs to expedite the pace of work on all ongoing development schemes.
He emphasized that the timely and transparent completion of these projects must be ensured so that the public can benefit from them as soon as possible.

He issued further directives to all officers to play an active role in the field and regularly monitor the progress of the projects.

The Provincial Minister said that the provision of clean and safe drinking water to the public is among the top priorities of the current provincial government.

He added that the ongoing schemes of the PHE are of great importance for public welfare, and their timely completion will provide thousands of people with access to clean drinking water.

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ مہنگائی کے شکار عوام کے لیے ظلم ہے، معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافے پرتنقید کرتے ہوئے اسے مہنگائی کے شکار عوام کے لیے ظلم قرار دیاہے اور کہا ہے کہ ایک دیہاڑی دار اور تنخواہ دار طبقہ پہلے ہی دو وقت کی روٹی کے لیے جدوجہد کر رہا ہے اس لئے جعلی وفاقی حکومت کے اس فیصلے سے غریب عوام کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا اور وہ مزید مہنگائی کی دلدل میں دھنس جائیگا،انہوں نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ہر گھر کے چولہے، ہر مزدور کی جیب اور ہر غریب کے بجٹ پر براہ راست اثر ڈالے گا،اس اضافے کے بعد ٹرانسپورٹ، آٹا اور گھی سمیت روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی بڑھ جائیں گی جس سے عام آدمی کی زندگی مزید اجیرن ہو جائے گی،معاون خصوصی نے کہا کہ بانی چئیر مین عمران خان کے دور حکومت میں 150 روپے فی لٹر پٹرول پر واویلا مچانے والے بے حس حکمران طبقے کا دوغلا پن قوم کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔ عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ آخر معاشی بوجھ ہمیشہ غریب اور متوسط طبقے پر ہی کیوں ڈالا جاتا ہے،شفیع جان نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرے اور ایسے فیصلے کرے جو مہنگائی کے طوفان کو مزید بڑھانے کی بجائے عام آدمی کے مفاد میں ہوں،حکومتی فیصلوں اور پالیسیوں کا محور ہمیشہ عام عوام ہو ناچاہیے، عوام کی زندگیوں میں آسانیاں لانا حکومتوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے،انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت ہر فورم پر عوام کے حق کی آواز بلند کرتی رہے گی اور عام آدمی کے مفاد کے تحفظ کے لیے بھرپور مؤقف اختیار کرے گی۔

تمام دفاتر پیٹرولیم مصنوعات کے دانشمندانہ اور کفایت شعاری کے ساتھ استعمال کو یقینی بنائیں۔پیٹرولیم مصنوعات کا استعمال ضروری سرکاری فرائض، ہنگامی ردعمل کی سرگرمیوں اور ناگزیر فیلڈ آپریشنز تک محدود رکھا جائے۔ سیکرٹری خزانہ خیبرپختونخوا کا اعلامیہ جاری

محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا نے عالمی تناظر کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کے استعمال سے متعلق تمام منسلک محکموں،فارمیشنز اور ذیلی دفاتر کو ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں سرکاری امور کی بلا تعطل انجام دہی کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطی اور بچت پر مبنی اقدامات اختیار کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے سیکرٹری محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کی جانب سے گزشتہ روز پیٹرولیم مصنوعات کی دانشمندانہ اور کفایت شعاری کے ساتھ استعمال کرنے کیلئے محکمہ خزانہ کے دفاتر اور فیلڈ فارمیشنز کیلئے ہدایات نامہ جاری کیا گیا ہے۔ اعلامیہ کے مطابق تمام دفاتر پیٹرولیم مصنوعات کے دانشمندانہ اور کفایت شعاری کے ساتھ استعمال کو یقینی بنائیں اور پیٹرولیم مصنوعات کا استعمال ضروری سرکاری فرائض، ہنگامی ردعمل کی سرگرمیوں اور ناگزیر فیلڈ آپریشنز تک محدود رکھا جائے۔ محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کے مطابق بیرونِ اسٹیشن دوروں، غیر ضروری معائنوں، رسمی اور غیر ضروری سرکاری سفر کو فوری طور پر محدود کیا جائے سرکاری گاڑیوں کا استعمال صرف سرکاری مقاصد کے لیے کیا جائے جہاں ممکن ہو گاڑیوں کے مشترکہ استعمال (پولنگ) کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ایک ہی سرکاری سرگرمی کے لیے متعدد گاڑیوں کے غیر ضروری استعمال سے اجتناب کیا جائے۔ اعلامیہ میں لکھا گیا ہے کہ تمام اندرونی، بیرونی اور رابطہ کاری کے اجلاس حتیٰ الامکان ورچوئل پلیٹ فارمز کے ذریعے منعقد کیے جائیں تاکہ غیر ضروری نقل و حرکت اور پیٹرولیم کے استعمال کو کم سے کم کیا جا سکے۔ محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کے مطابق پیٹرولیم الاٹمنٹ اور گاڑیوں کے استعمال کی متعلقہ انتظامی دفاتر کی جانب سے مناسب نگرانی اور ریکارڈنگ کی جائے اور منسلک محکموں، دفاتر کے سربراہان موجودہ حالات کے پیش نظر سرکاری وسائل کے استعمال میں کفایت شعاری کے حوالے سے تمام افسران اور عملے میں آگاہی پیدا کریں۔ سیکرٹری خزانہ نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاری بجٹ سائیکل اور آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ کی تیاری محکمہ خزانہ کی ترجیحی ذمہ داری ہے مذکورہ بالا اقدامات کسی بھی صورت میں بجٹ سائیکل اور بجٹ کی تیاری کے عمل میں رکاوٹ کا باعث نہ بنیں۔ ان ہدایات پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور انہیں اپنے انتظامی کنٹرول میں موجود تمام ذیلی دفاتر اور فیلڈ فارمیشنز تک پہنچائیں

یتیم بچوں کی فلاح اولین ترجیح، معاونِ خصوصی شفیع جان کا احساس مرکز کوہاٹ کا دورہ

وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے پاکستان بیت المال کے زیرِانتظام قائم احساس مرکز کوہاٹ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ادارے میں مقیم یتیم اور نادار بچوں سے ملاقات کی، ان کے ساتھ وقت گزارا اور ان کی تعلیم، تربیت اور روزمرہ سہولیات کے بارے میں تفصیلی آگاہی حاصل کی۔ دورے کے دوران شفیع جان انے بچوں کی خیریت دریافت کی اور ان سے دوستانہ ماحول میں گفتگو کی۔ انہوں نے بچوں سے ان کے تعلیمی معمولات، رہائش، خوراک اور دیگر سہولیات کے بارے میں دریافت کیا اور کہا کہ حکومت مستحق اور یتیم بچوں کی بہتر تعلیم و تربیت اور نگہداشت کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھے ہوئے ہے۔ معاونِ خصوصی نے ادارے کے ذمہ داران اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بچوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات میں مزید بہتری لانے کیلئے اقدامات کیے جائیں تاکہ انہیں ایک محفوظ، باوقار اور سازگار ماحول میسر آ سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایسے اداروں میں بچوں کی ذہنی و تعلیمی نشوونما پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ وہ مستقبل میں معاشرے کے مفید شہری بن سکیں۔ شفیع جان نے احساس مرکز کی مجموعی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے نادار اور بے سہارا بچوں کی کفالت اور خدمت ایک مشترکہ سماجی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ ساتھ مخیر حضرات اور معاشرے کے دیگر طبقات کو بھی ایسے فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے تاکہ مستحق بچوں کو بہتر مستقبل فراہم کیا جا سکے۔ ادارے کے حکام نے اس موقع پر معاونِ خصوصی کو مرکز میں فراہم کی جانے والی سہولیات اور جاری فلاحی سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ بھی دی۔ شفیع جان نے یقین دلایا کہ حکومت یتیم اور مستحق بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایسے اداروں کی مکمل سرپرستی جاری رکھے گی۔

خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کی مردان میں بڑی کارروائی، سینکڑوں کلو گرام غیر محفوظ گوشت اور کھویا برآمد کرکے تلف

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایات پر ملاوٹ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھتے ہو ئے خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے مردان میں مضر صحت گوشت کی بڑی مقدار برآمد کرکے تلف کر دی۔
ترجمان فوڈ اتھارٹی نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ فوڈ سیفٹی ٹیم نے گزشتہ شب مردان میں رشکئی انٹرچینج پر رات گئے ناکہ بندی کرتے ہوئے مختلف فوڈ سپلائی گاڑیوں کی چیکنگ کی۔
کارروائی کے دوران ایک گاڑی سے تقریباً 800 کلو گرام غیر محفوظ سیخ کباب، چکن پارٹس، دمچی اور چکن لیور برآمد کرکے موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔ ترجمان نے بتایا کہ مذکورہ گاڑی کراچی سے مردان اور ملاکنڈ ڈویژن کے مختلف علاقوں میں سپلائی کے لیے یہ اشیاء لے جا رہی تھی۔
ترجمان نے بتایا کہ 200 کلو میٹ لیور اور 100 کلو کھویا بھی برآمد کیا گیا جسے غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔
ترجمان فوڈ اتھارٹی کے مطابق ناکہ بندی کے دوران تقریباً 50 فوڈ سپلائی گاڑیوں کی چیکنگ کی گئی جبکہ ملوث مالکان کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے فوڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت مزید قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کاشف اقبال جیلانی نے کامیاب کارروائی پر ٹیم کو سراہا اورکہا کہ ملاوٹ مافیا اور غیر معیاری خوراک میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی حکومت خیبرپختونخوا کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں تمام کاوشیں کر رہی ہے۔

Provincial Minister for Health Khaliq ur Rehman has welcomed the introduction of the Pharmacy Services Policy by the Government of Khyber Pakhtunkhwa, describing it as an important step towards strengthening healthcare delivery and ensuring safe and effective use of medicines across the province.

Provincial Minister for Health Khaliq ur Rehman has welcomed the introduction of the Pharmacy Services Policy by the Government of Khyber Pakhtunkhwa, describing it as an important step towards strengthening healthcare delivery and ensuring safe and effective use of medicines across the province.

The Minister stated that integration of pharmacy services in healthcare facilities will significantly improve patient safety and enhance the overall quality of medical treatment. He said the policy aims to ensure the rational use of medicines, promote evidence-based drug therapy, and strengthen the role of pharmacists within the healthcare system.

Under the new policy, pharmacovigilance centers will be established to monitor the safety and effectiveness of medicines. Special emphasis will also be placed on antimicrobial stewardship programs to ensure the responsible use of antibiotics and to combat antimicrobial resistance.

Khaliq ur Rehman further said that the policy will also help improve the medicine supply chain system, including proper storage, handling, and availability of essential medicines in healthcare facilities across the province.

The Health Minister added that the implementation of the Pharmacy Services Policy will help improve therapeutic outcomes, reduce unnecessary hospital stays, and enhance the overall efficiency of healthcare services in Khyber Pakhtunkhwa.

He directed the relevant authorities to ensure effective implementation of the policy in all healthcare establishments so that patients can benefit from safe, quality, and accessible pharmaceutical services.

Khaliq ur Rehman reaffirmed the provincial government’s commitment to strengthening the health system and ensuring better healthcare facilities for the people of Khyber Pakhtunkhwa.

داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ٹرانسمیشن لائن سے متعلق اہم اجلاس، معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے قومی گرین انرجی منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا

محکمہ جنگلات خیبرپختونخوا میں داسو تا اسلام آباد 765 کلو واٹ ٹرانسمیشن لائن منصوبے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان، سیکرٹری جنگلات جنید خان اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبائی کابینہ کی ہدایات کے مطابق معاون خصوصی کو منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کی درخواست پر صوبائی کابینہ کی ہدایات کی روشنی میں منصوبے سے متعلق تمام ضروری امور اور تکنیکی نکات پر جامع ہوم ورک کیا جا رہا ہے تاکہ اس قومی اہمیت کے حامل منصوبے کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ایک انتہائی اہم گرین انرجی منصوبہ ہے، جس کے ذریعے بجلی کو قومی گرڈ تک مؤثر انداز میں منتقل کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ نیشنل گرڈ کمپنی وفاقی حکومت کی وزارت توانائی کے تحت ورلڈ بینک کی مالی معاونت سے عمل میں لا رہی ہے۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اس میگا ہائیڈل منصوبے کی مجموعی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 4320 میگاواٹ ہے، جو ملک میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ بجلی کی مؤثر ترسیل کو یقینی بنانے کے لئے مانسہرہ اور اسلام آباد میں جدید پاور ہب گرڈ اسٹیشنز بھی قائم کئے جائیں گے۔بریفنگ میں منصوبے کے ماحولیاتی فوائد پر بھی روشنی ڈالی گئی اور بتایا گیا کہ اس منصوبے سے کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی، فوسل فیول کے استعمال میں کمی اور ماحول دوست گرین انفراسٹرکچر کی ترقی ممکن ہو سکے گی، جو ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کی سمت ایک اہم قدم ہے۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ اس منصوبے کی مجموعی لاگت کا 2 فیصد رائلٹی خیبرپختونخوا کو حاصل ہوگی، جبکہ 0.2 فیصد حصہ محکمہ جنگلات خیبرپختونخوا کو فارسٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے طور پر دینے کی تجویز زیر غور ہے۔ اس فنڈ کے ذریعے صوبے میں جنگلات کی بحالی، تحفظ اور ترقی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں گے۔معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کے حوالے سے تمام ضروری ہوم ورک مکمل کرکے اسے حتمی منظوری کے لئے صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیاتی تحفظ اور قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال کو ہر صورت مقدم رکھا جائے۔شفیع جان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت صاف، سستی اور ماحول دوست توانائی کے فروغ کے لئے سنجیدگی سے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صاف و سرسبز خیبرپختونخوا صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اسی وژن کے تحت ایسے ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھایا جا رہا ہے جو نہ صرف توانائی کے شعبے کو مضبوط کریں بلکہ ماحول کے تحفظ اور جنگلات کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت پائیدار ترقی اور گرین اکانومی کے فروغ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، سرسبز اور خوشحال ماحول فراہم کیا جا سکے۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اپر کوہستان محمد اظہر خان نے محکمہ زراعت ایکسٹینشن داسو کے ڈسٹرکٹ آفیسر امجد کے ہمراہ شجرکاری مہم میں شرکت کرتے ہوئے آفیسرز کالونی داسو کے مختلف مقامات پر پودے لگائے

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اپر کوہستان محمد اظہر خان نے محکمہ زراعت ایکسٹینشن داسو کے ڈسٹرکٹ آفیسر امجد کے ہمراہ شجرکاری مہم میں شرکت کرتے ہوئے آفیسرز کالونی داسو کے مختلف مقامات پر پودے لگائے۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ درخت لگانا قومی فریضہ اور صدقہ? جاریہ ہے، جو نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں کمی کا باعث بنتا ہے بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے صاف اور صحت مند ماحول کی فراہمی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ شجرکاری مہم کے پہلے مرحلے میں سفیدہ اور کیکر کے پودے کامیابی سے لگائے جا چکے ہیں، جبکہ دوسرے مرحلے میں مختلف پھل دار پودے لگائے گئے جن میں خوبانی، امرود، اخروٹ، ناشپاتی، مالٹا، چیری، جاپانی پھل (املوک) اور سیب شامل ہیں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ اہلکاروں کو ہدایت کی کہ لگائے گئے پودوں کی باقاعدہ دیکھ بھال اور حفاظت کو یقینی بنایا جائے تاکہ شجرکاری مہم کے مثبت اور دیرپا نتائج حاصل کیے

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ایبٹ آباد گوہر علی نے تحصیلدار ایبٹ آباد کے ہمراہ شہر کے مختلف علاقوں میں پرائس کنٹرول اور مارکیٹ انسپیکشن کے حوالے سے کارروائیاں کیں

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ایبٹ آباد گوہر علی نے تحصیلدار ایبٹ آباد کے ہمراہ شہر کے مختلف علاقوں میں پرائس کنٹرول اور مارکیٹ انسپیکشن کے حوالے سے کارروائیاں کیں۔کارروائی کے دوران سپلائی بازار، جناح آباد، منڈیاں، جدون پلازہ اور بلال ٹاؤن میں دکانوں کا معائنہ کیا گیا، جہاں سرکاری نرخناموں پر عملدرآمد، صفائی کے انتظامات اور اشیائے خوردونوش کے معیار کو چیک کیا گیا۔ مجموعی طور پر 132 دکانوں کا معائنہ کیا گیا۔معائنے کے دوران خلاف ورزیوں پر 8 دکانوں کو سیل کیا گیا جبکہ 8 دکانداروں کے خلاف چالان اور ایف آئی آر درج کی گئیں۔ اس کے علاوہ مجموعی طور پر ایک لاکھ 40 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ضلعی انتظامیہ ایبٹ آباد نے واضح کیا ہے کہ سرکاری نرخناموں کی خلاف ورزی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایسی کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری رہیں