Home Blog Page 122

خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل وامور نوجوانان تاج محمد خان ترند نے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بٹگرام کو کیٹیگری بی میں اپ گریڈ کیا جا رہا ہے، جس کے لیے محکمہ خزانہ کے ساتھ مشاورت جاری ہے

خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل وامور نوجوانان تاج محمد خان ترند نے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بٹگرام کو کیٹیگری بی میں اپ گریڈ کیا جا رہا ہے، جس کے لیے محکمہ خزانہ کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔ ہسپتال کو کیٹیگری بی کا درجہ دلانا ہماری اولین ترجیح ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نگران دور میں ضلع بٹگرام کے ساتھ ناانصافی ہوئی اور محکمہ خزانہ سے ایس این ای واپس کی گئی جو علاقہ کے ساتھ زیادتی تھی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر سے جاری ایک بیان میں کیا۔تاج محمد خان ترند کا کہنا تھا کہ وہ بٹگرام کے عوام کے بے حد مشکور ہیں جنہوں نے انہیں اور ان کے خاندان کو عزت اور اعتماد دیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہارکیا کہ وہ اس اعتماد پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے اور عوام کی توقعات اور امیدوں پر پورا اتریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتال کو کیٹیگری بی کا درجہ ملنے سے بٹگرام کے عوام کو صحت کی بہتر اور مزید سہولیات میسر آئیں گی۔تاج محمد خان ترند نے کہا ہے کہ 31 مارچ تک بٹگرام کے تمام آر ایچ سیز (RHCs)، بی ایچ یوز (BHUs) اور سی ڈیز (CDs) میں ڈاکٹروں کی تعیناتی مکمل کر دی جائے گی۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور موجود ہ خالی آسامیوں کو جلد از جلد پُر کیا جا رہا ہے تاکہ دور دراز علاقوں کے لوگوں کو بھی معیاری طبی سہولیات میسر آ سکیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر صحت خلیق الرحمٰن نے صحت سہولت پروگرام سے متعلق مالی امور اور انتظامی چیلنجز کا جائزہ لینے کے حوالے سے منعقدہ ایک اہم اجلاس کی صدارت کی

خیبر پختونخوا کے وزیر صحت خلیق الرحمٰن نے صحت سہولت پروگرام سے متعلق مالی امور اور انتظامی چیلنجز کا جائزہ لینے کے حوالے سے منعقدہ ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں ضلع مردان کے مختلف سرکاری ہسپتالوں کو درپیش مسائل پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں صحت سہولت پروگرام کے سربراہ ریاض تنولی، ضلع مردان کے ضلعی نگرانِ صحت اور صحت سہولیات کے نفاذ و انتظام سے متعلق دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے دوران فنڈز کی موجودہ صورتحال، زیرِ التواء ادائیگیوں، طبی خدمات کی فراہمی میں درپیش مشکلات اور صحت کارڈ کے تحت کام کرنے والے ہسپتالوں کو پیش آنے والی انتظامی رکاوٹوں پر جامع بریفنگ دی گئی۔ سربراہ صحت سہولت پروگرام نے بلا تعطل طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے درکار مالی وسائل اور انتظامی ضروریات سے آگاہ کیا۔صوبائی وزیر صحت نے متعلقہ حکام کو بروقت فنڈز کے اجراء کی یقین دہانی کراتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صحت سہولت پروگرام کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ مستحق مریضوں کو معیاری اور مفت طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوامی فلاح حکومت کی اولین ترجیح ہے اور مالی و انتظامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔اجلاس میں مردان کے ہسپتالوں کی کارکردگی، بنیادی ڈھانچے کی ضروریات اور طبی خدمات کی فراہمی میں موجود خامیوں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر صحت نے ہدایت کی کہ تمام درپیش مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں، باہمی رابطہ کاری کو بہتر بنایا جائے اور ضلع کے عوام کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔اجلاس کے اختتام پر خلیق الرحمٰن نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ صحت صورتحال کی مسلسل نگرانی جاری رکھے گا اور صحت کے نظام میں شفافیت، کارکردگی اور احتساب کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گا تاکہ مردان کے عوام کو بلا تعطل اور معیاری طبی خدمات فراہم کی جا سکیں۔

پاکستان گورننس فورم مشترکہ عزم کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے اچھی حکمرانی صرف پالیسیوں سے نہیں بلکہ فنکشنل گوڈ گورننس سے پہچانی جاتی ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ پاکستان گورننس فورم 2026 میں شرکت کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو پورے پاکستان میں گورننس کو مضبوط بنانے کے لیے ہمارے مشترکہ عزم کو یکجا کرتا ہے مزمل اسلم نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ خیبرپختونخوا گورننس اصلاحات میں کسی بھی صوبے سے پیچھے نہیں۔ معزز وزیر اعلیٰ کی قیادت میں اچھی حکمرانی کو ایک منظم اصلاحاتی ایجنڈا کے طور پر آگے بڑھایا جا رہا ہے، جسے ادارہ جاتی تبدیلی، ڈیجیٹل جدت اور مالی نظم و ضبط کی حمایت حاصل ہے۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے پاکستان گورننس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
مزمل اسلم نے کہا خیبرپختونخوا نے پانچ سالہ ڈیجیٹائزیشن منصوبہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں مکمل کیا۔ تقریباً 170 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹائزیشن کے لیے شناخت کیا گیا جس میں سے 56 خدمات مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو چکی ہیں اور 73 خدمات میں الیکٹرانک ادائیگی کی سہولت دستیاب ہے۔ مزمل اسلم نے کہا خیبرپختونخوا نے کیش لیس پبلک فنانس نظام کی طرف واضح پیش رفت کی ہے۔ صرف جنوری 2025 میں 2,51,214 سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور 1,15,648 پنشنرز کی پنشن مائیکرو پیمنٹ گیٹ وے کے ذریعے ادا کی گئیں، جو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور قابلِ سراغ لین دین ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ ایک اہم اصلاح قرضہ جاتی نظم و نسق فنڈ کا قیام ہے، جو پاکستان میں صوبائی سطح پر اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسی کے ساتھ کے پی آر اے کی محصولات اصلاحات کے ذریعے صوبائی مالی خودمختاری کو مضبوط بنایا جا رہا ہے، جن میں جی آئی ایس پر مبنی پراپرٹی ٹیکسیشن، ریئل ٹائم ڈیجیٹل مانیٹرنگ، اینالیٹکس پر مبنی نفاذ شامل ہے۔ ان اصلاحات نے ٹیکس کی شرح بڑھائے بغیر ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا ہے۔ نتیجتاً خیبرپختونخوا کی اپنی آمدن دو سال میں دوگنی ہو کر 65 ارب روپے سے 129 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورننس اور ریگولیٹری نگرانی کو بھی نئی شکل دے رہی ہے۔ پشاور سیف سٹی پراجیکٹ، جو مارچ 2026 میں تکمیل کے قریب ہے، اور اے این پی آر و آر ایف آئی ڈی پر مبنی خودکار گاڑی شناختی نظام پولیسنگ کو پیشگی اور انٹیلی جنس پر مبنی ماڈل کی طرف منتقل کر رہے ہیں۔
مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں موجود 8,179 مدارس میں سے 1,300 سے زائد مدارس رجسٹر ہو چکے ہیں، جو تعلیمی نظام میں ادارہ جاتی انضمام اور شفاف نگرانی کی جانب اہم قدم ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ اسی طرح صوبے بھر میں نان کسٹم پیڈ (این سی پی) گاڑیوں کی میپنگ اور پروفائلنگ مکمل کر لی گئی ہے، اور اب انہیں باضابطہ رجسٹریشن کے ذریعے دستاویزی اور ریگولیٹڈ فریم ورک میں لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا خیبرپختونخوا اوٹ آف سکولز بچوں میں 50 فیصد کمی آئی ہے اور 1,500 کم کارکردگی والے اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ کا عمل شروع ہے جبکہ مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے 90 فیصد اساتذہ حاضری کو یقینی بنایا گیا ہے مزمل اسلم نے کہا کہ 250 صحت مراکز کو 24/7 زچگی خدمات کے لیے اپ گریڈ کیا گیا ہے جبکہ 54 ہسپتالوں کو بہتر انتظامی ماڈلز پر منتقل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل گورننس — ڈیجیٹل خیبرپختونخوا ڈیجیٹل تبدیلی اصلاحات کا مرکزی ستون ہے۔ آن لائن سرکاری خدمات کی توسیع، ای آفس سسٹمز کی مضبوطی، اور مختلف محکموں میں ای-پروکیورمنٹ کا نفاذ جاری ہے۔ 100 سے زائد سرکاری خدمات شہری پلیٹ فارمز جیسے دستک انیشی ایٹو کے ذریعے آن لائن فراہم کی جا رہی ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ ریگولیٹری و انتظامی جدیدیت کیلئے خیبرپختونخوا ایکسائز ڈیپارٹمنٹ نے کئی اہم اقدامات متعارف کروائے ہیں جن میں وہیکل اسمارٹ کارڈز کا اجرا، پراپرٹی ٹیکس ریکارڈز کی کمپیوٹرائزیشن، اوپن آکشن کے ذریعے انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس (IDC) کی کامیاب وصولی، جس سے 1.16 ارب روپے آمدن حاصل ہوئی ہے۔

Labour Department, Workers Welfare Board Khyber Pakhtunkhwa Advances Institutional Governance through IMC Formation

The Labour Department, Workers Welfare Board Khyber Pakhtunkhwa has taken a significant step towards strengthening institutional governance and enhancing industry linkages by advancing the formation of Institute Management Committees (IMCs) across its Technical and Vocational Education and Training (TVET) institutes.

In this regard, a 2 day sensitization workshop was organized under the Technical and Vocational Education and Training Sector Support Programme (TVET SSP). The workshop brought together Principals of Workers Welfare Board Khyber Pakhtunkhwa institutes to deliberate on the effective formation and operationalization of IMCs. Representatives from the Social Welfare Department and institute heads from the Technical Education & Vocational Training Authority (TEVTA) also actively participated in the session, reflecting a strong inter-departmental commitment towards collaborative governance in the TVET sector.

The workshop aimed to build awareness and understanding regarding the IMC framework and its critical role in strengthening institutional oversight, transparency, and performance. Participants were introduced to best practices in IMC formation, governance structures, and the mechanisms required to ensure active industry representation within the committees.

A key focus of the workshop was enhancing collaboration between TVET institutes and industry partners to align training programs with market demands. Through structured dialogue and group discussions, participants explored strategies to improve graduate employability by integrating industry insights into curriculum planning, skills standards, and practical training opportunities.

The session also emphasized the development of a sustainable and practical model for the operationalization of IMCs. Participants discussed clear terms of reference, roles and responsibilities of committee members, performance monitoring frameworks, and mechanisms for ensuring long-term functionality and impact.

By establishing strong, industry-aligned IMCs, the Workers Welfare Board Khyber Pakhtunkhwa aims to promote demand-driven skills development, strengthen institutional governance, and create sustainable career pathways for trainees across the province. The initiative reflects the department’s commitment to modernizing the TVET ecosystem and ensuring that workers and their families have access to quality technical education and enhanced employment opportunities.

This initiative was implemented with the support of the European Union in Pakistan and German Development Cooperation through the TVET Sector Support Programme (TVET SSP), delivered by GIZ Pakistan. The training was conducted by the Institute of Social and Policy Sciences (I-SAPS), which provided technical expertise and facilitation to ensure a comprehensive and outcome-oriented learning experience.

The Labour Department, Workers Welfare Board Khyber Pakhtunkhwa reaffirmed its commitment to continuing reforms in the TVET sector and fostering strong partnerships with development partners and industry stakeholders to drive inclusive economic growth and workforce development in the province.

محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا کے تعاون سے یاسمین بی بی گرلز ڈگری کالج پیر سعادی تخت بھائی مردان میں منشیات کے خلاف آگاہی سیمینار، سو سے زائد طالبات کی شرکت

محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا کے تعاون سے یاسمین بی بی گرلز ڈگری کالج پیر سعادی تخت بھائی مردان میں ایک مؤثر اینٹی ڈرگ آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کا مقصد طالبات کو منشیات کے مضر اثرات، ان کی اقسام، پھیلاؤ کی وجوہات، تعلیمی و سماجی نقصانات اور انسداد کے عملی اقدامات سے آگاہ کرنا تھا۔تقریب میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر خالد خان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں طالبات کو منشیات کے جسمانی، ذہنی اور سماجی نقصانات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ منشیات نہ صرف فرد کی صحت اور مستقبل کو تباہ کرتی ہیں بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کے لیے سنگین مسائل پیدا کرتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان نسل منشیات سے مکمل اجتناب کریں اور اپنے اردگرد آگاہی پھیلانے میں مثبت کردار ادا کریں۔انہوں نے مزید بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے منشیات کے خاتمے کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں، تاہم اس ناسور کے مکمل سدباب کے لیے والدین، تعلیمی اداروں اور معاشرے کے تمام طبقات کا تعاون ناگزیر ہے۔سیمنار میں سو سے زائد طالبات نے شرکت کی جبکہ طالبات نے آگہی کے حوالے سے مفید سوالات کیے جن کے تفصیلی جوابات دیے گئے۔ اس موقع پر طالبات کی جانب سے آگاہی پوسٹرز اور پیغامات بھی پیش کیے گئے جن میں Say No to Drugsکے موضوع کو اجاگر کیا گیا۔کالج کی پرنسپل میڈم ہلال بی بی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ادارہ نہ صرف معیاری تعلیم بلکہ طالبات کی اخلاقی و سماجی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دے رہا ہے تاکہ وہ ایک ذمہ دار اور باکردار شہری کے طور پر معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔تقریب کے دوران منتخب رضاکار طالبات کو باقاعدہ اینٹی ڈرگ ایمبیسیڈرز کے بیجز لگائے گئے جو دیگر تعلیمی اداروں میں بھی آگاہی مہم چلائیں گی۔ آخر میں کالج کے ڈائریکٹر محمد فدا حسین نے مہمانِ خصوصی کو شیلڈ پیش کی اور ان کی آمد پر شکریہ ادا کیا، جبکہ طالبات نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے ارد گرد معاشرے اور خاندانوں میں منشیات کے خلاف آگاہی میں موثر کردار ادا کریں گی۔

محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا کی منشیات کے خلاف بڑی کارروائی

صوبائی حکومت کی منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا نے پشاور کے قریب موٹروے سروس روڈ پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے منشیات کی سمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی اور ایک موٹر کار سے 24 کلوگرام چرس برآمد کر لی جبکہ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔محکمہ کے مطابق یہ کارروائی سپیشل سکواڈ ایکسائز انٹیلیجنس نے خفیہ اطلاع پر سعود خان گنڈاپور پراونشل انچارج ایکسائز انٹیلیجنس اور ماجد خان ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر، کاؤنٹر نارکوٹکس آپریشنزکی زیر نگرانی عمل میں لائی گئی جبکہ اسپیشل اسکواڈ کی قیادت وحید اکبر خان (انسپکٹر، ای آئی بی نے کی۔موصولہ تفصیلات کے مطابق مشتبہ موٹر کار نمبر ACJ-206 کی دوران تلاشی گاڑی سے 24,000 گرام (24 کلوگرام) چرس برآمد ہوئی اور بروقت کارروائی سے منشیات کی ترسیل کی بڑی کوشش ناکام بنا دی گئی۔محکمہ کے مطابق مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے تھانہ ایکسائز پشاور ریجن میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا نے واضح کیا ہے کہ صوبے بھر میں منشیات کے خلاف کارروائیاں زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بلاامتیاز جاری رہیں گی۔

Citizen Granted Relief of Rs. 30,000 in Gas Bill Arrears through Intervention of Wafaqi Mohtasib

Ameer Ghulab, a resident of District Peshawar, has been granted relief amounting to Rs. 30,000 in his gas bill arrears following the intervention of the Wafaqi Mohtasib Secretariat Regional Office Peshawar.

The complainant had approached the office regarding excessive arrears reflected in his gas bill. The inquiry was conducted by Advisor Mushtaq Jadoon, while implementation proceedings were overseen by Deputy Advisor Muhammad Alamzaib.

Upon completion of the investigation, directions were issued to the concerned gas company, which complied by adjusting and waiving Rs. 30,000 from the outstanding amount.

The Wafaqi Mohtasib Secretariat Regional Office Peshawar continues to provide free and expeditious relief to citizens against maladministration in federal departments. Complaints may also be lodged at the office or through the official WhatsApp number 0310-8147713.

KP Food Safety Authority cracks down on adulteration across province; thousands of litres of fake beverages, adulterated milk destroyed

The Khyber Pakhtunkhwa Food Safety & Halal Food Authority (KPFS&HFA) has spurred province-wide operations under its Ramazan enforcement plan, conducting major crackdowns in Peshawar, Abbottabad, Swat and Malakand against the sale and production of fake, substandard and unsafe food items.

According to a spokesperson for the authority, food safety teams seized and destroyed thousands of litres of counterfeit beverages, adulterated milk and hundreds of kilograms of substandard meat during multiple operations, while imposing heavy fines on several businesses for violations of food safety laws.

In Peshawar, a food safety team carried out an early morning raid after Sehri at the Old Vegetable Market near Bacha Khan Chowk. During the inspection, inspection team recovered various brands of fake and substandard beverages. Laboratory checks revealed that the Brix level of the drinks was below the prescribed standard. The counterfeit beverages were reportedly being prepared in houses and supplied to the market. Around 1,000 litres of fake drinks were confiscated from three shopkeepers and heavy fines were imposed.

In a separate action in Nothia Bazaar, food safety team conducted a surprise inspection of a minced meat processing unit, where substandard and unhygienic mince was being prepared. Approximately 250 kilograms of inferior mince was seized and destroyed on the spot. The owner was fined and served with an improvement notice for violating food safety regulations.

In Abbottabad, joint operations by the food safety team and the district administration resulted in a raid on a milk shop following a tip-off. More than 800 litres of adulterated milk were recovered and discarded on the spot. During inspection, a warehouse storing substandard and mislabelled margarine was sealed and 1,500 kilograms of margarine were taken into official custody. Several pakora shops and Iftar stalls were also inspected, and unhealthy and used cooking oil was disposed of at the site.

In Swat, the food safety team, in coordination with the district administration, conducted an operation in Tehsil Matta, seizing over 350 litres of expired beverages and 50 kilograms of substandard mince. The confiscated items were taken into custody and further legal proceedings were initiated.

Meanwhile, in Malakand, late-night checking was carried out at the Swat Motorway where vehicles transporting food items were inspected. Water adulteration was detected in milk tankers, leading to the destruction of 800 litres of adulterated milk and imposition of fines. In another action, 200 kilograms of substandard mince and 100 kilograms of substandard seekh kebabs were recovered from a vehicle and destroyed.

Director General KP Food Safety Authority Kashif Iqbal Jilani lauded the performance of the food safety teams and reiterated that there would be no compromise on public health. He warned that strict legal action would continue against those involved in adulteration and the sale of unsafe food items.

Meeting Chaired by Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa Reviews Ramazan Preparations

With the blessed month of Ramazan approaching, the Government of Khyber Pakhtunkhwa has initiated effective implementation of a comprehensive Ramazan Relief Plan to provide maximum ease and comfort to the people. In this regard, Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa, Shahab Ali Shah, chaired a high-level meeting to review province-wide preparations for Ramazan and issued detailed directives to the concerned departments and district administrations.

The Chief Secretary directed that price monitoring desks have been established in all districts, where continuous vigilance over the prices of essential commodities will be ensured. He emphasized that indiscriminate action must continue against hoarding, adulteration, inflation, and profiteering. Additional price magistrates have been assigned responsibilities to ensure swift and effective enforcement.

Stressing the importance of cooperation and mutual respect, the Chief Secretary instructed authorities to maintain close coordination with market associations and the trader community.

District administrations were also directed to deal with all citizens, including street vendors, with dignity, compassion, and within the bounds of law.

The meeting was informed that, keeping in view the sanctity of Ramazan, a joint strategy is being formulated in collaboration with respected religious scholars to discourage adulteration, price hikes, and profiteering. Public awareness in this regard will also be promoted through Friday sermons, highlighting moral responsibility.

In addition, comprehensive plans have been put in place for traffic management, cleanliness of markets, and the organized elimination of professional begging, to maintain order and dignity in public spaces during the holy month.
The meeting was further briefed that, with the support of philanthropists and welfare organizations, Ramazan Dastarkhwans will be arranged at various locations to provide food to the needy and deserving. Special coordination is also being maintained with relevant institutions to ensure uninterrupted supply of electricity and gas.

For prompt redressal of public grievances, dedicated WhatsApp numbers have been issued in all districts, enabling citizens to lodge complaints regarding price hikes or shortages. Complaints can also be submitted through the Marastyal App for added convenience.

The Chief Secretary reaffirmed that the Government of Khyber Pakhtunkhwa is fully committed to facilitating the public and providing maximum relief during the blessed month of Ramazan, and that all available resources will be utilized to serve the public.

خد مات تک بروقت رسائی کے لیے انقلابی اقدام، شکایات کے اندراج کے لیے جدید موبائل ایپ کا اجرا

رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن کی جانب سے عوام کو درپیش مسائل کے فوری اور مؤثر حل کے لیے جدید موبائل ایپ کا باقاعدہ اجرا کر دیا گیا ہے۔ اس ایپ کا مقصد شہریوں کو سرکاری خدمات سے متعلق شکایات کے اندراج، ان کی بروقت پیروی اور شفاف انداز میں حل کی سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ عوام کو دفاتر کے چکر لگانے کی بجائے گھر بیٹھے آسان رسائی حاصل ہو سکے۔یہ موبائل ایپ شہریوں کو ایک سادہ اور صارف دوست پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے جہاں وہ متعلقہ سرکاری ادارے کے خلاف اپنی شکایت چند مراحل میں درج کر سکتے ہیں۔ ایپ کے ذریعے شکایت کی موجودہ صورتحال کو آن لائن ٹریک کیا جا سکتا ہے، جس سے شفافیت اور جوابدہی کو فروغ ملے گا۔ مزید برآں، شہریوں کو شکایت کی پیش رفت سے متعلق بروقت اطلاعات بھی موصول ہوں گی۔ایپ کی نمایاں خصوصیات میں آن لائن شکایت کا اندراج، شکایت کی ٹریکنگ، متعلقہ محکمے کو فوری فارورڈنگ، مقررہ وقت کے اندر کارروائی کی نگرانی، صارف کو نوٹیفکیشنز کی فراہمی، اور شکایت کے حل کے بعد فیڈبیک دینے کی سہولت شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایپ میں عوامی خدمات سے متعلق معلومات اور رہنمائی بھی فراہم کی گئی ہے تاکہ شہری اپنے حقوق اور دستیاب خدمات سے آگاہ رہ سکیں۔یہ اقدام نہ صرف عوامی سہولت میں اضافہ کرے گا بلکہ سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے، شفافیت کو مضبوط کرنے اور عوام کے اعتماد کو بحال کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن خیبر پختونخوانے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوام کو معیاری اور بروقت خدمات کی فراہمی کے لیے استعداد کار میں اضافہ، ڈیجیٹل جدت اور شہری مرکز حکمرانی کو مزید فروغ دیا جائے گا۔