گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے جمعہ کے روز لیڈی ریڈنگ ھسپتال پشاور کا دور کیا اورگھڑی قمر دین پشاور بم دھماکہ کے زیر علاج زخمی پولیس اہلکاروں کی عیادت کی،گورنر خیبر پختونخوا ہسپتال میں زیر علاج پولیس زخمیوں سے فرداً فرداً ملے اور انکی خیریت دریافت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا،،انہوں نے اس موقع پرہسپتال انتظامیہ سے زخمی پولیس اہلکاروں کو علاج معالجہ سہولیات سے متعلق معلومات بھی حاصل کیں،گورنر خیبر پختونخوا نے بم دھماکے میں شہید پولیس اہلکار کوبھی خراج عقیدت پیش کیا اورشہید پولیس اہلکار کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت،پسماندگان کیلئے صبر جمیل کی دعا کی۔گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ اور قیام امن کے لئے پولیس کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائینگی، خیبر پختونخوا پولیس بہاردری سے دہشتگردوں کامقابلہ کر رہی ہے
صوبائی کابینہ کا 39 واں اجلاس
خیبر پختونخوا کابینہ کا 39 واں اجلاس وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت جمعرارت کے روز پشاور میں منعقد ہوا جس میں کابینہ اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، متعلقہ انتظامی سیکرٹریز اورایڈووکیٹ جنرل نے شرکت کی۔کابینہ اجلاس میں کئے گئے اہم فیصلوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے بتایا کہ کابینہ نے سرکاری کالجوں میں اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لئے عارضی بنیادوں پر بھرتی کی منظوری دی ہے، اس فیصلے کی روشنی میں تین ہزار سے زائد اساتذہ بھرتی کئے جائیں گے،ان عارضی اساتذہ کی بھرتی پر سالانہ تین ارب روپے لاگت آئے گی۔ اسی طرح صوبائی کابینہ نے ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کو بی اے کی ڈگری کے مساوی ملازمت کے لئے موزوں قرار دینے کی منظوری دی جس کی رو سے ایسوسی ایٹ ڈگری ہولڈرز بھی بی اے کی ڈگری کے مساوی ملازمت کے لئے اہل تصور کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ کالج اساتذہ کی بھرتی کے عمل میں میرٹ اور شفافیت کو ہر لحاظ سے یقینی بنایا جائے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید بتایا کہ کابینہ نے وفاقی حکومت کی طرف سے غیر منقولہ جائیداد کے انتقال پر عائد فیڈرل ٹیکس کو عدالت میں چیلنج کرنے کی منظوری دی ہے،غیر منقولہ جائداد کے انتقال پر ٹیکس عائد کرنا صوبائی حکومت کا دائرہ اختیار ہے۔ اجلاس میں سیاحت کے فروغ کے سلسلے میں سیاحتی مقامات میں انفراسٹرکچر کی بہتری، تزین و آراش اور صفائی کے لئے گلیات ڈیویلپمنٹ اتھارٹی اور دیگر اتھارٹیز کو ایک ارب روپے گرانٹ ان ایڈ کی منظوری بھی دی گئی۔ مشیر اطلاعات نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں سرکاری سکولوں میں انرولمنٹ کی شرح کو بڑھانے اور تعلیم کے معیار کو بہتر کرنے کے لئے بعض سکولوں اور کالجوں کو پائلٹ بنیادوں پر آوٹ سورس کرنے کی منظوری دی گئی جس کے تحت ایسے سکولوں اور کالجوں کو آوٹ سورس کیا جائے گا جن میں انرولمنٹ انتہائی کم ہو۔انہوں نے کہا کہ آوٹ سورسنگ سے ان تعلیمی اداروں میں تعینات اساتذہ کی ملازمت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور آوٹ سورسنگ کے بعد بھی ان سکولوں میں تعلیم بالکل مفت فراہم کی جائے گی اور تمام اخراجات صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔ کابینہ نے جائیداد میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے ویمن پراپرٹی رائیٹس رولز 2025 کی منظوری بھی دی۔ اجلاس میں ویمن کمیشن کی نئی چئیرپرسن اور ممبران کی تعیناتی کی منظوری دی گئی۔کابینہ نے ضلع پہاڑ پور اور ضلع اپر سوات کے ناموں سے دو نئے اضلاع کے قیام کی منظوری دی ہے۔ اسی طرح کابینہ نے خیبر پختونخوا ماؤنٹین ایگریکلچر پالیسی کی منظوری دی،جس سے خیبر پختونخوا ماونٹین ایگریکلچر پالیسی متعارف کروانے والا ملک کا پہلا صوبہ بن گیا۔ اجلاس میں فارمیسی سروسز پالیسی کی منظوری دی گئی،فارمیسی سروسز پالیسی ملک میں اپنی نوعیت کی پہلی پالیسی ہے، کابینہ نے شہری علاقوں میں شجرکاری کے سلسلے میں صوبائی دارالحکومت پشاور کے لئے 10 کروڑ روپے جبکہ دیگر ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کے لئے پانج، پانچ کروڑ روپے کی منظوری دی۔ کابینہ نے باجوڑ، تیراہ، کرم، وانا و دیگر اضلاع میں واقعات کے دوران شہداء کے لواحقین کے لئے خصوصی معاوضوں کی منظوری بھی دی۔ اجلاس میں کینسر اور بون میرو کے دو مریضوں کے علاج معالجے کے لئے 45 لاکھ روپے کی منظوری دیدی گئی۔ مشیر اطلاعات نے بتایا کہ کابینہ نے صوبے کی مختلف بار ایسوسی ایشنز کے لئے بھی گرانٹس ان ایڈ کی منظوری دی۔ اجلاس میں صحت اور خصوصی بچوں کی تعلیم کے شعبوں میں کام کرنے والے تین غیر سرکاری تنظیموں کے لئے بھی چار کروڑ روپے گرانٹس ان ایڈ اور ڈبلیو ایس ایس سی ہری پور کے لئے گرانٹ ان ایڈ کی منظوری بھی دی گئی۔اسی طرح رائیٹ آف وے پالیسی 2022 کے تحت رائیٹ آف وے چارجز ختم کرنے کی بھی اجلاس میں منظوری دی گئی۔ اجلاس میں پشاور بنوں کو ہاٹ ڈی آئی خان میں ایف جی تعلیمی اداروں بی ایس بلاکس بنانے کے لئے نان ا ے ڈی پی سکیم کی بھی منظوری دی گئی۔مشیر اطلاعات نے بتایاکہ کابینہ نے رضاکارانہ طور پر وطن واپس جانے والے افغانستان کے شہریوں کو ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کے لئے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو ریلیف فنڈ سے رقم استعمال کرنے کی اجازت بھی دی ہے۔
کابینہ میں ردوبدل عمران خان کے وژن کو آگے بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ کابینہ میں ردوبدل عمران خان کے وژن کو آگے بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے، سیاسی رنگ دے کر مخالفت کرنے والے دراصل عمران خان کے وژن کے مخالف ہیں، ملاقات میں عمران خان نے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کو حکومتی کارکردگی مزید بہتر بنانے کی ہدایت دی تھی، عمران خان نے وزیر اعلیٰ پر مکمل اعتماد کا اظہار اور کابینہ میں ردوبدل کا اختیار دیا تھا، کابینہ میں تبدیلی حکومتی کارکردگی کو مزید موثر بنانے کے لیے کی گئی ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ کابینہ میں تبدیلی وزیر اعلیٰ کا صوابدیدی اختیار ہے، وہ کسی بھی وقت ردوبدل کر سکتے ہیں، موجودہ حالات میں بہترین ٹیم تشکیل دینا وقت کی ضرورت ہے،عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اورکابینہ میں ردوبدل ایک مثبت اور جمہوری عمل ہے۔
خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کی واٹر ٹیسٹنگ مہم مکمل، 40 فیصد بوٹلڈ واٹر غیر معیاری و مضر صحت قرار
خیبرپختونخوا میں فوڈ اتھارٹی کی جانب سیواٹر ٹیسٹنگ مہم مکمل ہونے اور نتائج آنے پر 40 فیصد بوٹلڈ واٹر (bottled water)غیر معیاری و مضر صحت قرار دے دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق صوبہ بھر سے مختلف انڈسٹریز کے 19 لیٹر،1.5 لیٹر، 500 اور300 ملی لیٹر کے بوٹلڈ واٹر سے156 نمونے حکومت خیبر پختونخوا کی نئی قائم شدہ پراونشل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری سے ٹیسٹ کیے گئے، جن میں 59.61 فیصد تسلی بخش جبکہ 40.39 فیصد غیر معیاری و مضر صحت ثابت ہوئے۔ڈائریکٹر جنرل فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی واصف سعید نے گزشتہ روز اس حوالے سے وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو کو تفصیلی بریفنگ دی۔ مہم کے دوران 56 واٹر سورسز کے نمونے بھی چیک کیے گئے جن میں 27 تسلی بخش اور 29 نمونے غیر معیاری ومضر پائے گئے۔ بریفنگ میں صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ رپورٹ کے مطابق 61 بوٹلڈ واٹر نمونوں میں خطرناک جراثیم جیسے کولی فام، فیکل کولی فام، ای کولائی اور پیسوڈوموناس اریجنو سا کی موجودگی جبکہ 2 نمونوں میں خطرناک کیمیائی اجزاء پائے گئے جو انسانی صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہیں۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ صوبے میں فعال 143 واٹر انڈسٹریز روزانہ 419096 لیٹر پانی تیار کر رہی ہیں جن میں سے 117543لیٹر پانی غیر معیاری ثابت ہوا۔ واٹر ٹیسٹنگ مہم 23 اگست سے 19 ستمبر تک جاری رہی۔ صوبائی وزیر کو یہ بھی بتایا گیا کہ دوسرے مرحلے میں صوبہ بھر کے رہائشی علاقوں میں سرکاری و نجی واٹر فلٹریش پلانٹس اور واٹر سورسز کی ٹیسٹنگ ہوگی۔وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے کہا کہ غیر معیاری پانی تیار کرنے والی انڈسٹریز پر بھاری جرمانے عائد کر دیے گئے ہیں اور انہیں مارکیٹ سے اسٹاک واپس اٹھانے کی سختی سے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ فیل شدہ واٹر انڈسٹریز کے پراسیسنگ سسٹم کی درستگی تک ان کی مصنوعات پر مارکیٹ میں پابندی عائد رہے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں پہلی بار نئی قائم شدہ پراونشل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری اینڈ سنٹر فار ریسرچ کے ذریعے وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ مہمات کا آغاز کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایات پر مختلف فوڈ پروڈکٹس کی کوالٹی چیک کرنے کے لئے مہمات جاری ہیں اور اس کا مقصد انڈسٹریز کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔وزیر خوراک نے واضح کیا کہ ہر صورت صوبے سے غیر معیاری و مضر صحت اشیاء اور ملاوٹ مافیا کا خاتمہ کریں گے، معیاری خوراک یقینی بنا کر اسپتال ویران کریں گے۔
راہِ کامیابی کانفرنس 2025 کا شاندار اور مؤثر انعقاد
کینٹ پبلک سکول اینڈ کالج نوشہرہ میں راہِ کامیابی کانفرنس 2025 کا تین روزہ انعقاد نہایت منظم اور شاندار انداز میں ہوا تین روزہ کانفرنس میں خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والی ہنر مند خواتین نے بھرپور شرکت کی جن میں نوشہرہ، پشاور، چارسدہ، مردان، صوابی، ہری پور، ایبٹ آباد، جہانگیرہ، اکوڑہ اور گردونواح کے علاقے شامل تھے کانفرنس میں ہینڈ ایمبرائڈری، قریشیا ورک، اسٹچنگ، ڈریس ڈیزائننگ، کینڈل میکنگ، بیوٹیشن اور مہندی کے مقابلے منعقد کیے گئے جن میں خواتین کی بڑی تعداد نے اپنی فنی مہارتوں کا عملی مظاہرہ کیا کانفرنس کی اختتامی تقریب کے مہمانانِ خصوصی میں چیف ایگزیکٹو آفیسر نوشہرہ کینٹونمنٹ بورڈ راجہ حیدر شجاع، اے آئی جی جینڈر انیلا ناز، سماجی رہنما سیدہ ناہید اختر اور چیف آرگنائزر سیدہ مہوش بخاری شامل تھیں جنہوں نے مختلف زمروں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی خواتین میں انعامات اور سرٹیفیکیٹس تقسیم کئے گئے تین روزہ کانفرنس میں شرکاء اور طلبہ کے لیے متعدد تکنیکی اور آگاہی سیشنز کا بھی اہتمام کیا گیا۔ فارن افیئرز کے حوالے سے خصوصی لیکچر میں بیرون ملک غیر قانونی سفر کے نقصانات اور قانونی سزاؤں پر روشنی ڈالی گئی۔ اسی طرح ACCA ایویڈنس سیشن اور انٹرپرینیورشپ ورکشاپ میں خواتین کو اپنے ہنر کو کاروبار میں تبدیل کرنے، بزنس پلان سازی اور کاروباری رجسٹریشن کے طریقہ کار سے متعلق رہنمائی فراہم کی گئی کانفرنس کے شرکاء اور منتظمین کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی اختتامی تقریب کے موقع پر مقررین نے تین روزہ کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر سہرا چیف آرگنائزر سیدہ مہوش بخاری اور لیڈ آرگنائزر سید احتشام حسین شاہ بخاری کے کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ آرگنائزرز نے اپنی ٹیم کے ہمراہ اس ایونٹ کو بہترین انداز میں منظم کیا۔ اختتامی تقریب میں کور کمیٹی ممبران کو ان کی خدمات کے اعتراف میں ٹوکن آف اپریسی ایشن بھی پیش کیے گئے راہِ کامیابی کانفرنس 2025 نہ صرف خواتین کی ہنر مندی کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بنی بلکہ انہیں معاشی خود مختاری اور کاروباری مواقع سے متعلق عملی رہنمائی بھی فراہم کی گئی، جو آئندہ کے لیے ایک مثبت اور پائیدار مثال ہے۔
خیبر پختونخوا میں فش بائیو ڈائیورسٹی سینٹر کے قیام اور فش فارمنگ میں جدید ٹیکنالوجی کے آغاز سے صوبے میں ماہی پروری کے شعبے میں نمایاں ترقی کی راہ ہموار ہوگی
خیبر پختونخوا میں فش بائیو ڈائیورسٹی سینٹر کے قیام اور فش فارمنگ میں جدید ٹیکنالوجی کے آغاز سے صوبے میں ماہی پروری کے شعبے میں نمایاں ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔ یہ بات صوبائی وزیر لائیوسٹاک و فشریز فضل حکیم خان یوسفزئی نے فش فارمنگ سے متعلق پشاور میں منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل فشریز محمد شفیع مروت، ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ زبیر علی، ڈائریکٹر ہیڈکوارٹر فواد خلیل سمیت متعلقہ حکام شریک تھے۔اس موقع پرصوبائی وزیر نے واضح ہدایات جاری کیں کہ فش بائیو ڈائیورسٹی سینٹر پشاور کے قیام میں حائل تمام رکاوٹیں فوری طور پر دور کی جائیں اور اس کا افتتاح جلد از جلد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فشریز سیکٹر میں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے فقدان کے باعث ترقی کی رفتار سست ہے، جبکہ دنیا بھر میں ماہی پروری کی جدید بنیادیں تحقیق ہی سے مستحکم ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی سیکٹر تحقیق کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔صوبائی وزیر نے اس مقصد کیلئے آئندہ ہفتے ایک اعلیٰ سطح اجلاس منعقد کرنے کی بھی ہدایت دی تاکہ منصوبے پر عملی کام جلد شروع ہوسکے اور ادارے کا قیام بروقت ممکن بنایا جائے۔صوبائی وزیر نے صوبے کی سب سے بڑی شیر آباد فش ہیچری کو جدید خطوط پر اپ گریڈ کرنے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ ہیچری کی بہتری سے زمینداروں کے ساتھ ساتھ دریاؤں اور ڈیموں کیلئے بھی بچہ مچھلی وافر مقدار میں دستیاب ہوسکے گی۔ڈائریکٹر جنرل فشریز محمد شفیع مروت نے صوبائی وزیر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ شیر آباد ہیچری کی اپ گریڈیشن کیلئے ایک منصوبہ تجویز کے طور پر جمع کروا دیا گیا ہے، اور منظوری کے بعد اس پر فوری عملدرآمد شروع کر دیا جائے گا۔صوبائی وزیر نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ ماہی پروری کی ترقی کیلئے عملی اقدامات میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور تحقیق پر مبنی منصوبہ بندی سے صوبے میں فشریز سیکٹر کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی ہدایات، پشاور ڈویژن کے تمام پانچوں اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی روزانہ کی ں بنیاد پر سخت نگرانی کا فیصلہ
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی ہدایات، پشاور ڈویژن کے تمام پانچوں اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی روزانہ کی ں بنیاد پر سخت نگرانی کا فیصلہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، ترقیاتی منصوبوں میں بدعنوانی، سست روی، غفلت اور شفافیت برقرار نہ رکھنے کی صورت میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، بدعنوانی اور غیر معیاری کام کی صورت میں ٹھیکدار کو بلیک لسٹ کرکے کیس براہِ راست انسداد رشوت ستانی (اینٹی کرپشن)اور نیشنل اکاؤنٹی بلٹی بیورو (نیب) کو ارسال کیا جائے گا مقررہ مدت میں ترقیاتی منصوبے مکمل نہ کرنے کی صورت میں بھی متعلقہ افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، اس سلسلے میں حکمت عملی طے کرنے اور ضابطہ اخلاق مرتب کرنے کے لئے پشاور ڈویژن کے تمام تمام پانچوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو دو دن کے اندر اجلاس منعقد کرنے کے احکامات جاری کیے گئے مسافر اڈوں، مراکز صحت، اسکولوں، ہسپتالوں، پٹوار خانوں، سروس ڈیلوری سنٹروں اور دیگر عوامی خدمات فراہم کرنے والے تمام محکموں کی بھی سخت نگرانی کا فیصلہ کیا گیا اور خدمات کی فراہمی میں سست روی، کوتاہی اور رشوت ستانی کے خاتمے کے لیے بھی پشاور ڈویژن کے تمام پانچوں اضلاع کی ضلعی انتظامیہ کو احکامات جاری کیے گئے۔اس حوالے سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی خصوصی ہدایات پر کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں پشاور ڈویژن کے تمام پانچوں اضلاع پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، قبائلی ضلع مہمند اور ضلع خیبر کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز فنانس اینڈ پلاننگ، ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر اور سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے شرکت کی اجلاس میں پانچوں اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے کمشنر پشاور ڈویژن کو تفصیلی آگاہی دی گئی جس کے تناظر میں سخت احکامات جاری کئے گئے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت سے بروقت تکمیل کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں اور تمام اضلاع کے متعلقہ افسران زمہ داری کا مظاہرہ کریں تاکہ ترقیاتی منصوبوں کی جلد شفافیت سے بروقت تکمیل یقینی بنائی جاسکے اس سلسلے میں انہوں نے روزانہ کی کارکردگی رپورٹ بذریعہ ڈی ایس آر طلب کرلی
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا کے دفتر میں پولیس شہداء کو پلاٹ الاٹمنٹ لیٹر جاری کرنے کی تقریب
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا کے دفتر سول سیکرٹریٹ پشاور میں پولیس شہداء کے لواحقین کو پلاٹ الاٹمنٹ لیٹر جاری کرنے کی تقریب منعقد ہوئی جس میں مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے پانچ پولیس شہداء کے لواحقین کو الاٹمنٹ لیٹرز حوالے کیے۔ اس موقع پر ڈی آئی جی فنانس سید فدا حسین شاہ، ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ توصیف خالد و دیگر حکام کے علاؤہ شہداء کے لواحقین نے شرکت کی۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا کی ہدایات پر نئے شہید پیکج 2025 کے مطابق الاٹمنٹ لیٹرز حوالے کیے گئے پلاٹ اور پیکج شہداء کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس شہداء پیکج کے کیش فنڈز میں بھی اضافہ کیا گیا ہے جبکہ شہداء کے لواحقین کو گریڈ وائز کے حساب مختلف سائز کے پلاٹ بھی شہید پیکج 2025 کا حصہ ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس شہداء پیکج 2025 کے تحت کانسٹیبل سے انسپکٹر تک کے لواحقین کو 11 ملین روپے دیئے جائیں گے اسی طرح کانسٹیبل و ہیڈ کانسٹیبل کے لواحقین کو 5 مرلہ پلاٹ جبکہ اے ایس آئی، ایس آئی و انسپکٹر کو 7 مرلہ پلاٹس دئیے جائیں گے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ پولیس شہداء پیکج 2017 میں صرف دس ملین روپے تھے جس میں پلاٹ کی قیمت بھی شامل تھی۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس پیکج 2025 میں ڈی ایس پی، اے ایس پی کے لواحقین کو 16 ملین روپے اور 10 مرلہ پلاٹ الگ دیا جائے گا۔ اسی طرح ایس پی، ایس ایس پی اور اے آئی جی کو 21 ملین روپے اور ایک کنال کا پلاٹ دیا جائے گا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ڈی آئی جی، اے آئی جی پی اور آئی جی کے لواحقین کو 21 ملین روپے اور کنال پلاٹ دیا جائے گا۔
کے ایم یو ہسپتال میں شوگر،بلڈ پریشر اور دیگر امراض کے فری میڈیکل کیمپ کا افتتاح
کے ایم یو ہسپتال میں فری میڈیکل کیمپ کا افتتاح وائس چانسلر خیبر میڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو)پشاور پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق اور معروف ماہر امراض قلب و سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمدحفیظ اللہ نے کیا۔ اس موقع پر ڈین کلینیکل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر فوزیہ گل،کے ایم یو ہسپتال کی ڈائریکٹر ڈاکٹر شائستہ خان،میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر امجد علی اور رجسٹرار انعام اللہ وزیر سمیت مختلف ماہرین طب اور افسران بھی موجود تھے۔ واضح رہے کہ یہ فری میڈیکل کیمپ تین اکتوبر تک کے ایم یو ہسپتال، نزد پی آئی سی فیز 5 حیات آباد پشاور میں جاری رہے گا، جس میں مریضوں کو مفت طبی معائنہ، تشخیص اور ضروری ٹیسٹوں کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ کیمپ کے دوران مریضوں کا تفصیلی معائنہ اور تشخیص کی جائے گی، جبکہ شوگر کے مریضوں کو پاؤں کی دیکھ بھال، زخموں سے بچاؤ کی تدابیر اور آنکھوں کا مکمل معائنہ بھی بالکل مفت کیاجارہاہے۔تفصیلات کے مطابق کیمپ کے پہلے روز422 مریضوں کا معائنہ کیا گیا جن میں ہر عمر اور جنس کے افراد شامل تھے۔ مریضوں کو شوگر، بلڈ پریشر، آنکھوں، دانتوں اور موٹاپے سے متعلق رہنمائی و علاج معالجے کے ساتھ ساتھ غذائی مشاورت بھی فراہم کی گئی۔ علاوہ ازیں مریضوں کے HbA1C، بلڈ شوگر، یورک ایسڈ، ایل ڈی ایل، ای سی جی اور ایکو ٹیسٹ بھی مفت کرائے گئے۔کیمپ میں پروفیسر ڈاکٹر حفیظ اللہ، پروفیسر ڈاکٹر فوزیہ گل، پروفیسر ڈاکٹر وزیر محمد، پروفیسر ڈاکٹر عبدالجلیل خان، پروفیسر ڈاکٹر صوبیہ صابر علی، پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم گنڈاپور اور دیگر ماہرین طب نے مریضوں کو علاج اور مشاورت فراہم کی۔ کیمپ کے شرکاء نے علاج معالجے،تشخیص اور مشاورت وراہنمائی کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کے ایم یو کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا۔اس موقع پر وائس چانسلر کے ایم یو پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے کہا کہ کے ایم یو ہسپتال صوبے میں صحت کے شعبے میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے، جو نہ صرف بہترین علاج معالجہ فراہم کرے گا بلکہ تحقیق کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔ا نہوں نے کہا کہ کے ایم یو ہسپتال کو اس خطے کا ایک بہترین اور مثالی ہسپتال اور ریسرچ سنٹر بنانا ہمارا مشن ہے جس کے لیئے تمام ضروری وسائل بروئے کار لائے جائیں گی۔ پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے کہا کہ شوگر اور بلڈ پریشر دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی تیزی سے بڑھنے والی بیماریاں ہیں جنہیں بجا طور پر ”خاموش قاتل“ کہا جاتا ہے۔ ان امراض کی بروقت تشخیص اور علاج نہ صرف مریضوں کی جان بچا سکتے ہیں بلکہ انہیں مزید پیچیدگیوں سے بھی محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
خیبرپختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی کی جانب سے نیو پشاور ویلی پروجیکٹ سے متعلق اورینٹیشن سیشن کا انعقاد
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی نے کہا ہے کہ صوبہ میں 7 لاکھ گھروں کی شارٹ فال پورا کرنے کے لیے محکمہ ہاؤسنگ موثر اقدامات اٹھا رہا ہے، نیو پشاور ویلی صوبے کا سب سے بڑا رہائشی منصوبہ ہے، خیبرپختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی کا نیو پشاور ویلی پروجیکٹ سے متعلق قلیل عرصے میں خاطر خواہ پیش رفت قابل ستائش ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز نیو پشاور ویلی پروجیکٹ کے مرکزی دفتر تحصیل پبی ضلع نوشہرہ میں منعقدہ اورینٹیشن سیشن کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اورینٹیشن سیشن میں سیکرٹری محکمہ ہاؤسنگ محمود اسلم وزیر، ڈائریکٹر جنرل خیبر پختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی، مختلف محکموں کے سربراہان و نمائندے، اراضی مالکان، صحافی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اور اسٹیک ہولڈرز شریک تھے۔ اس موقع پر سیکرٹری محکمہ ہاؤسنگ اور ڈی جی کے پی ایچ اے نے شرکاء کو نیو پشاور ویلی پروجیکٹ پر پیش رفت، اس کی اہمیت اور ضرورت سمیت محکمانہ اصلاحات جبکہ دیگر جاری رہائشی منصوبوں کے بارے میں بھی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ 1 لاکھ 6 ہزار کنال پر مشتمل نیو پشاور ویلی مختلف پلاٹس سائز اور 7 فیزوں پر مشتمل ایک رہائشی منصوبہ ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ منصوبے کے لیے ایکسپریس وے، لنکس روڈز اور اس کی فیز ون پر کام شروع کرنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ نیو پشاور ویلی پراجیکٹ میں تمام جدید سہولیات و لوازمات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی ڈاکٹر امجد علی کا کہنا تھا کہ نیو پشاور ویلی سے متعلق کمپنسیشن کمیٹی کا قیام قابل ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیو پشاور ویلی پراجیکٹ کا مقصد ضلع پشاور میں ایک نیے شہر کا قیام ہے۔ ڈاکٹر امجد علی کا کہنا تھا کہ محکمہ ہاؤسنگ نے بدعنوانی و اقرباء پروی کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخواکی خواہش ہے کہ محکمہ ہاؤسنگ کی زیر انتظام تمام رہائشی منصوبوں کو عوامی امنگوں اور ضروریات کے مطابق بروقت مکمل کیے جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ عوام مستفید ہوسکیں۔
