Home Blog Page 142

Media Enclave in New Peshawar Valley Housing Scheme – Chief Secretary Reviews Progress

A high-level meeting regarding the establishment of the Media Enclave in the New Peshawar Valley Housing Scheme was held Tuesday under the chairmanship of Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa, Shahab Ali Shah. Secretary Information and Public Relations Dr. Muhammad Bakhtiar Khan, Press Registrar Ansar Khilji, Director General Housing Imran Wazir, President Peshawar Press Club M. Riaz, and senior journalists attended the meeting.

The Chief Secretary directed the concerned departments to complete all spade work and formalities by October this year, ensuring that original allotment letters are handed over to journalists by the Chief Minister in November.

He stressed the importance of timely delivery, noting that the Media Enclave was a longstanding demand of the journalist community and a key initiative of the government.
Chief Secretary Shahab Ali Shah further announced that, on the recommendations of President Peshawar Press Club M. Riaz, housing schemes in other districts of the province would also be identified to provide similar residential facilities to journalists on the pattern of Peshawar Press Club. This, he said, would ensure that media professionals across Khyber Pakhtunkhwa have access to secure and well-planned housing.

Highlighting the government’s vision for climate-resilient development, he underlined that residents of new housing schemes would be required to plant a specified number of trees and saplings according to the size of their plots. He added that the government would not allow housing schemes to be developed in green or cultivated areas, making it clear that only barren (brown) land would be utilized to protect agriculture and the environment.

Speaking on the occasion, President Peshawar Press Club M. Riaz praised the efforts of the Chief Secretary, stating that the Media Enclave project once seemed impossible had been made possible due to the Chief Secretary’s personal commitment and support to the media fraternity.
Earlier, DG Housing Imran Wazir made a detailed presentation highlighting the facilities, connectivity, access points, green belts, and progress achieved so far in the New Peshawar Valley Housing Scheme. Senior journalists Shamim Shahid, Ismail Khan, Arshad Aziz Malik, Kashifuddin, and Faridullah Khan were also present at the meeting.

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت خیبر پختونخوا میں سیاحت کے فروغ کے لئے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت خیبر پختونخوا میں سیاحت کے فروغ کے لئے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ قدرتی حسن، بلند و بالا پہاڑوں، سرسبز وادیوں اور تاریخی و مذہبی مقامات سے مالا مال ہے اور یہی وہ وسائل ہیں جو خیبر پختونخوا کو ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے لئے ایک پرکشش مقام بناتے ہیں۔پشاور یونیورسٹی میں سیاحت کے عالمی دن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر اطلاعات نے کہا کہ موجودہ حکومت نے “ٹیررازم سے ٹورازم” کے وژن کے تحت پالیسی مرتب کی ہے جو بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے وژن کی عکاسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں دہشت گردی اور انتہا پسندی نے صوبے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا، تاہم آج حکومت کے موثر اقدامات اور عوامی تعاون کی بدولت خیبر پختونخوا سیاحت کے لئے ایک محفوظ اور پرامن خطہ بن رہا ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ ایڈونچر ٹورازم کے فروغ کے ساتھ ساتھ مذہبی سیاحت کو بھی خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ گندھارا تہذیب کے تاریخی مقامات، بدھ مت کے آثار قدیمہ اور دیگر مذہبی ورثہ عالمی سیاحوں کے لئے غیر معمولی کشش رکھتے ہیں۔ اسی طرح، وادی کالام، کمراٹ، گلیات، ناران اور دیگر خطے ایڈونچر اور قدرتی حسن کے اعتبار سے عالمی معیار کی سیاحت کے مراکز ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے نئے ٹورازم زونز کے قیام، سیاحتی انفراسٹرکچر کی بہتری، سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور نجی شعبے کی شمولیت کے ذریعے سیاحتی شعبے کو معاشی ترقی کا بنیادی انجن بنانے کا تہیہ کیا ہے۔ سیاحت کے فروغ سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ صوبے کی معیشت بھی مضبوط ہو گی۔مشیر اطلاعات نے طلباء اور اساتذہ پر زور دیا کہ وہ صوبے کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل ہمارے لئے سفیر کی حیثیت رکھتی ہے اور وہ سیاحت کے فروغ کے ذریعے دنیا کو خیبر پختونخوا کا اصل اور خوبصورت چہرہ دکھا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اس وژن پر عمل پیرا ہے کہ خیبر پختونخوا کو دہشت گردی کے بجائے سیاحت اور امن کا گہوارہ بنایا جائے۔تقریب کے بعد میڈیا نمائندوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ خود کو عالمی وزیراعظم کہنے والے شہباز شریف پاکستان میں فارم 47 کی بنیاد پر وزیراعظم بنے ہیں اور ان کے پاس عوامی مینڈیٹ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے ہمیشہ عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف پر اعتماد کیا ہے اور یہ اعتماد آئندہ بھی قائم رہے گا۔انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی حالیہ ملاقات کے بارے میں کہا کہ یہ ملاقات خوشگوار رہی۔ اس دوران عمران خان نے وزیراعلیٰ کو صوبائی محکموں کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ ملاقات میں وزراء کی کارکردگی اور حکومتی امور پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے افغانستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے امن و امان کے لئے افغانستان کے ساتھ باضابطہ بات چیت کے لئے ٹی او آرز وفاق کو بھیج دیے ہیں لیکن وفاقی حکومت ان کی منظوری نہیں دے رہی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختون خوا میں امن قائم رکھنے کے لئے افغانستان کے ساتھ مذاکرات نہایت اہم ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ ایک طرف مریم نواز کو بیرون ممالک کے دوروں پر کوئی قدغن نہیں، لیکن وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو افغانستان کے ساتھ ضروری اور اہم بات چیت کے لئے اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے زور دیا کہ وفاقی حکومت کو اس معاملے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ افغانستان سے مذاکرات خیبر پختونخوا میں دیرپا امن کے لئے ناگزیر ہیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات ارشد ایوب خان کی زیر صدارت اربن ایریاز ڈویلپمنٹ اتھارٹیز بورڈ کا 11واں اجلاس منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات ارشد ایوب خان کی زیر صدارت اربن ایریاز ڈویلپمنٹ اتھارٹیز بورڈ کا 11واں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وپارلیمانی لیڈر ممبر صوبائی اسمبلی اکبر ایوب خان، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ رنگیز احمد، ممبر صوبائی اسمبلی احسان اللہ خان، ممبر صوبائی اسمبلی شفیع اللہ جان، ممبر صوبائی اسمبلی زاہد اللہ خان، ممبر صوبائی اسمبلی حامد الرحمن، سیکرٹری بلدیات ثاقب رضا اسلم، مینیجنگ ڈائریکٹر یو اے ڈی اے مختیار احمد سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران تمام یو اے ڈی ایز بشمول ایبٹ آباد، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، ہری پور، کرک، کوہاٹ، مانسہرہ، مردان، صوابی اور سوات کے بجٹ پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر اربن ایریاز ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ایم ڈی نے اسٹاف کی کمی اور دیگر انتظامی مسائل پر بھی بریفنگ دی۔ اجلاس میں یو اے ڈی ایز کے آڈٹ، مالیاتی و سروس ریگولیشنز، ملازمین کے پلاٹ کوٹہ، گریجویٹی پیکیج، ایم ڈی آفس کے بجٹ، وژن و مشن سمیت مختلف اہم نکات زیر بحث آئے۔ سیکشن 27 کے مطابق یو اے ڈی ایز کے اکاؤنٹس کا آڈٹ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے تحت ہونا چاہیے تاہم تاحال یہ عمل مکمل نہیں ہوا۔ اجلاس نے فیصلہ کیا کہ اس حوالے سے ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے اے جی پی کو باضابطہ طور پر خط لکھا جائے گا تاکہ ہر یو اے ڈی اے کے اکاؤنٹس کا آڈٹ ممکن بنایا جا سکے۔ وزیر بلدیات ارشد ایوب خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کی تمام اربن ایریاز ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کو مالی طور پر مستحکم اور مضبوط بنایا جائے گا۔ انہوں نے تمام ڈائریکٹرز کو ہدایت کی کہ کرپشن سے مکمل اجتناب کریں اور آئندہ سب کمیٹی اجلاس میں جامع بزنس پلان پیش کریں۔

وزیر قانون خیبر پختونخوا آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پبلک سروس کمیشن (کے پی پی ایس سی) ایک آئینی اور خود مختار ادارہ ہے

وزیر قانون خیبر پختونخوا آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پبلک سروس کمیشن (کے پی پی ایس سی) ایک آئینی اور خود مختار ادارہ ہے، اور صوبائی حکومت اس کی مکمل خود مختاری کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزارتی کمیٹی برائے پبلک سروس کمیشن کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، جس میں چیئرمین کے پی پی ایس سی منیر اعظم، سیکرٹری محکمہ قانون اختر سعید ترک، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سید ذوالفقار شاہ، سیکرٹری کے پی پی ایس سی ذکاء اللہ خٹک، اور دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی۔ وزیر قانون نے کہا کہ کے پی پی ایس سی صوبائی حکومتی مشینری کے لیے اہل اور موزوں فنکشنریز کے انتخاب میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اور اسے حکومتی مشینری کو مزید اہل عملے کی فراہمی کے لیے با اختیار بنایا جائے گا۔اجلاس میں کے پی پی ایس سی کی کارکردگی اور اصلاحات پر تفصیلی غور کیا گیا۔جس کے مطابق، کمیشن نے جنوری 2025 سے 15 ستمبر 2025 تک 2075 اسامیوں کے لیے280,641 درخواستیں وصول کیں اور184.765 ملین روپے کا ریونیو حاصل کیا، جو کہ سال 2022 کے کل ریونیو 94.616ملین روپے اور 2023 کے 142.667ملین روپے (کل) کے مقابلے میں ایک نمایاں اضافہ ہے۔ مجموعی طور پر گزشتہ سالوں میں کمیشن نے 25 اشتہارات کے ذریعے 6917 پوسٹوں پر 565,917درخواستیں وصول کیں اور 327.432 ملین روپے کا ریونیو اکٹھا کیا۔ مسابقتی امتحانات کے حوالے سے، جنوری 2025 سے 15 ستمبر 2025 تک 5 امتحانات منعقد کیے گئے یا شیڈول ہوئے، جن میں 1253 اسامیوں کے لیے 80,306امیدوار شامل تھے، جبکہ 16 ستمبر 2025 سے 31 دسمبر 2025 تک مزید 10 امتحانات شیڈول ہیں جن میں 549 اسامیوں کے لیے 46,904 امیدواروں کی شمولیت متوقع ہے۔اجلاس میں بھرتی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے “پرپوزلز فار کرٹیلمنٹ آف ریکروٹمنٹ سائیکل” کے تحت مختلف کیٹگری وائز سائیکلز پر بھی بات کی گئی جن میں بھرتی کا دورانیہ کم کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ مثال کے طور پر، کیٹگری وائز سائیکل نمبر 1 (جنرل ریکروٹمنٹ) کا دورانیہ 16 ہفتے (4 ماہ) تجویز کیا گیا ہے، جبکہ کیٹگری وائز سائیکل نمبر 5 (سلیبس بیسڈ ریکروٹمنٹ) جس میں سکریننگ، تحریری امتحان، سائیکو اور انٹرویو شامل ہیں، اس کا دورانیہ 36 ہفتے (9 ماہ) رکھا گیا ہے۔ وزیر قانون نے لیٹیگیشن کے حوالے سے تجویز دی کہ بھرتی کے عمل کی تیزی کے پیش نظر شکایات کے ازالے کے لئے کے پی پی ایس سی کے متعلقہ ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے ایپیلٹ ٹریبونل کے قیام کے ذریعے کیسز کو بروقت حل کرکے حائل روکاوٹوں کو دور کر سکتی ہیں جس کے باعث وقت کے ضیاع کو قابو کیا جاسکے گا۔اس کے علاوہ، کے پی پی ایس سی کے عملے کے معاوضوں میں اضافہ کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی تاکہ اسے دیگر صوبائی اور وفاقی پبلک سروس کمیشنز کے برابر لایا جا سکے۔ ایک تقابلی بیان کے مطابق، موجودہ ریٹ اور مجوزہ ریٹ کے درمیان واضح فرق موجود ہے، مثال کے طور پر، سبجیکٹیو پیپر سیٹنگ کا موجودہ ریٹ 6000 روپے ہے جسے بڑھا کر 15000 روپے کرنے کی تجویز ہے، جبکہ MCQs پیپر سیٹنگ (50-60 سوالات) کا ریٹ 4000 روپے سے بڑھا کر 10000 روپے اور انٹرویو پینل کے سبجیکٹ ایکسپرٹ کا ریٹ 1000 روپے سے بڑھا کر 3000 روپے کرنے کی تجویز ہے۔ مزید برآں، چیئرمین اور ممبران کے پی پی ایس سی کے پیکیجز میں اضافے پر بھی غور کیا گیا؛ ایک تجویز کے تحت چیئرمین کے موجودہ پیکیج (482,200/- روپے) میں 50 فیصد اضافے کے ساتھ 723,300/- روپے جبکہ ممبران کے موجودہ پیکیج (377,100/- روپے) کو بڑھا کر565,650/- روپے کرنے کی تجویز دی گئی، جس کے مجموعی مالی اثرات سالانہ 27.781 ملین روپے ہوں گے۔ کے پی پی ایس سی کو بااختیار بنانے کے حوالے سے ہونے والے فیصلوں میں کے پی پی ایس سی کو ایک خصوصی ادارہ قرار دینے پر اصولی اتفاق کیا گیا، اور اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو رولز آف بزنس 1985 میں ترمیم کرنے کی ہدایت کی گئی تاکہ چیئرمین کمیشن کو ایک اکاؤنٹ ہیڈ سے دوسرے میں بجٹ کو دوبارہ مختص کرنے کا اختیار حاصل ہو سکے۔ اس کے علاوہ، سیکرٹری کے پی پی ایس سی کو بھی با اختیار بنانے کے حوالے سے وہ چیئرمین کی پیشگی منظوری سے چیف سیکرٹری کو سمری/نوٹ بھیج سکیں اور محکموں کے ساتھ براہ راست خط و کتابت کر سکیں۔ مالی خود مختاری کے تحت، ETEA سے حاصل ہونے والے خود پیدا کردہ فنڈز سے چھوٹے اخراجات کی اجازت دینے پر اصولی اتفاق کیا گیا اور محکمہ خزانہ کو نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی گئی۔ کمیشن کو مضبوط بنانے کے لیے 170 ملین روپے کے فنڈز کی فراہمی کی تجویز (بشمول کمپیوٹر لیب کا قیام، پرانے کمپیوٹرز کی تبدیلی، ہیوی ڈیوٹی پرنٹر کی خریداری اور واٹر فلٹریشن پلانٹ کی تنصیب) پر اصولی اتفاق کیا گیا، تاہم اس فیصلے کو وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے خزانہ کو بھیجنے کے تجویز دی گئی۔

صوبائی وزیر زراعت سجاد بارکوال کا ضلع کرک کے تعلیمی اداروں کا دورہ

وزیر زراعت خیبرپختونخوا میجر (ر) محمد سجاد بارکوال نے اپنے حلقہ نیابت کرک کے تعلیمی اداروں،گورنمنٹ سنٹینل ماڈل سکول چوکارہ، گورنمنٹ ہائی سکول اورپرائمری سکول غنڈی کلہ کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پرانہوں نے تعلمی اداروں کے سربرہان اور اساتذہ کے ہمراہ کلاس رومز اور تعلیمی سہولیات کا جائزہ لیا۔ وزیر زراعت طلباء سے بھی ملے اور تعلیم کے میدان میں ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم ہی قوم کی ترقی اور خوشحالی کی اصل بنیاد ہے اور طلباء کو مزید محنت اور لگن کے ساتھ تعلیم حاصل کرنی چاہیے۔او موقع پر اساتذہ کرام نے اداروں کو درپیش مسائل سے بھی وزیر موصوف کو آگاہ کیا جنہیں سن کر صوبائی وزیرنے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ وزیر زراعت نے گورنمنٹ سنٹینل ماڈل سکول چوکارہ کے خستہ حال کمروں اور چار دیواری کی مرمت و بحالی کیلئے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کو فوری فزیبلیٹی رپورٹ تیار کرنے اور سکول میں طلباء کی سہولت کیلئے سولر پلانٹ لگانے کے احکامات بھی دیے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت عمران خان کے وژن کے مطابق صوبے کے ہر حصے میں معیاری تعلیم کے فروغ کیلئے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔اس موقع پر اساتذہ اور طلباء نے وزیر زراعت کے دورے کو خوش آئند اور حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔

وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کی آج عمران خان سے اڈیالہ جیل میں اہم ملاقات ہوئی ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامی بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کی آج عمران خان سے اڈیالہ جیل میں اہم ملاقات ہوئی ہے۔ ملاقات دو گھنٹے سے زائد جاری رہی۔ جس میں خیبر پختونخوا میں امن و امان، سیکیورٹی اور متعلقہ معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ عمران خان نے وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈاپور پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ نے تمام اہم معاملات پر عمران خان کو اعتماد میں لیا اور صوبے میں امن و امان کے حوالے سے کے پی حکومت کے اقدامات سے آگاہ کیا۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزہد بتایا کہ عمران خان کو قیام امن کے لئے قبائلی جرگوں کے انعقاد کے بارے میں بھی بتایا گیا، ملاقات میں افغانستان سے مذاکرات کے معاملے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ اورعمران خان نے وزیراعلیٰ کو افغانستان کے ساتھ رابطہ کاری اور مذاکرات یقینی بنانے کی ہدایت کی۔عمران خان کو صوبے کی معاشی صورتحال اور بجٹ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، وزیراعلیٰ نے معیشت کی مضبوطی کے لیے صوبائی حکومت کے اقدامات سے آگاہ کیا، جس پر عمران خان نے اطمینان کا اظہار کیا،بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ معاشی معاملات اور بجٹ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ کے لیے عمران خان نے مشیر خزانہ مزمل اسلم کو بھی طلب کیا ہے۔ مشیر خزانہ کو عمران خان سے مسلسل ملاقات نہ کروائے جانے کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایات دی گئیں۔ اس موقع پر مختلف محکموں اور وزراء کی کارکردگی پر بھی تفصیلی بات ہوئی اورعمران خان نے وزیر اعلی کو اس ضمن میں مکمل اختیار دیتے ہوئے ضروری اقدامات کی ہدایت کی۔ عمران خان نے قانون کی بالادستی اور حقیقی آزادی کی تحریک کو مزید تیز کرنے اور اس سلسلے میں وزیراعلی کو تحریک کے حوالے سے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کیلئے ہدایات بھی دیں۔ اسی طرح ملاقات میں پارٹی کے اندرونی اختلافات پر بھی تفصیلی بات ہوئی۔عمران خان نے پارٹی میں تفریق پیدا
کرنے اور باہمی اعتماد اور یکجہتی کے خلاف سخت اقدامات کی ہدایت دی ہیں۔ بے بنیاد اور منفی بیان بازی کرنے اور اندرونی اتحاد کو مجروح کرنے والوں کا سدباب کرنے کا کہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اختلافات پیدا کرنے والوں کے لیے پارٹی میں کوئی جگہ نہیں،بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی کے حوالے سے وزیراعلیٰ کل سپریم کورٹ سے دوبارہ رجوع کریں گے، صوبے کے عوام نے عمران خان کو مینڈیٹ دیا ہے، اس لیے ان سے باقاعدگی سے مشاورت انتہائی ضروری ہے۔

ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئرز خیبرپختونخوا کے تحت جنوبی وزیرستان لوئر میں انسداد منشیات سیمینار اور آگاہی واک کا انعقاد

جنوبی وزیرستان لوئر کے نوجوانوں کو منشیات کے ناسور سے بچانے اور معاشرے میں اس کے خلاف شعور اجاگر کرنے کے لیے ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئرز خیبرپختونخوا کے ضلعی دفتر جنوبی وزیرستان لوئر کے زیر اہتمام تحصیل شکئی میں انسداد منشیات سیمینار اور آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا۔یہ اقدام ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر مسرت زمان کی ہدایات پر عملدرآمد کرتے ہوئے ڈائریکٹر یوتھ افیئرز خیبرپختونخوا ڈاکٹر نعمان مجاہد کی زیر نگرانی ایک مقامی فلاحی تنظیم کے اشتراک سے کیا گیا۔سیمینار کا مقصد نوجوانوں کو منشیات کے مضر اثرات سے آگاہ کرنا، ان کی رہنمائی کرنا اور انہیں ایک صحت مند، باوقار اور منشیات سے پاک معاشرے کی تشکیل میں کردار ادا کرنے کے لیے متحرک کرنا تھا۔تقریب کا آغاز ایک آگاہی واک سے ہوا جس کے بعد مقامی معزز شخصیات نے انسداد منشیات کے حوالے سے اثر انگیز تقاریر کیں۔مقررین نے اپنے خطابات میں اس بات پر زور دیا کہ منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال نہ صرف نوجوان نسل کو تباہی کی طرف لے جا رہا ہے بلکہ یہ ایک سنگین عوامی صحت کا بحران بھی بن سکتا یے۔ انہوں نے معاشرے کے تمام طبقات، خصوصاً والدین، اساتذہ، علما کرام اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ منشیات کے خلاف جدوجہد میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔مقررین کا کہنا تھا کہ منشیات کے خلاف مؤثر آگاہی مہم اور بحالی مراکز کے قیام جیسے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں تاکہ نوجوانوں کو ایک روشن مستقبل فراہم کیا جا سکے۔تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ معاشرے میں انسداد منشیات کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور گراس روٹ سطح پر آگاہی اور بحالی کے اقدامات میں بھرپور حصہ لیں گے۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرصدارت اجلاس،گورننس امور، تجاوزات کے خاتمے اور دیگر امور پر اہم فیصلے

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرصدارت گورننس امور پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں تجاوزات کے خاتمے، اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں استحکام، سیاحت کے فروغ، صوبائی دارالحکومت کی اپلفٹ اور مستقبل میں سیلاب سے بچاؤ کے لئے جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے جبکہ ڈپٹی کمشنرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ 30 جون سے اب تک تجاوزات کیخلاف آپریشن میں 207 بلڈنگز کو سیل کیا گیا ہے۔ 1048 کنال پر محیط غیر قانونی بلڈنگز کو گرایا گیا ہے۔ 1741 کنال پر قائم تجاوزات ہٹائی گئی ہیں۔ گزشتہ ہفتے کے دوران 20 کنال سے زائد احاطے پر تجاوزات ہٹائی گئی ہیں۔اس کے علاوہ اجلاس کو مختلف محکموں کے 52،562 کنال انکروچڈ لینڈ کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے جس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ ڈیٹا تمام ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ شئیر کردیا گیا ہے جس پر ضلعی انتظامیہ محکموں کے فیلڈ افسران کے ساتھ مل کر کاروائی شروع کررہے ہیں۔چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ تمام محکمے ان اراضیات کو بہتر استعمال میں لانے کے لئے اپنی پلاننگ مکمل کریں۔ ڈپٹی کمشنر پشاور نے بتایا کہ 38 کلومیٹر بڈھنی نالہ پر پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے پلان تیار کیا ہے۔نالے پر بنے غیر قانونی سات تعمیرات اب تک گرائے گئے ہیں جس سے پانی کے بہاو میں خلل پڑتا تھا۔چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ پشاور میں ہاؤسنگ سوسائٹیز کو لینڈ یوز پلان کے تحت ہی این او سیز جاری کی جائیں۔ جو اراضی لینڈ یوز پلان میں گرین لینڈ ہے وہاں پر تعمیرات کی اجازت نہ دی جائے۔ غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے تاکہ قانونی کاروائی عمل میں لائی جاسکے۔ اس حوالے سے تمام متعلقہ ادارے آپس میں ربط سے کام کریں۔اجلاس کو گندم، آٹے اور چینی کی صورتحال پر بھی بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت سرمایہ کاری کے لئے منصوبوں کی پچ بک، اور پی پی پی پراجیکٹ کی ٹریکنگ پر کام کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ پشاور ڈی آئی خان موٹروے، سوات موٹروے فیز ٹو، ٹھنڈیانی سیاحتی منصوبہ، درابن اکنامک زون، گنھول انٹیگریٹڈ ٹورازم زون پر پیش رفت کے بارے میں بھی اجلاس کو بتایا گیا۔سیکرٹری ایریگیشن نے آبی گذرگاہوں کی ڈی سلٹنگ صفائی کے بارے میں مختلف آپشنز پیش کئے اور انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے جامع پلاننگ کی گئی ہے جس کی صوبائی کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔اجلاس کو پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے منصوبوں کے بارے میں بتایا گیا۔ چیف سیکرٹری نے گزشتہ روز نیو جنرل بس ٹرمینل پشاور کا دورہ کرکے اس پر جاری ترقیاتی کام کا جائزہ لیا تھا جبکہ محکمہ منصوبہ بندی و ترقی خیبرپختونخوا کو ایک ہزار ملین کا پی سی ون منظوری کیلئے بھیجا گیا ہے جس میں جی ٹی روڈ جمرود روڈ، رنگ روڈ کے روڈ فرنیچر بحالی شامل ہے۔ یہ اقدامات صوبائی دارالحکومت کی اپلفٹ کے تحت اٹھائے جا رہے ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ محکمہ سیاحت نے گلیات میں بی این اے روڈ اور گلیات کیلئے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پلان صوبائی کابینہ منظوری کے لئے بھیج دیا ہے یہ اقدام سیاحت کے فروغ اور ماحولیاتی تحفظ کے لئے کیا جارہا ہے۔

ضلع کرک میں 11 نئی سڑکوں کی منظوری دی گئی ہے. وزیر زراعت

وزیرِ زراعت خیبرپختونخوا میجر (ر) سجاد بارکوال نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کیعوامی وژن اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور کی خصوصی دلچسپی کے نتیجے میں ضلع کرک کے مختلف علاقوں کیلئے 11نئی سڑکوں کی باقاعدہ منظوری دی گئی ہے جن کی تکمیل سے نہ صرف سفری سہولیات میں بہتری آئے گی بلکہ مقامی معیشت اور زرعی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔ وزیرِ زراعت خیبرپختونخوا میجر (ر) سجاد بارکوال نے اپنے حلقے میں ان منصوبوں کی سائیٹ کا تفصیلی دورہ کیا۔ دورے میں انہوں نے علاقہ عمائدین اور پارٹی کارکنان سے ملاقات کی اور ترقیاتی منصوبوں کے معیار اور شفافیت پر تبادلہ خیال کیا۔ منظور شدہ منصوبوں میں اشرف خان روڈ (احمد والا تا نیو آبادی امبیری کلہ)، احمدوالہ زرعی فارم تا انڈس ہائی وے (براستہ نیو طور ڈھنڈ)، بانگی کلہ روڈ، سائیکوٹ شیخان شوبلی بانڈہ روڈ، نیو بوگارہ روڈ، احمد آباد خوجکی روڈ تا ارل بانڈہ روڈ، امبیری کلہ الگڈہ روڈ، مین صورتی کلہ روڈ، چمن آباد تا صورتی کلہ روڈ، ڈبر ہسپتال تا تانگہ زنئے روڈ اور بابل خیل تا مستی کورونہ روڈ شامل ہیں۔ سجاد بارکوال نے اس موقع پر کہا کہ سڑکوں کے یہ منصوبے عوامی سہولت اور خوشحالی کے عملی عکاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی بدولت زرعی اجناس کی منڈیوں تک بروقت رسائی ممکن ہوگی، تعلیمی اداروں تک سفر آسان ہوگا اور مریضوں کو فوری طبی سہولتیں میسر آئیں گی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کے عوامی وژن کے تحت عوامی خدمت اور ترقیاتی کاموں کا یہ سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رہے گا۔۔

قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس ایم ٹی آئی نوشہرہ میں عالمی یوم قلب کا دن منایا گیا۔

قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس ایم ٹی آئی کے کارڈیالوجی ڈپارٹمنٹ کے زیر انتظام عالمی یوم قلب کی مناسبت سے آگاہی واک کا اہتمام کیا گیا۔ 29 ستمبر پوری دنیا میں عالمی یوم قلب کے سلسلے میں منایا جاتا ہے قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس ایم ٹی آئی نوشہرہ کے ہسپتالڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر حمزاللہ خان، میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر سردار سہیل آفسر، نرسنگ ڈائریکٹر تحمینہ تاج اور کارڈیولوجی ڈپارٹمنٹ کے ہیڈ ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر اقتدار الدین نے عالمی یوم قلب کے اہمیت کے بارے میں عوام الناس کو ”دل کی حفاظت کیلئے اپنے دل کا استعمال کیجیے” کا پیغام دیا۔آگاہی واک میں کثیر تعداد میں ڈاکٹرز، نرسز اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی.