محکمہ جنگلی حیات خیبر پختونخوا نے سال 2025-26 کے ٹرافی ہنٹنگ سیزن میں تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے مارخور، آئی بیکس اور گرے گورل کے 39 پرمٹس 1913842 امریکی ڈالر، یعنی تقریباً 542.7 ملین روپے میں نیلام کئے اس سلسلے میں گزشتہ روز نیلامی کا عمل مکمل ہوا، تفصیلات کے مطابق ایکسپورٹ ایبل مارخور کے چار پرمٹس 946,000امریکی ڈالرز، نان ایکسپورٹ ایبل مارخور کے 9 پرمٹس553,300 امریکی ڈالر، نان ایکسپورٹ ایبل آئی بیکس کے 20 پرمٹس16,042 امریکی ڈالر جبکہ نان ایکسپورٹ ایبل گرے گورل کے 6 پرمٹس398,500 امریکی ڈالر میں فروخت ہوئے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس سال پہلی بار نان ایکسپورٹ ایبل گرے گورل کا پرمٹ متعارف کرایا گیا جس سے آمدن میں نمایاں اضافہ ہوا۔اس حوالے سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے جنگلی حیات پیر مصور خان نے کہا کہ رواں سال کا ٹرافی ہنٹنگ پروگرام آمدن کے لحاظ سے ریکارڈ ساز ثابت ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی بار گرے گورل کے پرمٹس کا اجراء صوبائی حکومت کے جنگلی حیات کے تحفظ اور مقامی کمیونٹیز کی ترقی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس پروگرام سے حاصل ہونے والی آمدن جنگلی حیات کے تحفظ، حیاتیاتی تنوع کے فروغ اور مقامی آبادی کی سماجی و معاشی بہتری پر خرچ کی جائے گی۔ پیر مصور خان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی قیادت میں ”ری وائلڈنگ پروگرام“ کے تحت صوبے میں بلیک بک، چنکارہ اور اوڑیال جیسی نایاب انواع کی دوبارہ بحالی کا آغاز کردیا گیا ہے جبکہ مستقبل میں ”گرین ہنٹ پروگرام“ تحقیق کے لیے متعارف کرایا جائے گا۔انھوں نے نیلامی کے عمل کو کامیابی سے مکمل کرنے اور ریکارڈ آمدن یقینی بنانے پرچیف کنزرویٹر وائلڈ لائف ڈاکٹر محسن فاروق اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سیکرٹری جنگلی حیات شاہد زمان نے کہا کہ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام بیک وقت قدرتی وسائل کے تحفظ اور مقامی کمیونٹیز کی فلاح و بہبود کو یقینی بنا رہا ہے جبکہ جنگلی حیات کے فروغ کے لیے مزید اقدامات بھی جاری ہیں۔
برطانوی ہائی کمشنر کی چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا سے ملاقات
پاکستان کے لئے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ملاقات کے دوران ایف سی ڈی او کے تعاون سے جاری منصوبوں، حال ہی میں مکمل ہونے والے پروگراموں اور مستقبل میں ممکنہ تعاون کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب سے موجودہ شراکت داری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔چیف سیکرٹری نے خیبرپختونخوا میں جامع ترقی اور اداروں کے استعداد کار کو بڑھانے کے لئے برطانیہ کی مسلسل معاونت کو سراہا۔
سییڈ پروگرام کے ذریعے معاونت پر برطانوی تعاون کو سراہتے ہیں، پروگرام نے پانچ سالوں میں صوبائی محکموں کو اہم تکنیکی معاونت فراہم کی، صوبائی وزیر ارشد ایوب
برطانیہ کے تعاون سے چلنے والے ”سسٹینیبل انرجی اینڈ اکنامک ڈویلپمنٹ“ (سییڈ) پروگرام کے کامیاب اختتام پر ایک تقریب بدھ کے روز پشاور میں منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر برائے بلدیات، انتخابات و دیہی ترقی ارشَد ایوب خان تھے۔ اس موقع پر صوبائی وزراء، سرکاری حکام، جامعات، سول سوسائٹی اور دیگر اداروں کے نمائندے شریک ہوئے۔ برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ بھی تقریب میں موجود تھیں۔صوبائی وزیر ارشَد ایوب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوں میں صوبے کو مختلف نوعیت کی مشکلات کا سامنا رہا ہے، جن میں تباہ کن سیلاب اور کرونا وبا شامل ہیں، لیکن ہمت اور مستقل اصلاحات کے ذریعے خود کو منظم رکھنے میں صوبہ کامیاب رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران سییڈ پروگرام نے گورننس اور سرمایہ کاری کے شعبے میں صوبائی اداراجاتی امور کو منظم اور مربوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔صوبائی وزیر نے بتایا کہ عوامی و نجی اشتراک پر مبنی اصلاحات کے ذریعے سیاحت، توانائی، انفراسٹرکچر اور مواصلات سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے قدرتی وسائل، ہائیڈرو پاور، زراعت، جنگلات اور سیاحت کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کے لیے بھی اقدامات ہو رہے ہیں۔ سییڈ پروگرام کی مدد سے صوبہ جنگلات کے کاربن کریڈٹ سکیم میں شامل ہو رہا ہے جبکہ بجلی گھروں کو عالمی سطح پر قابلِ تجدید توانائی کے سرٹیفکیٹ کے لیے رجسٹر کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف اضافی آمدنی کا ذریعہ ہوں گے بلکہ پائیدار ترقی اور ماحولیاتی تحفظ میں بھی مددگار ہوں گے۔برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے حکومتِ خیبرپختونخوا کی اصلاحات کو سراہتے ہوئے کہا کہ سییڈ پروگرام اور صوبائی حکومت کی شراکت داری کے ذریعے دیرپا ترقی کے اہم سنگِ میل طے کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ، خیبرپختونخوا کے ساتھ تجارت، ماحول دوست سرمایہ کاری اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کے لئے تعاون جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ “گرین گروتھ سے لے کر بہتر منصوبہ بندی تک، سییڈ پروگرام نے صوبے کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے میں اہم حصہ ڈالا ہے۔خیبرپختونخوا نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو قریب سے دیکھا ہے اور اس پروگرام نے ثابت کیا ہے کہ مضبوط شراکت داری سے پائیدار حل نکالے جا سکتے ہیں۔”واضح رہے کہ سییڈ پروگرام سال 2020 میں شروع ہوا تھا اور پانچ برس تک جاری رہا۔ اس دوران سرمایہ کاری کے فروغ، سرکاری نظام کو بہتر بنانے اور ترقیاتی اخراجات کو مؤثر بنانے کے لیے نمایاں اصلاحات کی گئیں، جو اب مستقل طور پر حکومتی نظام کا حصہ بن چکی ہیں۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے بدھ کے روز گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے بدھ کے روز گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی. ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور،دو طرفہ تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیاگیا. برطانوی ہائی کمشنر نے گورنر خیبرپختونخوا سے حالیہ سیلاب سے صوبہ میں ہونیوالے جانی و مالی نقصانات پر افسوس و دلی ہمدردی کا اظہار کیا. ملاقات میں این ایف سی ایوارڈ، پاک افغان صورتحال، سیکیورٹی چیلنجز اور گڈگورننس سے متعلق بھی گفتگو کی گئی. گورنر نے ملک بھر میں سیلابی نقصانات پر برطانوی حکومت کیجانب سے امداد فراہمی پر برطانوی ہائی کمشنر کا شکریہ ادا کیا.
گورنر نے برطانوی ہائی کمشنر کو صوبہ کے قدرتی وسائل پر سرمایہ کاری کے وسیع مواقع سے آگاہ کیا. گورنر نے کہا کہ خیبرپختونخوا بیش بہا قدرتی وسائل کے باعث عالمی سرمایہ کاروں کیلئے پرکشش حیثیت کا حامل ہے، برطانیہ سمیت تمام دوست ممالک کو دوطرفہ تجارتی تعاون و سرمایہ کاری کیلئے خوش آمدید کہتے ہیں، صوبہ میں صنعتی و تجارتی ترقی، سرمایہ کاری کو فروغ دیکر حقیقی ترقی و خوشحالی کے منازل طے کر سکتے ہیں، فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبہ میں باصلاحیت نوجوانوں کی کوئی کمی نہیں ہے، تعلیم و کھیل کے میدان میں نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیلئے پرعزم ہوں، انہوں نے کہا کہ برطانوی حکومت کا خیبرپختونخوا بالخصوص ضم اضلاع کے باصلاحیت و ہنرمند نوجوانوں کیلئے مزید تعاون درکار ہے، امن ترقی و خوشحالی کی بنیاد ہے، صوبہ میں پائیدار امن کیلئے وفاق و سیکیورٹی فورسز مؤثر کارروائیاں کر رہے ہیں، گورنر نے کہا کہ فاٹا انضمام کیبعد خیبرپختونخوا کی مجموعی آبادی میں اضافہ ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ پاک افغان تعلقات اور دوطرفہ مسائل کا حل ملکی خارجہ پالیسی کے معاملات ہیں، پاکستان بالخصوص خیبرپختونخوا کے عوام اور افغان عوام کی ثقافت و اقدار مشترک ہیں.
گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہاہے کہ قیام امن کیلئے عوام کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ریلیف، بحالی و آبادکاری ملک نیک محمد خان داوڑ سے مختلف وفود کی ملاقات
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ریلیف، بحالی و آبادکاری ملک نیک محمد خان داوڑ سے منگل کے روزمختلف وفود نے ملاقات کی اور انہیں اپنے مسائل و تجاویز سے آگاہ کیا۔ صوبائی وزیر نے وفود کے مسائل کو غور سے سنا اور ان کے حل کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر صوبائی وزیر نے پی ڈی ایم اے کی جانب سے شمالی وزیرستان کی خدی مارکیٹ کمپلیکس کے متاثرین کو 3 کروڑ 21 لاکھ 50 ہزار روپے کا چیک بھی دیا۔ یاد رہے کہ خدی مارکیٹ کمپلیکس ایک بم دھماکے میں تباہ ہو ئی تھی جس کے نتیجے میں درجنوں دکاندار اور کاروباری افراد شدید متاثر ہوئے تھے۔ملک نیک محمد خان داوڑ نے کہا کہ موجودہ حکومت متاثرہ خاندانوں اور کاروباری طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ عوام کو درپیش مسائل کے حل اور سہولتوں کی فراہمی کیلئے کوششیں جاری رہیں گی
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا ایف بی آر ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کا دورہ
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے منگل کے روز ایف بی آر ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کا دورہ کیااور چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال سے ملاقات کی۔ملاقات میں عوامی دلچسپی کے امور سمیت خیبرپختونخوا میں ٹیکس کے متلف معاملات اور ٹیکس دہندگان کو درپیش مسائل پر گفتگو کی گئی-گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبہ میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور تاجر برادری کو سہولیات کی فراہمی کیلئے ٹیکس دہندگان کے مسائل بروقت حل کرنے اور اُن کے لئے ساز گار ماحول مہیا فراہم کرنیکی ضرورت پر زور دیا- اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر نے گورنر خیبرپختونخوا کو جاری ٹیکس اصلاحات بشمول ایف بی آر سسٹمز کی ڈیجیٹا ئزیشن اور آٹومیشن کے لئے کئے جانے والے اقدامات سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے یقین دلایا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں ٹیکس دہندگان کو درپیش مسائل حل کرنے کے لئے تمام ممکنہ اقدامات اُٹھائے جائیں گے۔اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا نے خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں ٹیکس نظام کو جدید اور بہتر بنانے کے لئے ایف بی آر کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو سراہا
صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کی زیر صدارت محکمہ تعلیم گڈ گورننس روڈ میپ کے حوالے سے اجلاس۔
صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ قبائلی اضلاع بشمول صوبے کے تمام سکولوں کو فرنیچر کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ ٹاٹ کلچر کا مکمل طور پر خاتمہ ہوگا اور تمام سکولوں میں وائٹ بورڈز کی فراہمی کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت کی طرف سے تمام بچوں کو مفت سکول بیگز بھی فراہم کیے جائیں گے۔ ان سب کے لیے ایک جامع پروکیورمنٹ پلان ترتیب دیا گیا ہے۔ جبکہ سکول، ڈسٹرکٹ آفسز، ڈائریکٹوریٹ اور سیکرٹریٹ لیول پر بھی نئے و پرانے سامان کی انونٹری کا حساب رکھا جائے گا اور اس تمام پراسس میں کوالٹی کو یقینی بنانے کے لیے کمیٹیاں بھی قائم کی گئی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ تعلیم گڈ گورننس روڈ میپ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں محکم تعلیم کے اسپیشل سیکرٹریز، ایجوکیشن ایڈوائزر میاں سعد الدین،ڈائریکٹر ایجوکیشن ناہید انجم، ڈائریکٹر ڈی پی ڈی مطہر خان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیر تعلیم نے ہدایت جاری کی کہ پروکیورمنٹ پراسس کی پوری تکمیل کے لیے سنٹرلائزڈ سسٹم اور دیگر ذرائعوں پر غور کیا جائے گا جبکہ ضم اضلاع اور خواتین کے اسکولوں کو پہلے فیز میں سپلائی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ وزیر تعلیم نے مزید ہدایت جاری کی کہ صوبے کے تمام ہائر سیکنڈری سکولوں میں آئی ٹی لیبز بنائے جائیں گے اور پالیسی کے تحت ہائی اور مڈل سکولوں میں بھی آئی ٹی لیبز بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ وزیر تعلیم نے حکام کو مزید ہدایت جاری کرتے ہوئے بتایا کہ آؤٹ سورسنگ کے لیے اگلے اجلاس میں بزنس پلان پیش کیا جائے۔ اور مختلف پروپوزلز زیر غور لائے جائیں جس سے تعلیم کی کوالٹی کی بہتری یقینی بنائی جا سکے اور تمام بچوں کو اپنے ہی علاقوں میں بہترین تعلیمی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ وزیر تعلیم نے جاری داخلہ مہم کو 15 اکتوبر تک توصیع دینے کی بھی منظوری دی انہوں نے تمام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز کو ٹارگٹ پورا کرنے اور ہر سکول کے گرد و نواح میں بھرپور داخلہ مہم چلانے کی ہدایت کی۔ محکمہ تعلیم کے نئے پروگرام تعلیم کارڈ کے حوالے سے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا کہ اس میں تمام پیکجز شامل کئے جائیں اور اس کو پائلٹ کے بعد صوبے کے تمام اضلاع کے تمام طلبہ تک توصیع دی جائے انہوں نے کہا کہ مفت کتابوں، سکالرشپس ماہانہ وظائف اور دیگر تمام پیکجز تعلیم کارڈ میں شامل ہوں گی۔ فیصل خان ترکئی نے ایجوکیشن حکام کو ہدایت کی کہ پیرنٹس ٹیچرز کونسل کے گائیڈ کی فوری طور پر متعلقہ فورم سے منظوری لی جائے اور اس کو کیبنٹ میں جلد از جلد پیش کیا جائے جس کے بعد تمام پی ٹی سی کو فعال کرنے کے ساتھ ساتھ جن میں ممبران کا دورانیہ پورا ہو چکا ہے ان کا دوبارہ الیکشن بھی کرایا جائے۔ وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ صوبے بھر کے تمام اضلاع میں محکم تعلیم کی طرف سے کھیلوں کے ٹورنامنٹس کے آغاز کے لیے لائحہ عمل ترتیب دیا جائے اور محکمہ کھیل کے ساتھ مشاورت کی جائے جبکہ نومبر کے مہینے تک ان ٹورنامنٹس کو تکمیل تک پہنچایا جائے۔ وزیر تعلیم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہر پرائمری سکول میں چار اساتذہ کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کئے گئے ہیں۔ ایٹا کے ذریعے اساتذہ کی تعیناتی کا عمل تکمیل کے مراحل میں ہے یونیسیف کے تعاون سے بھی اساتذہ بھرتی کیے جائیں گے جبکہ 2500 انٹرنیز کو بھی سسٹم میں شامل کیا جائے گا۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے سختی سے ہدایت جاری کی کہ جتنے بھی اساتذہ مختلف اداروں میں ڈیپوٹیشن پر تعینات ہیں یا پھر لمبی چھٹیاں لی ہیں ان کی مکمل تفصیلات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان کو واپس سکولوں میں لانے کے لیے تجاویز بھی پیش کی جائے انہوں نے کہا کہ ہمیں اسکولوں میں اساتذہ کی ضرورت ہے اس لیے تمام ڈیپوٹیشن اور چھٹیاں منسوخ کر کے اساتذہ کی کمی پوری کر دی جائے۔ وزیر تعلیم نے اساتذہ اور کلیریکل سٹاف کی حاضری یقینی بنانے کے لئے بائیومیٹرک مشینیں لگانے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام اضلاع کی سطح پر بہترین کارکردگی دکھانے والے اساتذہ کی حوصلہ افزائی کے لیے تقریبات بھی منعقد کی جائے گی۔
قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس ایم ٹی آئی نوشہرہ میں ہسپتال نانکلینکل انچارجز کا اجلاس
قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس ایم ٹی آئی نوشہرہ میں ہسپتال نانکلینکل انچارجز کا اجلاس منعقد ہوا جس میں نانکلینکل انچارجز کے سربراہان نے شرکت کی۔ ہسپتال ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر حمزاللہ خان نے ہسپتال نانکلینکل انچارجز کے اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں ہسپتال میں درپیش متعدد مسائل کے حل کے لیے تجاویز پیش کی گئیں اور موقع پر ہسپتال ڈائریکٹر نے ہدایات جاری کیں۔ ہسپتال ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر حمزاللہ خان نے ہسپتال کے نظام کو مؤثر اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ ہر شعبہ میں بہترین طبی خدمات کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس موقع پرمیڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر سردار سہیل افسر، ڈائریکٹر فائنانس بشیر الرحمن،انٹرنل ایڈیٹر کاشف حامد، ڈی ایم ایس ایڈمن ڈاکٹر شفیق اور ایڈمنسٹریشن سٹاف نے شرکت کی۔
Special Assistant to the Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa on Housing, Dr. Amjad Ali, met the newly appointed Director Legal of the Khyber Pakhtunkhwa Housing Authority
Special Assistant to the Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa on Housing, Dr. Amjad Ali, met the newly appointed Director Legal of the Khyber Pakhtunkhwa Housing Authority, Johar Ali Shah, in Peshawar on Tuesday. On the occasion, the Special Assistant welcomed the new Director and issued instructions regarding the resolution of legal complications hindering the timely completion of various housing schemes.
He stated that development work on on various housing schemes under the supervision of the Khyber Pakhtunkhwa Housing Authority is progressing rapidly, and it is the desire of the Chief Minister that all housing projects be completed on time in line with public aspirations and needs so that the people of the province may benefit from their outcomes.
The Special Assistant further added that New Peshawar Valley is the largest residential project of the province, and the Chief Minister has, in light of the cabinet decision, transferred this housing project from PDA’s supervision back to the Khyber Pakhtunkhwa Housing Department so that work on it can be expedited like other departmental schemes.
Dr. Amjad Ali expressed hope that the newly appointed Director Legal would take effective measures to resolve the legal complexities and issues in the completion of housing projects.
On this occasion, the newly appointed Director Legal of the Khyber Pakhtunkhwa Housing Authority also assured that he would make every possible effort to implement the directives issued by the Special Assistant in letter and spirit. He affirmed that he would utilize his skills and experience to resolve the pending issues of housing projects in the best possible legal manner and would employ all his energies to swiftly remove the legal obstacles hindering these projects.
