Home Blog Page 24

6th District Service Delivery Conference

The 6th District Service Delivery (DSD) Conference was held here on Thursday, wherein Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa Shahab Ali Shah reviewed progress on improving public services across the province and strengthening performance-based governance at the district level.

Additional Chief Secretaries, Senior Member Board of Revenue, Divisional Commissioners, Deputy Commissioners, Administrative Secretaries and senior officials from seven key service delivery departments attended the DSD Conference, reflecting the provincial government’s continued focus on enhancing efficiency, accountability, and citizen-centric governance at the grassroots level.

During the meeting, the Chief Secretary conducted a comprehensive performance review against the targets assigned to districts, aimed at improving the quality and accessibility of essential public services. Officials from the Performance Management and Reforms Unit (PMRU) presented a detailed briefing on progress made since the launch of the District Service Delivery initiative.

The briefing highlighted measurable improvements in multiple service delivery indicators since the first DSD Conference, indicating that the performance monitoring framework is beginning to yield tangible results. However, the meeting was also informed that while several districts have shown significant progress and high compliance with service benchmarks, some districts are still facing challenges in meeting the desired targets.

Among them, District Battagram was identified as lagging behind on certain service delivery indicators. Taking notice of the situation, the Chief Secretary directed that a comprehensive diagnostic study and gap analysis be undertaken to identify administrative, operational, and capacity-related bottlenecks affecting service delivery in the district. The findings and recommendations will be presented at the next DSD Conference for corrective action.

Addressing participants at the conclusion of the meeting, Chief Secretary Shahab Ali Shah appreciated the collective efforts of district administrations and departmental teams, acknowledging their commitment to improving governance standards and public service outcomes in the first phase of DSD Conference initiative.

He emphasized that consistent improvements in service delivery not only enhance public welfare but also contribute to strengthening institutional performance and professional development within the civil service.

The Chief Secretary also directed Deputy Commissioners to establish dedicated “Nerve Centers” in their respective districts to ensure real-time monitoring of service delivery indicators. These centers will serve as integrated command hubs for performance management, data-driven decision-making, and complaint redressal mechanisms.

He further informed the participants that the Provincial Nerve Center in Peshawar is nearing completion and will soon be inaugurated. Once operational, the provincial facility will be digitally linked with district-level nerve centers to create a province-wide service monitoring network, enabling the government to track performance indicators and respond swiftly to public service issues.

Khyber Pakhtunkhwa Government Launches School Enrolment Campaign 2026–27

The Government of Khyber Pakhtunkhwa has formally launched the School Enrolment Campaign 2026–27 aimed at bringing more children into schools, mainstreaming out-of-school children, and reducing dropout rates across the province.

The campaign was inaugurated by Provincial Minister for Elementary and Secondary Education Arshad Ayub Khan and Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa Shahab Ali Shah here on Thursday. The initiative focuses on fresh enrolments, reintegrating children who are currently out of school, and improving retention at both primary and secondary levels.

For the academic year 2026–27, the government has set a target to enrol 1,328,620 children, including 684,363 boys and 644,259 girls. In addition, 643,715 out-of-school children will be brought back into the education system, including 261,435 boys and 382,280 girls.

The provincial government has also set targets to reduce dropout rates, aiming to bring the primary level dropout rate down from 7 percent to 5 percent, while at the secondary level it will be reduced from 8 percent to 6 percent.

To achieve these targets, 65 percent of enrolments will be made through government schools, 30 percent through private schools, and 5 percent through Accelerated Learning Programs and Non-Formal Education initiatives. A digital dashboard has also been established to monitor the progress of the enrolment campaign on a daily basis.

Speaking on the occasion, Provincial Minister Arshad Ayub Khan said the government is committed to ensuring access to quality education for every child in the province. He emphasized that special attention will be given to promoting girls’ education.

Chief Secretary Shahab Ali Shah directed Deputy Commissioners to closely monitor the enrolment campaign at the district level and ensure active public participation to achieve the set targets.

Prior to the launch of the campaign, a review meeting on enrolment targets was also held. Officials from the Education Department, Local Government Department, and UNICEF attended the meeting. Secretary Elementary and Secondary Education Khalid Khan briefed the participants and informed them that a special survey will be conducted to obtain accurate data on out-of-school children.

خیبرپختونخوا میں رمضان ریلیف پیکج کے تحت مستحق خاندانوں کو امدادی رقم کی شفاف تقسیم کا عمل شروع ہو چکا ہے، شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے رمضان ریلیف پیکج کے حوالے سے عظمیٰ بخاری کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عظمیٰ بخاری خیبرپختونخوا کے معاملات پر بے بنیاد اور گمراہ کن بیانات دینے سے باز رہیں،وہ شروع دن سے صوبائی حکومت پر بے بنیاد الزامات لگا رہی ہیں جو حقائق کے منافی ہیں اور عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ رمضان ریلیف پیکج پر اپنی مردہ سیاست چمکانا دراصل پنجاب حکومت کی بے حسی کا ثبوت ہے۔ خیبرپختونخوا میں رمضان ریلیف پیکج کے تحت مستحق خاندانوں کو امدادی رقم کی شفاف تقسیم کا عمل باقاعدہ طور پر شروع ہو چکا ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ رمضان ریلیف پیکج کی تقسیم کسی بھی سیاسی تفریق کے بغیر صرف مستحق خاندانوں میں تقسیم کی جا رہی ہے۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایات کے مطابق بیواؤں اور خصوصی افراد کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس لیے پی ٹی آئی کارکنوں میں رمضان پیکج تقسیم کرنے کا الزام سراسر جھوٹ اور منفی سیاسی پروپیگنڈا ہے۔انہوں نے عظمیٰ بخاری کو مشورہ دیا کہ رمضان پیکج پر تنقید سے پہلے قوم کو جعلی وزیراعلیٰ کے لیے خریدے گئے طیارے کا حساب دیں۔ عوام کے ٹیکس کے پیسوں پر شاہانہ طرز حکمرانی مسلم لیگ (ن) کا وطیرہ رہا ہے۔شفیع جان نے کہا کہ پنجاب کے وزراء پہلے اپنے صوبے کی بدترین کارکردگی کا جواب دیں، اس کے بعد خیبرپختونخوا پر تنقید کریں۔ خیبرپختونخوا حکومت عوامی فلاح و بہبود اور مستحقین کو ریلیف دینے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے اور اپنی تمام تر توجہ عوام کو ریلیف دینے اور مسائل کے حل پر مرکوز کیے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ رمضان پیکج کی تقسیم شفاف طریقہ کار کے تحت جاری ہے اور اسے سیاسی رنگ دینا شرمناک عمل ہے۔ خیبرپختونخوا کے باشعور عوام جھوٹے پروپیگنڈے اور منفی سیاست کو بخوبی پہچانتے ہیں۔معاون خصوصی نے مزید کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان آج بھی مسلم لیگ (ن) کے وزراء کے اعصاب پر سوار ہیں۔ جعلی مقدمات میں پابند سلاسل رکھنے کے باوجود ن لیگ کے وزراء عمران خان کی عوامی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں۔

ہزارہ ڈویژن کے مریضوں کو بڑا ریلیف، اب فالج کے مریضوں کوایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد میں بروقت اور مفت علاج میسر ہوگا۔ ڈائریکٹر ڈاکٹر سجاد احمد آفریدی

ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کے ہسپتال ڈائریکٹر ڈاکٹر سجاد احمد آفریدی نے کہا ہے کہ ہزارہ ڈویژن کے مریضوں کو بڑا ریلیف، اب فالج کے مریضوں کوایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد میں بروقت اور مفت علاج میسر ہوگا اورادارے کا بنیادی مشن ہزارہ کی عوام کو قریب معیاری اور جدید طبی سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ مریضوں کو علاج کے لئے دور دراز شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ فالج انجیکشن نہایت مہنگا ہوتا ہے تاہم ایوب ٹیچنگ ہسپتال کی انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اسے ہزارہ کے عوام کو بالکل مفت فراہم کیا جائے گا تاکہ ہر مریض کو بروقت علاج کی سہولت میسر آ سکے۔ انہوں نے فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کی کاوشوں کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کی محنت سے اس اہم اور زندگی بچانے والی دوا کی دستیابی
ممکن بنائی گئی۔ اسی طرح ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں فالج اور دل کے دورے کے مریضوں کے فوری علاج کے لئے 6 بیڈز پر مشتمل جدید اسٹروک اینڈ اکیوٹ چیسٹ پین یونٹ قائم کیا گیا ہے جو جدید مانیٹرز اور دیگر طبی سہولیات سے لیس ہے۔ یہ یونٹ مریضوں کو فوری اور مؤثر طبی امداد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا اور ہزارہ کے مریضوں کے لئے ایک بڑی سہولت ثابت ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عابد جمیل اور بورڈ ممبران کی رہنمائی میں ادارہ مسلسل ایسے اقدامات کر رہا ہے جن کا مقصد ہزارہ کی عوام کو جدید طبی سہولیات ان کے اپنے شہر میں فراہم کرنا ہے۔یہ ہزارہ کی عوام کے لئے ایک بڑی خوشخبری ہے کہ ایوب ٹیچنگ ہسپتال کی موجودہ انتظامیہ نے فالج (اسٹروک) کے مریضوں کے فوری اور مؤثر علاج کے لئے TPA انجیکشن ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں فراہم کر دیا ہے۔ ہسپتال ڈائریکٹر ڈاکٹر سجاد احمد آفریدی نے ایمرجنسی کا دورہ بھی کیا اور متعلقہ انچارج کو انجیکشن فراہم کیا۔سجاد احمد آفریدی نے کہا کہ ادارے کا بنیادی مشن ہزارہ کی عوام کو ان کے اپنے شہر میں معیاری اور جدید طبی سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ مریضوں کو علاج کے لئے دور دراز شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ فالج کے مریضوں کے لئے TPA انجیکشن انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے جو فالج ہونے کے چند گھنٹوں کے اندر لگایا جاتا ہے اور بروقت استعمال کی صورت میں مریض کی جان بچانے اور معذوری کے خطرات کم کرنے میں انتہائی مؤثر ثابت ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ انجیکشن نہایت مہنگا ہوتا ہے تاہم ایوب ٹیچنگ ہسپتال کی انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اسے ہزارہ کی عوام کو بالکل مفت فراہم کیا جائے گا تاکہ ہر مریض کو بروقت علاج کی سہولت میسر آ سکے۔ڈاکٹر سجاد احمد آفریدی نے اس موقع پر فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کی کاوشوں کو بھی سراہا جن کی محنت سے اس اہم اور زندگی بچانے والی دوا کی دستیابی ممکن بنائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں اس سہولت کی فراہمی مریضوں اور ان کے لواحقین کے لئے ایک بڑی سہولت ثابت ہوگی اور ہسپتال میں جدید ایمرجنسی کیئر کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔اس موقع پر ایسوسی ایٹ ہسپتال ڈائریکٹر ڈاکٹر داود اقبال، نرسنگ ڈائریکٹر مہتاب سکندر، ایمرجنسی انچارج ڈاکٹر جنید سرور ملک، ایچ او ڈی ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر خرم، فارمیسی ہیڈ آصف نواز اور دیگر شعبہ جات کیسربراہان بھی موجود تھے۔ماہرین کے مطابق فالج کے مریضوں کو بروقت TPA انجیکشن لگانے سے نہ صرف مریض کی حالت میں تیزی سے بہتری آنا شروع ہو جاتی ہے بلکہ مستقل معذوری کے امکانات بھی نمایاں حد تک کم ہو جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے دنیا بھر میں اسٹروک کے علاج میں اس انجیکشن کو انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے۔ہسپتال انتظامیہ کے مطابق بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عابد جمیل اور بورڈ ممبران کی رہنمائی میں ادارہ مسلسل ایسے اقدامات کر رہا ہے جن کا مقصد ہزارہ کی عوام کو جدید طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔دریں اثنا انتظامیہ نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی صحت کے شعبے میں مزید جدید سہولیات اور اہم منصوبے متعارف کروائے جائیں گے تاکہ ایوب ٹیچنگ ہسپتال حقیقی معنوں میں عوام کو بہترین طبی خدمات فراہم کرنے والا ادارہ بن سکے۔یہ اقدام درحقیقت ہزارہ کی عوام کے لئے ایک بڑی سہولت اور امید کی کرن ہے۔

خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کی خصوصی بیکری مہم، صوبہ بھر میں 5 ہزار 641 کلو غیر معیاری بیکری اشیاء اور آئل و گھی ضبط کرکے تلف

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے صوبہ بھر میں ایک روزہ خصوصی بیکری انسپکشن مہم مکمل کرتے ہوئے مختلف اضلاع میں بیکری یونٹس کے خلاف کارروائیاں کیں اور ہزاروں کلو گرام غیر معیاری مختلف بیکری پراڈکٹس اور استعمال ہونے والی آئل برآمد کرکے تلف کر دیا
ترجمان فوڈ اتھارٹی نے ایک روزہ مہم کے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہاکہ مہم کے دوران صوبہ بھر میں 232 بیکری یونٹس کا معائنہ کیا گیا جبکہ 5 ہزار 641 کلو/لیٹر غیر معیاری اور مضر صحت بیکری آئٹمز، آئل اور گھی ضبط کرکے موقع پر تلف کیے گئے۔ترجمان نے بتایا کہ فوڈ سیفٹی ٹیموں نے حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی پر 52 امپروومنٹ نوٹسز جاری کیے اور مختلف بیکری یونٹس پر تقریباً 1.7 ملین روپے جرمانے بھی عائد کیے گئے۔
تفصیلات کےمطابق پشاور میں ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی کاشف اقبال جیلانی کی نگرانی میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے مختلف سویٹس اینڈ بیکرز کی انسپکشن کی اور موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری سے نمونوں کی جانچ پڑتال کی گئ۔ کارروائی کے دوران 200 لیٹر مضر صحت کوکنگ آئل اور 300 کلوگرام ایکسپائرڈ رسک اور مٹھائیاں برآمد کرکے تلف کی گئیں جبکہ ایک بیکری یونٹ کو سیل کردیا گیا۔
اسی مہم کے تحت نوشہرہ انڈسٹریل اسٹیٹ میں کارروائی کے دوران ایک بیکری پروڈکشن یونٹ سے 2200 کلوگرام ایکسپائرڈ اور مس لیبل بیکری آئٹمز ضبط کیے گئے اور یونٹ کو سیل کردیا گیا۔ترجمان نے کہا کہ سوات میں فوڈ سیفٹی ٹیم نے ایک بیکری یونٹ سے 115 کلوگرام غیر معیاری بیکری اشیاء برآمد کرکے تلف کیں جبکہ ذمہ داران پر جرمانے عائد کرتے ہوئے امپروومنٹ نوٹسز بھی جاری کیے گئے۔ترجمان کا مزید کہنا تھاکہ ڈی آئی خان، مردان، ایبٹ آباد، ملاکنڈ، چارسدہ، بونیر، مانسہرہ،صوابی، بنوں، لوئر دیر اور لوئر چترال سمیت دیگر اضلاع میں بھی بیکری یونٹس کی چیکنگ کی گئی جہاں غیر معیاری بیکری آئٹمز کی بڑی مقدار تلف کی گئی اور حفظانِ صحت اصولوں کی خلاف ورزی پر جرمانے عائد کیے گئے۔
دوسری جانب ملاکنڈ فوڈ سیفٹی ٹیم نے علی الصبح سوات موٹروے چیک پوسٹ پر ناکہ بندی کے دوران ایک دودھ ٹینکر سے 700 لیٹر ملاوٹی دودھ برآمد کرکے موقع پر تلف کردیا جبکہ ذمہ داروں پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔اس موقع پر ڈی جی فوڈ اتھارٹی کاشف اقبال جیلانی کا کہنا تھا کہ صوبے میں ملاوٹ مافیا اور غیر معیاری خوراک میں ملوث کاروباروں کا خاتمہ فوڈ اتھارٹی کا مشن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انسان دشمن ملاوٹ مافیا کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔۔

۔محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات خیبر پختونخوا میں صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کے پندرہویں اجلاس کا انعقاد

صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کا اجلاس ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ منصوبہ بندی اور ترقیات خیبرپختونخوا اسلام زیب کی زیر صدارت منعقد ہوا
اجلاس میں پی ڈی ڈبلیو پی کے اراکین اور متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے کی ترقی کے لیے سیاحت، آبپاشی، لائیو سٹاک، روڈز، خوراک سے متعلق 13 اہم منصوبوں کی منظوری دی گئی۔

منظور شدہ منصوبوں میں ساؤتھ وزیرستان لدھا سے گھواک (5 کلومیٹر) تک بلیک ٹاپ روڈ اور سام سے کریب کورونہ لوئر کانیگرام تک روڈ کی چوڑائی اور بلیک ٹاپ، ضم شدہ علاقوں میں موجودہ سڑکوں اور پل کی بہتری، کشادگی اور بحالی، پیر بالا چوک سے شاہ گئی تھانہ چوک پشاور سڑک کی تعمیر نو، بہتری، کشادگی اور بحالی اور مختلف یو سیز میں سڑکوں کی تعمیر کا کام، خیبر پختونخوا دیہی سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی تعاون کہ منصوبہ کے تحت ضلع خیبر میں موجودہ غیرفعال ڈی ڈبلیو ایس ایس کے سولیریزیشن اور بحالی اور ڈرینیج، سیوریج اور ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ، خیبر پختونخوا میں کیمپنگ پوڈز سائٹس اور ریسٹ ہاؤسز کی ڈویلپمنٹ، زیارا سے ڈبوری اورکزئی تک سڑک کی تعمیر، خیبر پختونخوا میں فوڈ گرین گوداموں کی سٹینڈرڈآئیزشن اور مرمت و بحالی، خوراک کے شعبے میں انوویٹو انٹرونشنز، ضم شدہ علاقوں میں اسکولوں کو شمسی توانائی سے آراستہ کرنا، پشاور ڈویژن میں تکنیکی اور اقتصادی طور پر فیزیبل 198 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر،ضلع پشاور کے تحصیل بڈبیر اور حسن خیل میں چھوٹے ڈیموں کی فزیبلٹی سٹڈیز اور تفصیلی ڈیزائن شامل ہیں۔

خیبرپختونخوا میں منشیات کے خلاف تازہ کریک ڈاؤن، دو بڑی کارروائیوں میں 10 کلو ہیروئن اور 525 گرام آئس برآمد

خیبرپختونخوا حکومت کی منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول کی صوبہ بھر میں جاری کارروائیوں کے سلسلے میں ایکسائز انٹیلیجنس اور تھانہ ایکسائز پشاور کی مختلف تازہ کارروائیوں کے دوران بھاری مقدار میں منشیات برآمد کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر لئے گئے۔محکمہ ایکسائز سے موصولہ تفصیلات کے مطابق خیبر میں ایکسائز انٹیلیجنس سکواڈ نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے بھاری مقدار میں ہیروئن سمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی۔ کارروائی صوبائی انچارج ایکسائز انٹیلیجنس سعود خان گنڈاپور اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر (کاؤنٹر نارکوٹکس آپریشنز) ماجد خان کی نگرانی میں عمل میں لائی گئی کارروائی کے دوران انسپکٹر ایکسائز انٹیلیجنس سکواڈ زرجان خان اور سب انسپکٹر ناصر امیر نے دیگر نفری کے ہمراہ خفیہ اطلاع پر ایک موٹر کار نمبری LEB-7744 کی تلاشی کے دوران گاڑی سے 10000 گرام (10 کلو) ہیروئن برآمد کر لی گئی۔ واقعے کا مقدمہ تھانہ ایکسائز خیبر میں درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔دوسری کارروائی میں تھانہ ایکسائز پشاور ریجن نے منشیات سمگلنگ کی کوشش ناکام بناتے ہوئے ایک خاتون کو گرفتار کر لیا۔ کارروائی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر (کاؤنٹر نارکوٹکس آپریشنز) ماجد خان کی نگرانی میں ہوئی، ایس ایچ او تھانہ ایکسائز پشاور ریجن عماد خان کی سربراہی میں سب انسپکٹر سجاد ممند، لیڈی کانسٹیبل اور دیگر نفری کے ہمراہ دوران پور موڑ موٹر وے کے قریب مشتبہ خاتون کی تلاشی لی گئ جس کے دوران اس کے قبضے سے 525 گرام آئس برآمد کر لی گئی۔ ملزمہ کے خلاف تھانہ ایکسائز پشاور ریجن میں مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔محکمہ ایکسائز حکام کے مطابق منشیات فروشوں کے خلاف صوبہ بھر میں کارروائیاں تیزی کیساتھ جاری رہیں گی اور نوجوان نسل کو منشیات کے ناسور سے بچانے کے لیے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد خان ترند نے بدھ کے روز سیکرٹری سپورٹس کے دفتر میں منعقدہ ای کھلی کچہری کی صدارت کی

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد خان ترند نے بدھ کے روز سیکرٹری سپورٹس کے دفتر میں منعقدہ ای کھلی کچہری کی صدارت کی۔ اس موقع پر سیکرٹری کھیل محمد آصف خان، ڈی جی کھیل تاشفین حیدر، ایڈیشنل سیکرٹری کھیل خورشید عالم، ڈائریکٹر یوتھ افیئرز ڈاکٹر نعمان مجاہد اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ای کھلی کچہری میں صوبہ بھر کے مختلف اضلاع سے عوام نے اپنی شکایات درج کرائیں۔ مانسہرہ، لکی مروت، بنوں، باجوڑ، سوات، کوہاٹ، مردان، خیبر، دیر لوئر، پشاور اور دیگر علاقوں سے شرکاء نے کھیلوں کی سہولیات کی عدم فراہمی سے متعلق مسائل اور چیلنجز سے آگاہ کیا۔مشیر کھیل نے عوام کے مسائل بغور سنے، ان کے جوابات دیے اور متعلقہ حکام کو فوری حل کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کی ہدایت جاری کی۔مشیر کھیل تاج محمد خان ترند نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے ای کھلی کچہری کے انعقاد کا مقصد عوامی مسائل سے براہ راست آگاہی حاصل کرنا اور ان کے فوری حل کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے دور دراز علاقوں کے مسائل کی نشاندہی اور بروقت ازالے میں مدد ملے گی۔انہوں نے خیبر پختونخوا کے عوام کو ایک بار پھر خوشخبری دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سپر لیگ کے میچز پشاور میں منعقد ہوں گے۔ اس سلسلے میں عمران خان کرکٹ سٹیڈیم مکمل طور پر تیار ہے اور اس حوالے سے پھیلائی جانے والی افواہوں پر توجہ نہ دی جائے۔ مزید برآں، مئی میں نیشنل ٹی ٹوئنٹی کے میچز بھی پشاور میں منعقد ہوں گے جن میں خیبر پختونخوا کی ٹیمیں حصہ لیں گی۔مشیر کھیل نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے یہ خوش آئند بات ہے کہ جوان مرکز کے لیے اراضی خرید لی گئی ہے اور تکمیل کے بعد نوجوان وہاں کھیلوں کی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں گے۔ انہوں نے محکمہ کھیل و امور نوجوانان کے حکام کو ہدایت کی کہ صوبہ بھر میں عوامی شکایات کے ازالے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے وژن اور وزیر اعلیٰ سہیل خان آفریدی کی قیادت میں خیبر پختونخوا میں کھیلوں کے میدان آباد کیے جائیں گے اور نوجوانوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

Widow’s FEB & GIF Benevolent Grant Restored; Arrears of Rs. 24,895 Released through Intervention of Wafaqi Mohtasib

Khatoon Shaheen, widow of late Abdul Shukoor and resident of Peshawar, has had her Federal Employees Benevolent Fund (FEB) and Group Insurance Fund (GIF) benevolent grant restored through the intervention of the Wafaqi Mohtasib Secretariat Regional Office Peshawar. In addition, arrears amounting to Rs. 24,895 have also been released in her favor.
The complainant had approached the office regarding suspension of her grant and non-payment of dues. The inquiry was conducted by Assistant Advisor Anjum Bibi, while implementation proceedings were supervised by Deputy Advisor Muhammad Alamzaib.
Following completion of the investigation, necessary directions were issued to the concerned department for immediate restoration of the grant and payment of outstanding arrears. The department complied accordingly.
The Wafaqi Mohtasib Secretariat Regional Office Peshawar remains committed to providing free and expeditious relief to citizens against maladministration in federal departments. Complaints may also be lodged at the office or through the official WhatsApp number 0310-8147713.

A significant and forward-looking initiative was formally launched to safeguard the population of Khyber Pakhtunkhwa (KP) from the hazardous impacts of unsafe sanitation

A significant and forward-looking initiative was formally launched to safeguard the population of Khyber Pakhtunkhwa (KP) from the hazardous impacts of unsafe sanitation. A high-level panel discussion was convened between the expert team from International Training Network-BUET (INT-BUET), Bangladesh, and the proposed Safely Managed Sanitation Unit of the Public Health Engineering Department (PHED) KP. The session was further enriched by the active participation of representatives from key development partners.
During the discussion, the INT-BUET team presented the remarkable success story of Bangladesh in implementing Citywide Inclusive Sanitation (CWIS) across six cities. The presentation highlighted how a systems-based, service-chain approach—covering containment, emptying, transportation, treatment, and safe disposal or reuse—has significantly improved urban sanitation outcomes. The experience demonstrated how strong institutional arrangements, technical capacity development, and inclusive planning can transform sanitation services and protect public health. The panel discussion laid a strong foundation for initiating CWIS in KP, with a shared vision of protecting present and future generations from the adverse consequences of poor sanitation. Inspired by Bangladesh’s practical achievements, the Government of KP, with the support of UNICEF, has begun conceptualizing the establishment of a dedicated Safely Managed Sanitation Unit within PHED.The proposed unit aims to: Institutionalize safely managed sanitation across urban and rural areas of the province.Strengthen the technical and managerial capacity of PHED staff at provincial and district levels.Develop regulatory, monitoring, and service delivery frameworks aligned with international best practices.Initiate pilot projects on CWIS in selected cities during the first phase to demonstrate scalable models.Once formally approved, the Sanitation Unit will enable PHED to systematically and professionally address sanitation challenges, moving beyond infrastructure provision toward sustainable service delivery. This structured approach will enhance coordination among provincial departments, local governments, and private operators.
At a later stage, the Provincial Government, in collaboration with development partners, will mobilize financial and technological resources to scale up CWIS implementation across KP. These efforts will directly contribute to achieving Sustainable Development Goals Target 6.2, which calls for access to adequate and equitable sanitation and hygiene for all, with special attention to the needs of vulnerable populations.
The 3rd March discussion marks not just a meeting, but the beginning of a transformative journey toward safely managed sanitation in KP—anchored in evidence, guided by regional success, and committed to long-term public health, environmental sustainability, and human dignity.