Home Blog Page 24

معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا پشاور میں ہلال احمر کے صوبائی دفتر کا دورہ

صوبائی چیئرمین فرزند علی وزیر کی جانب سے ہلال احمر خیبرپختونخوا کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ

ہلال احمر خیبرپختونخوا میں قدرتی آفات اور ہنگامی حالات کے دوران متاثرین کو فوری امداد فراہم کرتی ہے، بریفنگ

ہلال احمر انسانی خدمت اور رضاکارانہ جذبے کے اصولوں کے تحت کام کر رہی ہے، بریفنگ

ادارہ تھیلیسیمیا اور دیگر امراض میں مبتلا مریضوں کو مفت علاج سمیت طلبا کو بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے اسکالرشپس بھی فراہم کر رہا ہے، بریفنگ

قدرتی آفات کے دوران فوری رسپانس اور آگاہی مہمات میں ہلال احمر کا کردار قابل تحسین ہے، شفیع جان

ایمرجنسی کی صورت میں ہلال احمر کی جانب سے ریلیف کیمپس کا قیام انسانی خدمت کی بہترین مثال ہے، شفیع جان

رضاکاروں کا جذبہ کسی بھی معاشرے کی اصل طاقت ہوتا ہے، شفیع جان

صوبائی حکومت ہلال احمر کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، شفیع جان

ہلال احمر اور دیگر امدادی اداروں کے لیے صوبائی حکومت کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، شفیع جان

عوام میں ابتدائی طبی امداد اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے متعلق آگاہی وقت کی اہم ضرورت ہے، شفیع جان

پشاور میں غیر رجسٹرڈ اور ٹوکن ٹیکس نادہندہ گاڑیوں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز

محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول خیبر پختونخوا کے تحت ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افس ون پشاور نے شہر میں غیر رجسٹرڈ گاڑیوں، موٹرسائیکلوں اور ٹوکن ٹیکس نادہندہ گاڑیوں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

اس ضمن میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افیسر ون پشاور مسعود الحق نے گاڑی مالکان کو مطلع کیا ہے کہ وہ اپنی غیر رجسٹرڈ گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی رجسٹریشن بلا تاخیر مکمل کریں اور اپنی گاڑیوں کے واجب الادا ٹوکن ٹیکس بروقت ادا کریں تاکہ کسی بھی قسم کی پریشانی یا قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔

ای ٹی او ون کے مطابق خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ قوانین کے تحت جرمانہ عائد کیا جائے گا، گاڑی ضبط کی جا سکتی ہے اور مزید قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

انھوں نے عوام سے تعاون کی اپیل کی ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کو یقینی بنائیں اور اپنی ذمہ داریوں کی بروقت ادائیگی کے ذریعے ایک مؤثر اور شفاف نظام کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں

Peshawar Safe City Project is a modern, integrated security system.Shafi Jan

Special Assistant to the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa on Information and Public Relations, Shafi Jan, accompanied by Secretary Information Matiullah Khan, visited the Command and Control Center of the Safe City Project at Malik Saad Shaheed Police Lines, Peshawar.

During the visit, relevant police officers gave a comprehensive briefing and demonstration of the wireless control system, crisis management system, and other operational units. He was informed that the Peshawar Safe City Project has been completed at an estimated cost of PKR 2 billion. Under the initiative, 711 state-of-the-art surveillance cameras have been installed at 133 key and sensitive locations across the city. The Command and Control Center serves as a centralized hub, integrating surveillance, data analytics, and emergency response on a unified platform.

The Special Assistant was further briefed that efforts are underway to introduce an e-challan system aimed at improving traffic management and ensuring effective enforcement of traffic regulations.

Speaking on the occasion, Shafi Jan stated that the Safe City Project is a modern, technology-driven and integrated security system that will play a pivotal role in maintaining law and order in Peshawar. He noted that the project will significantly enhance police capacity and contribute to effective crime prevention.

He further added that Safe City projects in Dera Ismail Khan, Bannu, and Lakki Marwat are nearing completion, which will further strengthen the province-wide security framework.

Shafi Jan emphasized that the provincial government is taking concrete steps to ensure a safe and peaceful environment for citizens, adding that initiatives like the Safe City Project represent a major advancement aligned with modern urban security needs.

Khyber Pakhtunkhwa Chief Secretary Chairs Meeting to Review Preparation for Shandur Polo

Khyber Pakhtunkhwa Chief Secretary Shahab Ali Shah has directed that all arrangements for the Shandur Polo Festival be finalized at the earliest, stating that the festival will be held from June 11 to 13 at the Shandur Polo Ground.

He was chairing a high-level meeting on Tuesday regarding preparations for the festival. The meeting was attended by Secretary Finance Kamran Afridi, Secretary Tourism Saadat Hassan, Secretary Administration Shahid Suhail, Additional Secretary Finance Muhammad Ikhlaq, Director General Khyber Pakhtunkhwa Culture and Tourism Authority Shehryar Mahmood, DG Aviation Atif Khan, Secretary Home Usman Mehsud, Commissioner Malakand, DPOs and Deputy Commissioners of Lower and Upper Chitral, officials of the National Highway Authority (NHA), and representatives of other relevant departments.

During the meeting, the Khyber Pakhtunkhwa Culture and Tourism Authority gave a detailed briefing on the festival preparations. The Chief Secretary directed all departments to enhance mutual coordination and expedite work on access roads. He also instructed the NHA to ensure timely availability of heavy machinery at locations affected by flash floods.

Emphasizing coordination with Gilgit-Baltistan authorities, he said that the successful conduct of the festival must be ensured through close collaboration. He further directed that road construction and maintenance work in Lower and Upper Chitral be accelerated, and that a temporary bridge be installed at Shehdas until a permanent concrete bridge is constructed, to facilitate smooth public movement.

He also stressed the need for effective promotion of the festival to attract a large number of domestic and international tourists.

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان تاج محمد خان ترند نے نیشنل گیمز 2026 میں میڈلز جیتنے والے کھلاڑیوں میں مجموعی طور پر 26.6 ملین روپے (دو کروڑ 66 لاکھ روپے) کے نقد انعامات تقسیم کیے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان تاج محمد خان ترند نے نیشنل گیمز 2026 میں میڈلز جیتنے والے کھلاڑیوں میں مجموعی طور پر 26.6 ملین روپے (دو کروڑ 66 لاکھ روپے) کے نقد انعامات تقسیم کیے۔اس سلسلے میں پشاور سپورٹس کمپلیکس میں خیبرپختونخوا کے میڈل یافتہ کھلاڑیوں کے اعزاز میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی تاج محمد خان ترند تھے، جنہوں نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے
تقریب میں خیبرپختونخوا اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر ہارون ظفر، سیکرٹری سپورٹس آصف خان، ڈائریکٹر جنرل سپورٹس تاشفین حیدر، ڈائریکٹر سپورٹس جمشید بلوچ، مختلف کھیلوں کی ایسوسی ایشنز کے عہدیداران اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔اس موقع پر انڈر 23 گیمز کی ٹرافی ریجنل سپورٹس آفیسر کاشف فرحان کے حوالے کی گئی۔ یہ ٹرافی پشاور ریجن نے اپنے نام کی۔تقریب میں گولڈ میڈل جیتنے والے ہر کھلاڑی کو 6 لاکھ روپے، سلور میڈل جیتنے والے کو 4 لاکھ روپے جبکہ برونز میڈل حاصل کرنے والے کھلاڑی کو 3 لاکھ روپے کانقد انعام دیا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تاج محمد خان ترند نے کہا کہ یہ خوشی اور فخر کا موقع ہے کہ ہم اپنے ان ہیروز کے ساتھ موجود ہیں جنہوں نے نیشنل گیمز میں خیبرپختونخوا کا نام روشن کیا۔ انہوں نے کھلاڑیوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے پہلے گولڈ میڈلسٹ کے لیے 3 لاکھ، سلور کے لیے 2 لاکھ اور برونز کے لیے ایک لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا تھا، تاہم اب ان انعامات کی رقم دگنی کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کوچز کے لیے بھی ایک، ایک لاکھ روپے نقد انعام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں کی کامیابی میں کوچز کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔مشیر کھیل نے کہا کہ صوبائی حکومت عمران خان کے وژن کے مطابق صوبے میں کھیلوں کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ سہولیات کی بہتری کے لیے سوئمنگ پول سمیت متعدد منصوبے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیے گئے ہیں، جبکہ آئندہ تمام اضلاع میں کھیلوں کی بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان صلاحیتوں کو مزید نکھارا جائے اور انہیں بہتر مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ عید کے بعد نیشنل جونیئر چیمپئن شپ کا انعقاد کیا جائے گا، جبکہ آئندہ برس مزید بڑے پیمانے پر کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے جائیں گے۔
تاج محمد خان ترند نے انعامی رقم کی شفاف تقسیم کے لیے جاز کیش کے ساتھ معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے کھلاڑیوں کو ادائیگیوں میں مزید سہولت اور شفافیت میسر آئے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت کھلاڑیوں کی ہر ممکن سرپرستی اور حوصلہ افزائی جاری رکھے گی۔
گولڈ میڈلز حاصل کرنے والوں میں سیلنگ کی حجاب اجمل، جوڈو کے سید فیصل شاہ، باڈی بلڈنگ کے شاہد خان، کراٹے کے مراد خان، ٹیبل ٹینس کے فہد خواجہ اور عثمان خلیل شامل تھے۔
سلور میڈلز جیتنے والوں میں سیلنگ کی مریم سجاد، تحریم فاطمہ، رحیم داد خان، کاشف سعید، عاطف رزاق، عبدالہادی اور امینہ اجمل، جوڈو کے محمد عباس اور آصفہ نور، باڈی بلڈنگ کے الیاس خالد، تائیکوانڈو کے محمد احسن، طارق خان، سندس خان، اریبہ جاوید اور میمونہ نصیر، فنسنگ کے بریال خان، اویس خان، اویس احمد اور اقراش زمان، سکواش کی ماہ نور علی، سحرش علی، علیشبہ اور رانیہ علی، ووشو کی نور الایمان، باکسنگ کی عائشہ اور گالف کی سائرہ امین شامل تھیں۔اسی طرح برونز میڈلز حاصل کرنے والی ٹیموں اور کھلاڑیوں میں خواتین کبڈی، خواتین ٹیبل ٹینس، مرد ٹیبل ٹینس، تائیکوانڈو کی وریشہ، بیڈمنٹن کے مراد علی، ووشو کے صمد علی، باکسنگ کے محمد عامر اور منال، گالف کی زینب مر، ٹینس کے برکت اللہ اور مردوں کی ٹینس ٹیم شامل تھے۔
کوچز کامران علی، ہدایت اللہ خلیل، ذوالفقار بٹ، اکرم اور ابصار علی کو بھی نقد انعامات سے نوازا گیا۔
تقریب کے دوران پاک افغان ٹی ٹونٹی وہیل چیئر کرکٹ سیریز جیتنے والی ٹیم کے کھلاڑیوں گوہر علی آفریدی، ایاز خان، زوار نور، مثل خان، زوار خان، ساجد علی، شاہ فیصل اور محمد سعید کو بھی نقد انعامات دئے گئے

صوبائی حکومت کے اقدامات کی بدولت خیبرپختونخوا زرعی پیداوار میں خود کفالت کی جانب گامزن ہے، سیکرٹری زراعت ڈاکٹر محمد بختیار

سیکرٹری زراعت خیبرپختونخوا ڈاکٹر محمد بختیار خان سے عالمی ادارہ خوراک و زراعت کے کنٹری ڈائریکٹر جیمز اوتھ کی قیادت میں ایک وفد نے منگل کے روز ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ اس موقع پر محکمہ زراعت کے مختلف شعبہ جات کے ڈائریکٹرز سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔بعد ازاں صوبائی حکومت اور عالمی ادارہ خوراک و زراعت کے باہمی اشتراک سے متعلق ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے میں جاری مختلف زرعی منصوبوں، ان کی پیش رفت اور تعاون کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کے دوران کنٹری ڈائریکٹر نے خیبرپختونخوا میں قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں زرعی فصلوں کے تحفظ، فی ایکڑ پیداوار میں اضافے اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے صوبائی حکومت کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری زراعت ڈاکٹر محمد بختیار خان نے صوبے میں زرعی ترقی،بالخصوص زمینداروں کو سہولیات کی فراہمی کے لیے عالمی ادارہ خوراک و زراعت کے تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اس تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور امید رکھتی ہے کہ یہ اشتراک آئندہ دنوں میں مزید مؤثر اور نتیجہ خیز ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ شعبہ زراعت موجودہ صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ایک اہم شعبہ ہے، کیونکہ زراعت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اس شعبے کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔
سیکرٹری زراعت نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ اور صوبائی حکومت کے ویژن کے مطابق صوبے میں زرعی شعبے میں جدت لانے، زمین کی پیداواری استعداد بڑھانے اور زمینداروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کے لیے متعدد اہم منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے صوبے میں زرعی شعبہ جدید خطوط پر استوار ہوگا اور خیبرپختونخوا زرعی پیداوار میں خود کفالت کی جانب تیزی سے گامزن ہوگا۔

خیبرپختونخوا میں سیلز ٹیکس کی ریکارڈ وصولی، مشیر خزانہ مزمل اسلم کی کیپرا ٹیم کو مبارکباد

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں سیلز ٹیکس آن سروسز کی مد میں اپریل 2026 کے دوران تاریخ کی بلند ترین وصولی ریکارڈ کی گئی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی (کیپرا) نے اپریل کے مہینے میں 25 فیصد نمایاں اضافے کے ساتھ 4.45 ارب روپے وصول کیے۔
مشیر خزانہ کے مطابق گزشتہ سال اپریل 2025 کے دوران اسی مد میں 3.56 ارب روپے وصول ہوئے تھے، جس کے مقابلے میں رواں سال کی وصولیوں میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔مزمل اسلم نے ڈائریکٹر جنرل کیپرا محترمہ ارم ناز اور ان کی پوری ٹیم کو شاندار کارکردگی اور ریکارڈ محصولات وصولی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ کیپرا آئندہ بھی اسی جذبے اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ صوبے کی مالی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کی ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے چارسدہ میں ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس ترنگزئی پر قاتلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں شفیع جان نے کہا کہ مولانا محمد ادریس ترنگزئی کی شہادت انتہائی افسوسناک ہے اور ان پر حملہ ایک بزدلانہ فعل ہے۔واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا انہوں نے کہا کہ شہید مولانا شیخ ادریس کی دینی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور ان کا خلا تادیر پُر نہیں ہو سکے گا۔معاون خصوصی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔شفیع جان نے واقعے میں زخمی ہونے والے دو پولیس اہلکاروں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت دکھ کی اس گھڑی میں شہید کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے

معاون خصوصی شفیع جان کا لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کے کنٹریکٹ ملازمین سے کامیاب مذاکرات، ملازمین کا احتجاج ختم کرنے کا اعلان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی ہدایات پر معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے پشاور میں لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کے کنٹریکٹ ملازمین کے احتجاجی نمائندہ وفد سے کامیاب مذاکرات کیے، جس کے نتیجے میں لیڈی ہیلتھ ورکرز نے پشاور میں جاری اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا یے۔مذاکرات کے دوران لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مسائل، بالخصوص تنخواہوں کی مد میں بقایا جات اور دیگر امور پر بات چیت کی گئی۔ معاون خصوصی شفیع جان نے وفد کو یقین دلایا کہ صوبائی حکومت ان کے جائز مطالبات کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور مزید اقدامات کئے جائیں گے۔بعد ازاں اسمبلی چوک میں احتجاجی ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مطالبات کے حل کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تمام مطالبات کا جامع جائزہ لے کر قابلِ عمل سفارشات پیش کرے گی۔انہوں نے اعلان کیا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کے کنٹریکٹ ملازمین کی دو ماہ کی بقایا تنخواہیں دو دن کے اندر ادا کر دی جائیں گی، جبکہ مزید چار ماہ کی تنخواہیں بھی جلد جاری کی جائیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے وژن کے مطابق عوامی فلاح کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کو عوام اور سرکاری ملازمین کو درپیش مسائل کا مکمل ادراک ہے، اور صوبائی حکومت ان کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔شفیع جان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت لیڈی ہیلتھ ورکرز کو بہتر اور محفوظ کام کا ماحول فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ صحت کا شعبہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ انتہائی مشکل حالات میں فیلڈ میں کام کرتے ہوئے عوام کو بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کر رہی ہیں۔ ان کی محنت، لگن اور خدمات قابلِ تحسین ہیں، اور صوبائی حکومت ان کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔

خیبر پختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان نے سابقہ جنرل کونسلر حضرت خان کے ہمراہ بٹئی ضلع بونیر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

خیبر پختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان نے سابقہ جنرل کونسلر حضرت خان کے ہمراہ بٹئی ضلع بونیر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور مختلف آبی گزرگاہوں ( واٹر ویز ) کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے موقع پر صوبائی وزیر کو متعلقہ حکام نے متاثرہ علاقوں میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات، واٹر ویز کی موجودہ صورتحال اور نکاسی آب میں درپیش مسائل کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے واٹر ویز کا تفصیلی معائنہ کیا اور ہدایت کی کہ نکاسی آب کے نظام کو فوری طور پر بہتر بنایا جائے تاکہ آئندہ کسی بھی ممکنہ سیلابی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ انشاءاللہ 11 مئی کو واٹر ویز کی صفائی کے لیے باضابطہ طور پر ٹینڈر جاری کیا جائے گا، جس کے بعد صفائی کا کام فوری طور پر شروع ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ واٹر ویز کی بروقت صفائی نہ صرف سیلابی خطرات کو کم کرے گی بلکہ مقامی آبادی کو درپیش مسائل میں بھی نمایاں کمی لائے گی۔انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ صفائی کے عمل میں شفافیت، معیار اور بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور کسی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا صوبائی حکومت عوام کو قدرتی آفات سے محفوظ بنانے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ علاقے کی مسلسل نگرانی جاری رکھیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات یقینی بنائیں تاکہ عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جا سکے۔اس موقع پر سابقہ جنرل کونسلر حضرت خان نے صوبائی وزیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بٹئی کے عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور واٹر ویز کی صفائی سے علاقے میں سیلابی خطرات میں نمایاں کمی آئے گی۔