Home Blog Page 25

ایبٹ آباد میں حویلیاں انٹرچینج کے قریب آئس ڈیلر گرفتار، 247 گرام آئس برآمد

خیبرپختونخوا حکومت کی منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور صوبائی وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کی ہدایات کے تحت جاری کاروائیوں کے سلسلے میں محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا نے صوبہ بھر میں منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران مختلف اضلاع میں الگ الگ کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کر کے متعدد ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔اس سلسلے میں تھانہ ایکسائز ایبٹ آباد نے خفیہ اطلاع پر حویلیاں انٹرچینج کے قریب کارروائی کرتے ہوئے آئس ڈیلر کو گرفتار کر لیا۔ کارروائی ارشاد اللہ آفریدی سرکل آفیسر کی زیر نگرانی اور فیصل خان ایس ایچ او تھانہ ایکسائز ایبٹ آباد کی سربراہی میں کی گئی جس میں نسیم خان ایڈیشنل ایس ایچ او اور دیگر نفری نے حصہ لیا۔ دورانِ تلاشی ملزم نوید حسین شاہ ولد میر ولی شاہ، ساکن مانسہرہ کے قبضے سے 247 گرام آئس برآمد کر کے اسے موقع پر گرفتار کر لیا گیا۔ ملزم کے خلاف تھانہ ایکسائز ایبٹ آباد میں مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ادھر پشاور میں ایکسائز انٹیلیجنس کے اسپیشل سکواڈ نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے جوتے میں چھپائی گئی 350 عدد نشہ آور گولیاں (ایسٹیسی) برآمد کر لیں۔ کارروائی سعود خان گنڈاپور، پراونشل انچارج ایکسائز انٹیلیجنس اور ماجد خان، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر (کاؤنٹر نارکوٹکس آپریشنز) کی زیر نگرانی وحید اکبر خان، انسپکٹر EIB اسپیشل سکواڈ نے دیگر نفری کے ہمراہ ایچ گول چوک پشاور پر موٹروے کے قریب کی۔ ملزم محمد طارق ولد محمد ہاشم خان ساکن پشاور کو موقع پر گرفتار کر کے مقدمہ تھانہ ایکسائز پشاور ریجن میں درج کر لیا گیا ہے۔اسی طرح پشاور موٹر وے کی حدود میں ایک اور کامیاب کارروائی کے دوران 2400 گرام چرس برآمد کر کے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ کارروائی ایس ایچ او تھانہ ایکسائز پشاور عماد خان کی سربراہی میں کی گئی جبکہ آپریشن کی نگرانی ماجد خان، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر (کاؤنٹر نارکوٹکس آپریشنز) نے کی۔ واقعے کا مقدمہ تھانہ ایکسائز پشاور میں درج کر کے مزید تفتیش جاری ہے۔محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ صوبے بھر میں منشیات فروشوں اور اسمگلرز کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ محکمہ نے صوبائی وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخرِ جہاں کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں
منشیات کے خاتمے کے لیے اقدامات مزید تیز کر دیے گئے ہیں۔

وزیر ایکسائز سید فخرجہان کا سینئر صحافی انیلہ شاہین کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان نے پشاور کی معروف خاتون سینئر صحافی انیلہ شاہین کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔اپنے تعزیتی بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ نامور صحافی انیلہ شاہین کے انتقال کی خبر سن کر دلی صدمہ ہوا۔ مرحومہ صحافت کے شعبے میں ایک باوقار اور ذمہ دار آواز تھیں اور پیشہ ورانہ خدمات کے ذریعے انہوں نے معاشرے میں مثبت آگاہی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور سوگوار خاندان کو یہ ناقابلِ تلافی سانحہ صبر و استقامت سے برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا سینئر صحافی انیلہ شاہین کے انتقال پر اظہار افسوس

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے پشاور کی سینیئر خاتون صحافی انیلہ شاہین کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے،یہاں سے جاری اپنے تعزیتی بیان میں شفیع جان نے کہا کہ انیلہ شاہین کی وفات اُن کے خاندان اور پوری صحافتی برادری کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے، وہ ایک جرات مند اور بااصول صحافی تھیں جنہوں نے ہمیشہ حق گوئی اور دیانتداری کو اپنا شعار بنائے رکھا،انہوں نے کہا کہ مرحومہ کی صحافت کے میدان میں پیشہ ورانہ خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی کمی طویل عرصے تک محسوس کی جاتی رہے گی،شفیع جان نے کہا کہ وہ دکھ کی اس گھڑی میں مرحومہ کے اہلِخانہ اور صحافتی برادری کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔معاون خصوصی نے مرحومہ کی مغفرت، درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبرو جمیل کی دعا بھی کی۔

خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل وامور نوجوانان تاج محمد خان ترند نے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بٹگرام کو کیٹیگری بی میں اپ گریڈ کیا جا رہا ہے، جس کے لیے محکمہ خزانہ کے ساتھ مشاورت جاری ہے

خیبر پختونخوا کے مشیر برائے کھیل وامور نوجوانان تاج محمد خان ترند نے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بٹگرام کو کیٹیگری بی میں اپ گریڈ کیا جا رہا ہے، جس کے لیے محکمہ خزانہ کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔ ہسپتال کو کیٹیگری بی کا درجہ دلانا ہماری اولین ترجیح ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نگران دور میں ضلع بٹگرام کے ساتھ ناانصافی ہوئی اور محکمہ خزانہ سے ایس این ای واپس کی گئی جو علاقہ کے ساتھ زیادتی تھی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر سے جاری ایک بیان میں کیا۔تاج محمد خان ترند کا کہنا تھا کہ وہ بٹگرام کے عوام کے بے حد مشکور ہیں جنہوں نے انہیں اور ان کے خاندان کو عزت اور اعتماد دیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہارکیا کہ وہ اس اعتماد پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے اور عوام کی توقعات اور امیدوں پر پورا اتریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتال کو کیٹیگری بی کا درجہ ملنے سے بٹگرام کے عوام کو صحت کی بہتر اور مزید سہولیات میسر آئیں گی۔تاج محمد خان ترند نے کہا ہے کہ 31 مارچ تک بٹگرام کے تمام آر ایچ سیز (RHCs)، بی ایچ یوز (BHUs) اور سی ڈیز (CDs) میں ڈاکٹروں کی تعیناتی مکمل کر دی جائے گی۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور موجود ہ خالی آسامیوں کو جلد از جلد پُر کیا جا رہا ہے تاکہ دور دراز علاقوں کے لوگوں کو بھی معیاری طبی سہولیات میسر آ سکیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر صحت خلیق الرحمٰن نے صحت سہولت پروگرام سے متعلق مالی امور اور انتظامی چیلنجز کا جائزہ لینے کے حوالے سے منعقدہ ایک اہم اجلاس کی صدارت کی

خیبر پختونخوا کے وزیر صحت خلیق الرحمٰن نے صحت سہولت پروگرام سے متعلق مالی امور اور انتظامی چیلنجز کا جائزہ لینے کے حوالے سے منعقدہ ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں ضلع مردان کے مختلف سرکاری ہسپتالوں کو درپیش مسائل پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں صحت سہولت پروگرام کے سربراہ ریاض تنولی، ضلع مردان کے ضلعی نگرانِ صحت اور صحت سہولیات کے نفاذ و انتظام سے متعلق دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے دوران فنڈز کی موجودہ صورتحال، زیرِ التواء ادائیگیوں، طبی خدمات کی فراہمی میں درپیش مشکلات اور صحت کارڈ کے تحت کام کرنے والے ہسپتالوں کو پیش آنے والی انتظامی رکاوٹوں پر جامع بریفنگ دی گئی۔ سربراہ صحت سہولت پروگرام نے بلا تعطل طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے درکار مالی وسائل اور انتظامی ضروریات سے آگاہ کیا۔صوبائی وزیر صحت نے متعلقہ حکام کو بروقت فنڈز کے اجراء کی یقین دہانی کراتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صحت سہولت پروگرام کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ مستحق مریضوں کو معیاری اور مفت طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوامی فلاح حکومت کی اولین ترجیح ہے اور مالی و انتظامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔اجلاس میں مردان کے ہسپتالوں کی کارکردگی، بنیادی ڈھانچے کی ضروریات اور طبی خدمات کی فراہمی میں موجود خامیوں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر صحت نے ہدایت کی کہ تمام درپیش مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں، باہمی رابطہ کاری کو بہتر بنایا جائے اور ضلع کے عوام کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔اجلاس کے اختتام پر خلیق الرحمٰن نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ صحت صورتحال کی مسلسل نگرانی جاری رکھے گا اور صحت کے نظام میں شفافیت، کارکردگی اور احتساب کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گا تاکہ مردان کے عوام کو بلا تعطل اور معیاری طبی خدمات فراہم کی جا سکیں۔

پاکستان گورننس فورم مشترکہ عزم کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے اچھی حکمرانی صرف پالیسیوں سے نہیں بلکہ فنکشنل گوڈ گورننس سے پہچانی جاتی ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ پاکستان گورننس فورم 2026 میں شرکت کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو پورے پاکستان میں گورننس کو مضبوط بنانے کے لیے ہمارے مشترکہ عزم کو یکجا کرتا ہے مزمل اسلم نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ خیبرپختونخوا گورننس اصلاحات میں کسی بھی صوبے سے پیچھے نہیں۔ معزز وزیر اعلیٰ کی قیادت میں اچھی حکمرانی کو ایک منظم اصلاحاتی ایجنڈا کے طور پر آگے بڑھایا جا رہا ہے، جسے ادارہ جاتی تبدیلی، ڈیجیٹل جدت اور مالی نظم و ضبط کی حمایت حاصل ہے۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے پاکستان گورننس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
مزمل اسلم نے کہا خیبرپختونخوا نے پانچ سالہ ڈیجیٹائزیشن منصوبہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں مکمل کیا۔ تقریباً 170 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹائزیشن کے لیے شناخت کیا گیا جس میں سے 56 خدمات مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو چکی ہیں اور 73 خدمات میں الیکٹرانک ادائیگی کی سہولت دستیاب ہے۔ مزمل اسلم نے کہا خیبرپختونخوا نے کیش لیس پبلک فنانس نظام کی طرف واضح پیش رفت کی ہے۔ صرف جنوری 2025 میں 2,51,214 سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور 1,15,648 پنشنرز کی پنشن مائیکرو پیمنٹ گیٹ وے کے ذریعے ادا کی گئیں، جو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور قابلِ سراغ لین دین ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ ایک اہم اصلاح قرضہ جاتی نظم و نسق فنڈ کا قیام ہے، جو پاکستان میں صوبائی سطح پر اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسی کے ساتھ کے پی آر اے کی محصولات اصلاحات کے ذریعے صوبائی مالی خودمختاری کو مضبوط بنایا جا رہا ہے، جن میں جی آئی ایس پر مبنی پراپرٹی ٹیکسیشن، ریئل ٹائم ڈیجیٹل مانیٹرنگ، اینالیٹکس پر مبنی نفاذ شامل ہے۔ ان اصلاحات نے ٹیکس کی شرح بڑھائے بغیر ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا ہے۔ نتیجتاً خیبرپختونخوا کی اپنی آمدن دو سال میں دوگنی ہو کر 65 ارب روپے سے 129 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورننس اور ریگولیٹری نگرانی کو بھی نئی شکل دے رہی ہے۔ پشاور سیف سٹی پراجیکٹ، جو مارچ 2026 میں تکمیل کے قریب ہے، اور اے این پی آر و آر ایف آئی ڈی پر مبنی خودکار گاڑی شناختی نظام پولیسنگ کو پیشگی اور انٹیلی جنس پر مبنی ماڈل کی طرف منتقل کر رہے ہیں۔
مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں موجود 8,179 مدارس میں سے 1,300 سے زائد مدارس رجسٹر ہو چکے ہیں، جو تعلیمی نظام میں ادارہ جاتی انضمام اور شفاف نگرانی کی جانب اہم قدم ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ اسی طرح صوبے بھر میں نان کسٹم پیڈ (این سی پی) گاڑیوں کی میپنگ اور پروفائلنگ مکمل کر لی گئی ہے، اور اب انہیں باضابطہ رجسٹریشن کے ذریعے دستاویزی اور ریگولیٹڈ فریم ورک میں لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا خیبرپختونخوا اوٹ آف سکولز بچوں میں 50 فیصد کمی آئی ہے اور 1,500 کم کارکردگی والے اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ کا عمل شروع ہے جبکہ مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے 90 فیصد اساتذہ حاضری کو یقینی بنایا گیا ہے مزمل اسلم نے کہا کہ 250 صحت مراکز کو 24/7 زچگی خدمات کے لیے اپ گریڈ کیا گیا ہے جبکہ 54 ہسپتالوں کو بہتر انتظامی ماڈلز پر منتقل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل گورننس — ڈیجیٹل خیبرپختونخوا ڈیجیٹل تبدیلی اصلاحات کا مرکزی ستون ہے۔ آن لائن سرکاری خدمات کی توسیع، ای آفس سسٹمز کی مضبوطی، اور مختلف محکموں میں ای-پروکیورمنٹ کا نفاذ جاری ہے۔ 100 سے زائد سرکاری خدمات شہری پلیٹ فارمز جیسے دستک انیشی ایٹو کے ذریعے آن لائن فراہم کی جا رہی ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ ریگولیٹری و انتظامی جدیدیت کیلئے خیبرپختونخوا ایکسائز ڈیپارٹمنٹ نے کئی اہم اقدامات متعارف کروائے ہیں جن میں وہیکل اسمارٹ کارڈز کا اجرا، پراپرٹی ٹیکس ریکارڈز کی کمپیوٹرائزیشن، اوپن آکشن کے ذریعے انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس (IDC) کی کامیاب وصولی، جس سے 1.16 ارب روپے آمدن حاصل ہوئی ہے۔

Labour Department, Workers Welfare Board Khyber Pakhtunkhwa Advances Institutional Governance through IMC Formation

The Labour Department, Workers Welfare Board Khyber Pakhtunkhwa has taken a significant step towards strengthening institutional governance and enhancing industry linkages by advancing the formation of Institute Management Committees (IMCs) across its Technical and Vocational Education and Training (TVET) institutes.

In this regard, a 2 day sensitization workshop was organized under the Technical and Vocational Education and Training Sector Support Programme (TVET SSP). The workshop brought together Principals of Workers Welfare Board Khyber Pakhtunkhwa institutes to deliberate on the effective formation and operationalization of IMCs. Representatives from the Social Welfare Department and institute heads from the Technical Education & Vocational Training Authority (TEVTA) also actively participated in the session, reflecting a strong inter-departmental commitment towards collaborative governance in the TVET sector.

The workshop aimed to build awareness and understanding regarding the IMC framework and its critical role in strengthening institutional oversight, transparency, and performance. Participants were introduced to best practices in IMC formation, governance structures, and the mechanisms required to ensure active industry representation within the committees.

A key focus of the workshop was enhancing collaboration between TVET institutes and industry partners to align training programs with market demands. Through structured dialogue and group discussions, participants explored strategies to improve graduate employability by integrating industry insights into curriculum planning, skills standards, and practical training opportunities.

The session also emphasized the development of a sustainable and practical model for the operationalization of IMCs. Participants discussed clear terms of reference, roles and responsibilities of committee members, performance monitoring frameworks, and mechanisms for ensuring long-term functionality and impact.

By establishing strong, industry-aligned IMCs, the Workers Welfare Board Khyber Pakhtunkhwa aims to promote demand-driven skills development, strengthen institutional governance, and create sustainable career pathways for trainees across the province. The initiative reflects the department’s commitment to modernizing the TVET ecosystem and ensuring that workers and their families have access to quality technical education and enhanced employment opportunities.

This initiative was implemented with the support of the European Union in Pakistan and German Development Cooperation through the TVET Sector Support Programme (TVET SSP), delivered by GIZ Pakistan. The training was conducted by the Institute of Social and Policy Sciences (I-SAPS), which provided technical expertise and facilitation to ensure a comprehensive and outcome-oriented learning experience.

The Labour Department, Workers Welfare Board Khyber Pakhtunkhwa reaffirmed its commitment to continuing reforms in the TVET sector and fostering strong partnerships with development partners and industry stakeholders to drive inclusive economic growth and workforce development in the province.

محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا کے تعاون سے یاسمین بی بی گرلز ڈگری کالج پیر سعادی تخت بھائی مردان میں منشیات کے خلاف آگاہی سیمینار، سو سے زائد طالبات کی شرکت

محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا کے تعاون سے یاسمین بی بی گرلز ڈگری کالج پیر سعادی تخت بھائی مردان میں ایک مؤثر اینٹی ڈرگ آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کا مقصد طالبات کو منشیات کے مضر اثرات، ان کی اقسام، پھیلاؤ کی وجوہات، تعلیمی و سماجی نقصانات اور انسداد کے عملی اقدامات سے آگاہ کرنا تھا۔تقریب میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر خالد خان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں طالبات کو منشیات کے جسمانی، ذہنی اور سماجی نقصانات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ منشیات نہ صرف فرد کی صحت اور مستقبل کو تباہ کرتی ہیں بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کے لیے سنگین مسائل پیدا کرتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان نسل منشیات سے مکمل اجتناب کریں اور اپنے اردگرد آگاہی پھیلانے میں مثبت کردار ادا کریں۔انہوں نے مزید بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے منشیات کے خاتمے کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں، تاہم اس ناسور کے مکمل سدباب کے لیے والدین، تعلیمی اداروں اور معاشرے کے تمام طبقات کا تعاون ناگزیر ہے۔سیمنار میں سو سے زائد طالبات نے شرکت کی جبکہ طالبات نے آگہی کے حوالے سے مفید سوالات کیے جن کے تفصیلی جوابات دیے گئے۔ اس موقع پر طالبات کی جانب سے آگاہی پوسٹرز اور پیغامات بھی پیش کیے گئے جن میں Say No to Drugsکے موضوع کو اجاگر کیا گیا۔کالج کی پرنسپل میڈم ہلال بی بی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ادارہ نہ صرف معیاری تعلیم بلکہ طالبات کی اخلاقی و سماجی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دے رہا ہے تاکہ وہ ایک ذمہ دار اور باکردار شہری کے طور پر معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔تقریب کے دوران منتخب رضاکار طالبات کو باقاعدہ اینٹی ڈرگ ایمبیسیڈرز کے بیجز لگائے گئے جو دیگر تعلیمی اداروں میں بھی آگاہی مہم چلائیں گی۔ آخر میں کالج کے ڈائریکٹر محمد فدا حسین نے مہمانِ خصوصی کو شیلڈ پیش کی اور ان کی آمد پر شکریہ ادا کیا، جبکہ طالبات نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے ارد گرد معاشرے اور خاندانوں میں منشیات کے خلاف آگاہی میں موثر کردار ادا کریں گی۔

محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا کی منشیات کے خلاف بڑی کارروائی

صوبائی حکومت کی منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا نے پشاور کے قریب موٹروے سروس روڈ پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے منشیات کی سمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی اور ایک موٹر کار سے 24 کلوگرام چرس برآمد کر لی جبکہ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔محکمہ کے مطابق یہ کارروائی سپیشل سکواڈ ایکسائز انٹیلیجنس نے خفیہ اطلاع پر سعود خان گنڈاپور پراونشل انچارج ایکسائز انٹیلیجنس اور ماجد خان ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر، کاؤنٹر نارکوٹکس آپریشنزکی زیر نگرانی عمل میں لائی گئی جبکہ اسپیشل اسکواڈ کی قیادت وحید اکبر خان (انسپکٹر، ای آئی بی نے کی۔موصولہ تفصیلات کے مطابق مشتبہ موٹر کار نمبر ACJ-206 کی دوران تلاشی گاڑی سے 24,000 گرام (24 کلوگرام) چرس برآمد ہوئی اور بروقت کارروائی سے منشیات کی ترسیل کی بڑی کوشش ناکام بنا دی گئی۔محکمہ کے مطابق مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے تھانہ ایکسائز پشاور ریجن میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا نے واضح کیا ہے کہ صوبے بھر میں منشیات کے خلاف کارروائیاں زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بلاامتیاز جاری رہیں گی۔

Citizen Granted Relief of Rs. 30,000 in Gas Bill Arrears through Intervention of Wafaqi Mohtasib

Ameer Ghulab, a resident of District Peshawar, has been granted relief amounting to Rs. 30,000 in his gas bill arrears following the intervention of the Wafaqi Mohtasib Secretariat Regional Office Peshawar.

The complainant had approached the office regarding excessive arrears reflected in his gas bill. The inquiry was conducted by Advisor Mushtaq Jadoon, while implementation proceedings were overseen by Deputy Advisor Muhammad Alamzaib.

Upon completion of the investigation, directions were issued to the concerned gas company, which complied by adjusting and waiving Rs. 30,000 from the outstanding amount.

The Wafaqi Mohtasib Secretariat Regional Office Peshawar continues to provide free and expeditious relief to citizens against maladministration in federal departments. Complaints may also be lodged at the office or through the official WhatsApp number 0310-8147713.