Home Blog Page 270

خیبر پختونخوا کے وزراء عاقب اللہ خان اور میجر ریٹائرڈ محمد سجاد بارکوا ل کی زیر صدارت بدھ کے روز پشاور میں آبپاشی اور زراعت کے شعبوں کو ترقی دینے سے متعلق ایک جائزہ اجلاس

خیبر پختونخوا کے وزراء عاقب اللہ خان اور میجر ریٹائرڈ محمد سجاد بارکوا ل کی زیر صدارت بدھ کے روز پشاور میں آبپاشی اور زراعت کے شعبوں کو ترقی دینے سے متعلق ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کے علاوہ متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ اس موقع پر جنوبی اضلاع میں آبپاشی اور زراعت کے شعبوں کے جاری منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور نئے شروع ہونے والے عوامی منصوبوں اور بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے اور ان کو زراعت مقاصد کے لئے استعمال میں لانے سے متعلق لائحیہ عمل تیار کیا گیا۔اجلاس میں جنوبی اضلاع اور خاص طور پر لکی مروت کو زراعت کے شعبے میں ترقی سے ہمکنار کرنے کے لیے اہم فیصلے کیئے گئے۔صوبائی وزراء نے کہا کہ لکی مروت میں آبپاشی کے نظام کو سہل بنانے اور زراعت کے شعبے میں زمینداروں اور کسانوں کی ترقی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اور اس مقصد کی خاطر دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ وہاں کی زمینوں پر باغات لگائے جائیں گے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ تقریبا 100 ایکڑ اراضی پر لیموں، انگور، مالٹا،ڈکی کھجور، زعفران، زیتون اور مونگ پھلی کے لیے حکومت رعایتی نرخوں پر تخم کسانوں کو فراہم کر ے گی اور اس سلسلے میں زمینداروں اور کسانوں کو خصوصی تربیت بھی دی جائے گی اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ شہدکی پیداوار کو بڑھانے کے لیے بھی اقدامات شروع کیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لکی مروت میں محکمہ زراعت تقریبا 10000 ہزار واٹر سٹوریج ٹینک اورزرعی ٹیوب ویلوں کی کھودائی کے لیے جگہ کا انتخاب متعلقہ کمیٹی کرے گی۔ اس کے علاوہ صوبے میں کچن گارڈن کے پراجیکٹ پر بھی کام ہو رہا ہے جس کے ذریعے گھر کے اندر سبزیاں پیدا کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی زمینوں کو قابل کاشت بنانا حکومت اپنی اولین ذمہ داری سمجھتی ہے تاکہ صوبہ زراعت میں خود کفیل ہو سکے اور گندم اور دیگر غذائی اشیاء منگوانی نہ پڑیں۔

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر نے ڈائریکٹوریٹ جنرل انڈسٹریز اینڈ کامرس کے تمام پیشہ ورانہ اور عمومی امور کو ڈیجیٹائز کرنے میں تیزی لانے کی ہدایت کی ہے

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت وحرفت اور فنی تعلیم عبدالکریم تورڈھیر نے ڈائریکٹوریٹ جنرل انڈسٹریز اینڈ کامرس کے تمام پیشہ ورانہ اور عمومی امور کو ڈیجیٹائز کرنے میں تیزی لانے کی ہدایت کی ہے جبکہ حقوق صارفین کے حوالے سے محکمہ کی جانب سے خدمات کی فراہمی کے سلسلے میں بہتری لانے پر زور دیا ہے۔انھوں نے ہدایت کی ہے کہ صوبے کے مختلف علاقوں سے منسوب خصوصی وسائل اور پیداواری اشیا کا ریسورس میپنگ کلسٹر بنایا جائے تاکہ ہر علاقے کے خصوصی مصنوعات اور پیداواری اشیا کا پورا ڈیٹا موجود ہو۔ انھوں نے گورنمنٹ پرنٹنگ پریس کو ایک فعال اور منافع بخش ادارہ بنانے کیلئے بھی متعلقہ حکام کو مناسب اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔ یہ ہدایات انھوں نے بدھ کے روز ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انڈسٹریز اینڈ کامرس کا دورہ کرنے کے موقع پر ادارے کے حوالے سی لی گئی بریفنگ کے دوران جاری کئے۔ڈی جی انڈسٹریز کبیر افریدی،ڈائریکٹر انڈسٹریز محمد حنیف اور دیگر افسران اس موقع پر موجود تھے۔ معاون خصوصی کو اس موقع پر ادارے کی کارکردگی ،حاصل کردہ اہداف اور پیشہ ورانہ زمہ داریوں اور سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔انکو بتایا گیا کہ محکمہ 26 اضلاع میں علاقائی دفاتر کے ذریعے اپنی خدمات فراہم کرہا ہے جبکہ حقوق صارفین کے حوالے سے 5086 کیسز کے فیصلے ہوئے ہیں جس میں4700 ملین روپے کے جرمانے بھی عائد کئے گئے ہیں۔انکو بتایا گیا کہ58147 انسپکشن کرائے گئے ہیں جبکہ جولائی 2023 سے مارچ 2024 تک مالی سال کے محاصل کا 86 فیصد ہدف بھی پورا کیا گیا ہے۔انکو مزید بتایا گیا کی خیبر پختونخوا رجسٹریشن گودام ایکٹ 2021 کے رولز کو حتمی شکل دی گئ ہے اور اسے کابینہ سے منظور ی کیلئے متعلقہ حکام کو ارسال کیا گیا ہے۔اسی طرح انڈسٹریز کامرس اینڈ ٹریڈ سٹیٹسٹکس ایکٹ کے رولز بھی فائنل کئے گئے ہیں۔ انکو بتایا کیا گیا ریسورس میپنگ ڈیٹا کو اکٹھا کرکے اس کو رپورٹ کی شکل میں حتمی شکل دینے پر کام جاری ہے۔انکو بتایا گیا کہ محکمہ کیساتھ 1932 فرمز کی رجسٹریشن ہو چکی ہے جبکہ ایم آئی ایس سسٹم کے قیام سے محکمہ کی فیلڈ سرگرمیوں کو سسٹم پر ڈال کر اسے ڈیش بورڈ پر محکمہ کیساتھ شئر کیا جاتا ہے۔اس موقع پر معاون خصوصی نے کہا کہ محکمہ میں روایتی طریقے کے بجائے سارے امور کو آن لائن بنایا جائے اور محکمہ کیساتھ رجسٹریشن اور آپریشنل سرگرمیوں کے سارے عوامل کو بھی عوام کی آسانی کیلئے ڈیجیٹل طریقے پر ڈالا جائے۔انھوں نے محکمہ کے ایم آئی ایس سسٹم میں ضرورت کے مطابق مزید امکانی خصوصیات کو بھی شامل کرنے کی ہدایت کی۔

خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی زندگی کو لاحق خطرات سے متعلق /پنجاب و وفاقی حکومت سے طبی معائنہ کا مطالبہ

بشری بی بی کی زندگی کو شدید خطرہ لاحق ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف

پشاور:بشری بی بی کو خوراک میں زیریلی کیمیکل ہارپک دیا جارہا ہے جو سلو پوائزننگ کا کام کرتا ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف

پشاور:انکی جان کو خطرہ کی پیش نظر ہماری پریشانی اور خدشات روز بروز بڑھ رہی ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف

پشاور:خدانخواستہ اگر انکو کچھ ہوا تو براہ زمہ داری مریم نواز اور شوباز شریف پر عائد ہوگی اور قانون کا شکنجہ انکے گرد تنگ ہوگا۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف

پشاور:ہمارا مطالبہ ہے کہ ڈاکڑ عاصم ،شوکت خانم ہسپتال اور ملک کے دیگر مستند ڈکٹرز پر مشتمل ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے جو انکو علاج کرائیں اور عدالت کو رپورٹ کریں۔

پشاور:اس سے قبل بھی ہم نے عمران خان اور چوہدری پرویز الہی کی زندگی کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا تھا۔

پشاور:عمران خان،پرویز الٰہی اور بشری بی بی انتظامیہ کے زیر حراست ہیں اگر انکو کچھ نقصان پہنچا تو براہ زمہ داری شہباز شریف اور مریم نواز پر عائد ہوگی۔

پشاور:جعلی فارم 47کے وزیر اعظم اور جعلی وزیر اعلیٰ مریم نواز کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ اگر اسکا سدباب نہ کیا گیا تو یقینا قانون کا ہاتھ ہوگا اور آپکا گریبان ۔بیرسٹر سیف

مشیر سیاحت سے ڈی جی کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی ملاقات، گلیشیئر واقعہ اور اتھارٹی کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا

بالائی علاقوں میں ترقیاتی اتھارٹیز کی سیاحتی سرگرمیاں ریگولیٹ کرنے کیلئے بائی لاز اور قانون سازی ناگزیر ہے۔ زاہد چن زیب

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب نے وادی کاغان میں سیاحت کے فروغ کیلئے کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے کردار کو سراہا ہے تاہم بالائی علاقوں میں ترقیاتی اتھارٹیز کی سیاحتی سرگرمیاں ریگولیٹ کرنے کیلئے بائی لاز اور قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا ہے جس کے بغیر اتھارٹیز منظم خدمات سرانجام نہیں دے پاتیں اور نہ ہی ترقیاتی عمل کے ذریعے اپنی آمدن بڑھانے کے قابل بنتی ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ موجودہ حکومت اس ضمن میں واضح پیشرفت یقینی بنائے گی جس سے سیاحوں کیلئے سہولیات کے علاؤہ اتھارٹیز کی آمدن میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سیاحت کا فروغ بانی پی ٹی آئی کا ویژن ہے جبکہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی فعال قیادت میں موجودہ صوبائی حکومت تمام شعبوں میں اصلاحات کے ذریعے مدینہ کی طرز پر ایک ترقیافتہ اسلامی فلاحی معاشرے کی تشکیل کا خواب ضرور شرمندہ تعبیر بنائے گی۔ اس امر کا اظہار انہوں نے کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل محمد شبیر سے بات چیت میں کیا جنہوں نے مشیر سیاحت سے پشاور میں ملاقات کی اور کاغان میں حالیہ گلیشیئر واقعہ کے علاؤہ سیاحتی سرگرمیوں سے متعلق ادارے کو درپیش مسائل و مشکلات سے بھی انہیں آگاہ کیا۔ زاہد چن زیب نے گزشتہ ہفتے کاغان میں دو گلیشیئر گرنے اور متعدد ہوٹل اور مکانات اسکی زد میں آنے کی اطلاع پر فوری حرکت میں آنے اور تمام مواصلاتی رابطے منقطع ہونے کے باوجود ہنگامی بنیادوں پر ریسکیو ٹیمیں پیدل جائے حادثہ پہنچانے پر محمد شبیر کی حسن کارکردگی کو قابل فخر کارنامہ قرار دیا اور واضح کیا کہ زندہ قومیں بحرانوں اور چیلنجوں کا اسی طرح مردانہ وار مقابلہ کرتی ہیں اور پھر ہر شعبے اور محاذ پر سرخرو بھی ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ایسے فرض شناس افسران کی قدر کرتی ہے اور انکی مناسب حوصلہ افزائی کا عمل بھی جاری رکھے گی۔ مشیر سیاحت نے عیدالفطر پر سیاحتی سیزن شروع ہونے کے پیشِ نظر سیاحوں کی سہولیات کیلئے فول پروف انتظامات کی ضرورت پر زور دیا اور امید ظاہر کی کہ اتھارٹی کاغان میں ریسٹ ہاؤسز اور ہوٹلوں کے بہترین معیار کے علاؤہ سیاحوں کیلئے رش کے اوقات میں پارکنگ اور راستوں میں واش رومز کا بھی خصوصی اہتمام کرے گی۔ انہوں نے پارکنگ کے ساتھ بہترین ہوٹل مینجمنٹ اور صحت و صفائی کا عمل خودکار انداز میں یقینی بنانے کیلئے بائی لاز بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ مشیر سیاحت نے کاغان ویلی ٹاؤن شپ سکیم میں ترقیاتی عمل تیز رفتاری سے مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی۔ کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نے مشیر سیاحت کی ہدایات پر فوری عملدرآمد کا یقین دلایا اور انہیں دورہ کاغان کی دعوت دی جسے قبول کرتے ہوئے زاہد چن زیب نے کہا کہ عیدالفطر کے بعد وہ نہ صرف کاغان اور پنے حلقہ نیابت مانسہرہ کا دورہ کریں گے بلکہ ضم اضلاع سمیت صوبہ بھر کے تمام سیاحتی مقامات کا پوری باریک بینی سے جائزہ لیں گے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی  برائے بہبود آبادی  ملک لیاقت علی خان سے سیکر ٹری بہبودی آبادی معتصم بااللہ کی ملاقات

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی  برائے بہبود آبادی ملک لیاقت علی خان سے سیکر ٹری بہبودی آبادی معتصم بااللہ نے انکے دفتر سول سیکرٹریٹ پشاور میں ملاقات کی۔ ملاقات میں محکمہ بہبودی آبادی سے متعلق امور پرگفتگو کی گئی۔ اس موقع پر سیکر ٹری بہبودی آبادی معتصم بااللہ نے معاون خصوصی کو جاری منصوبوں اور مستقبل کے لائحہ عمل سے متعلق آگاہ کیا۔ ملاقات میں خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات کی دستیابی،سہولیات اور خدمات کی  مفت فراہمی،چھوٹے خاندان اور آبادی پر قابو پانے کے پیغام کو گھر گھر پہنچانے اور عوام میں شعور کی بیداری پرگفتگو کی گئی۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی کی زیر صدارت خیبر پختونخوا ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا اجلاس

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی کی زیر صدارت خیبر پختونخوا ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا اجلاس منگل کے روز سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا اجلاس میں فاؤنڈیشن کے مینجنگ ڈائریکٹر فضل خالق اور دیگر ڈائریکٹرز نے شرکت کی اجلاس میں صوبائی وزیر کو فاؤنڈیشن کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ فاؤنڈیشن کا بنیادی مقصد حکومت کی تعلیمی پالیسی کے تحت تعلیم کی فروغ، ترقی اور فنانسنگ کرناہے جبکہ سرکاری، پرائیویٹ اور خودمختار اداروں کے سٹوڈنٹس کو میرٹ کی بنیادپر سکالرشپس، وظائف اور فیلو شپ مہیا کرنا ہے تمام سیکٹرز میں تعلیم کے فروغ اور خصوصاً فیمیل ایجوکیشن، دیہی علاقوں میں تعلیم کو عام کرنے سمیت، ٹیکنیکل اور ووکیشنل تعلیم کو فوقیت دی جاتی ہے اجلاس میں فاؤنڈیشن کے اینڈوومنٹ فنڈ سمیت دیگر فنڈز پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور ان کے مقاصد کے بارے میں صوبائی وزیر کو آگاہ کیا گیا اس کے علاوہ مختلف سکالرشپس بشمول چیف منسٹر سکالرشپ انڈر سی پیک لینگویج پروگرام دیگر پروگرام پر بھی سے سیرحاصل بحث کے دوران مزید بتایا گیا کہ کے پی ای ایف نے2003 -2002 میں 16 گرلز ڈگری کالجز قائم کئے تھے جن میں جن میں 2002سے 2017 تک 57 ہزار کے قریب سٹوڈنٹس رجسٹر ہوئے تھے بریفنگ میں ان سروس، پری سروس اور پروفیشنل ڈویلپمنٹ کورس پر بات ہوئی صوبائی وزیر کو بتایاگیا کہ فاؤنڈیشن ڈیجیٹالائزیشن کی طرف اقدام اٹھارہی ہے اور فاؤنڈیشن کے تمام امور پیپرلیس ہوجائینگے اس موقع پر صوبائی وزیر نے اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سٹوڈنٹس کو بین الاقوامی سکالرشپس مہیا کرنے کے زیادہ زیادہ مواقع فراہم کرنے پر زور دیا انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سٹوڈنٹس کو انٹرنیشنل سکالرشپس کے مواقع فراہم کرنے کیلیے مختلف فورم اور ڈونرایجنسیز کے لنکس بنائیں اور ان ڈونر ایجنسیز کو راغب کرنے کیلیے ایک خاص آئیڈیا پر کام کریں انہوں نے ہدایت کی کہ یونیورسٹی اور کالج لیول پر یتیم سٹوڈنٹس کا بھی سکالرشپ میں پرسنٹ ایج رکھا جائے تاکہ یتیم بچوں کو بھی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے مواقع میسر ہو ں صوبائی وزیر نے سافٹ سکلز ٹریننگ کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ مختلف سکلز سیکھنے سے بے روزگاری پر کافی حد تک قابو پایاجا سکتا ہے انہوں نے مزید ہدایت کی کہ فاونڈیشن کے دفتری امور کو ڈیجیٹالائزڈ کرنے کیلیے یونیورسٹی آف انجینئرنگ پشاور کے ساتھ معاملا اٹھایا جائے۔

مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف کی پشاور میں اہل تشیع کی جانب سے یوم شہادت علیؓ کے حوالے سے منعقدہ مجلس میں شرکت

خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے پشاور میں اہل تشیع کی جانب سے یوم شہادت علیؓ کے حوالے سے منعقدہ مجلس میں شرکت کی۔اس موقع پر بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یوم شہادت علیؓ ہم سب مسلمانوں کے لیے ماتم کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت علیؓ کا نام قیامت تک زندہ رہے گا۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ ہم نے اپس میں اتفاق و اتحاد اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہے اورہر قسم کی نفرتوں کو ختم کر کے صوبے اور ملک میں امن کی فضا کو قائم کرنا ہوگا۔ صوبائی مشیر اطلاعت نے کہا کہ حضرت علیؓ کی زندگی مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت تمام مسالک کے لوگوں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی۔انہوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے سیکورٹی کے لئے انتظامات قابل تحسین ہیں اوریوم علیؓ کے جلوسوں سمیت مذہبی مجالس کے لیے سہولیات اور سیکیورٹی کی فراہمی کوحکومت اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔

پشاور پریس کلب میں صحافیوں کے رمضان نائٹ سپورٹس گالہ میں وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو کی مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت، صحافیوں کے لیے 1 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان

صحافیوں کے لئے نائٹ سپورٹس گالا جیسے کھیلوں کی سرگرمیاں منعقد کرانا خوش آئند ہے، ظاہر شاہ طورو

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے خوراک ظاہر شاہ طورو نے کہا ہے کہ پشاور پریس کلب کی جانب سے صحافیوں کی جسمانی و ذہنی صحت کیلئے رمضان سپورٹس گالہ جیسی سرگرمیاں منعقد کرنا خوش آئیند ہے اور رمضان المبارک میں بھی ورزش اور چہل پہل کا ماحول قائم رکھنا قابل تحسین ہے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سیاسی رہنماؤں کو بھی صحافیوں کے طرز پر کھیلوں میں حصہ لینا چاہیے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ رات پشاور پریس کلب میں منعقدہ نائٹ سپورٹس گالا کے حوالے تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اپنے خطاب میں صحافیوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ظاہر شاہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ دس سال میں پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے صحافیوں کے لیے کئی ترقیاتی اقدامات اٹھائے ہیں اور آئندہ بھی انکی حکومت کی ترجیحات میں شامل رہے گا۔اس موقع پر صوبائی وزیر ظاہر شاہ طورو نے صحافیوں کے لیے 1 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان بھی کیا اور عملی کھیل میں حصہ لے کر صدر پشاور پریس کلب ارشدعزیز ملک کے ہمراہ بیڈمنٹن کھیلا۔ پروگرام کے آخر میں پشاور پریس کلب انتظامیہ نے صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو کو سوینئر بھی پیش کیا،واضح رہے کہ پشاور پریس کلب کے زیر انتظام رمضان سپورٹس گالہ میں تقریباً 200 صحافی حصہ لے رہے ہیں۔

ضم شدہ اضلاع میں 12 ڈیموں پر کام مکمل کیا گیا ہے جبکہ11 مختلف ڈیموں پر کام تیزی سے جاری ہے۔ وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان

سمال ڈیموں کا ریکارڈ نہایت اہمیت کا حامل ہے، اسکی کمییوٹرائزیشن کی جائے تا کہ ریکارڈ کو محفوظ کیا جاسکے۔عاقب اللہ خان

خیبر پختونخوا کے وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان نے پیر کے روز سمال ڈیم کے ڈائریکٹر جنرل کے دفتر کا اچانک دورہ کیا،جہاں پر انہوں نے سمال ڈیم کے دفتر کے تمام شعبوں کا تفصیلی جائزہ لیا، اس موقع پر ڈی جی سمال ڈیمز ظہور محمد اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔وزیر آبپاشی نے دفتر میں ناقص صفائی پر تشویش کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ دفتر کی صفائی کی صورتحال کو بہتر بنائیں تا کہ باہر سے آنے والوں پر اچھا تاثرپڑے، انہوں نے متعلقہ حکام سے کہا کہ سمال ڈیموں کا ریکارڈ نہایت اہمیت کا حامل ہے، اسکی کمییوٹرائزیشن کی جائے تا کہ ریکارڈ کو محفوظ کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ آبپاشی کی زمینوں کو قبضہ مافیا سے واگزار کیا جائیگا کیونکہ یہ سٹیٹ کی ملکیت ہیں اور سٹیٹ ہر حال میں اس کا دفاع کرنابخوبی جانتی ہے،انہوں نے کہا کہ محکمہ جی پی ایس میپنگ نظام کو ہر ڈویژن میں ہوناچاہئے جس سے آسانی سے محکمہ کی اراضی کا پتہ لگتا ہے،وزیر موصوف نے مزید کہا کہ محکمہ اُتلہ ڈیم صوابی کی تعمیر کے لئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اقدامات اٹھائیں کیونکہ اس سے عوام کو پینے کی صاف پانی کی فراہمی کو ہر حال میں یقینی بنایا جائیگا، یہ انکی اشد ضرورت ہے، وزیر آبپاشی نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع میں 12 ڈیموں پر کام مکمل کیا گیا ہے جبکہ11 مختلف ڈیموں پر کام تیزی سے جاری ہے۔

وزیراعلیٰ کی مشیر برائے زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود و ترقی خواتین مشال اعظم یوسفزئی نے کہا ہے کہ خواجہ سراوں کے حقوقکی فراہمی کو یقینی

وزیراعلیٰ کی مشیر برائے زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود و ترقی خواتین مشال اعظم یوسفزئی نے کہا ہے کہ خواجہ سراوں کے حقوقکی فراہمی کو یقینی بناتے ہوئے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی ہدایات پر خیبر پختونخوا میں ہر سٹیشن پر جہاں خواجہ سراء موجود ہیں وہاں پر 5 کنال کی زمین ان کے قبرستان کے لیے مختص کی جارہی ہیں۔ اسطرح صوبے کے ہر ڈویژن کی سطح پر سرکاری ہسپتالوں میں ان کی علاج کے لیے ایک خصوصی وارڈ قائم کیا جائے گا جہاں پر انکو بہترین انتظامات کے ساتھ ان کا علاج کیا جا سکے۔ مشیر وزیراعلیٰ مشال اعظم یوسفزئی کا مزید کہنا تھا کہ معاشرے کے ہر فرد کی فلاح و بہبود صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ معاشرے کے کمزور طبقے کی حالات زندگی کی بہتری صوبائی حکومت کے اولین ترجیح ہیں۔