Home Blog Page 296

آج دو سال گزرنے کے بعد نجی سرمایہ کاری صفر پر کھڑی ہے۔ مزمل اسلم

0

جس کی وجہ سے بے روزگاری، مہنگائ اور غربت میں اضافہ ہو رہا ہے مزمل اسلم

موجودہ حکومت کے مطابق ملک کی معاشی سمت درست ہو گئی ہے مشیر خزانہ خیبرپختونخوا

حکومت دلیل کے بجائے پانی میں مدانی چلانے میں مصروف ہیں۔ مزمل اسلم

رواں سال پاکستان میں پچاس سالوں کی سب سے کم سرمایہ کاری ہوئی ہے مشیر خزانہ خیبرپختونخوا

رجیم چینج سے پہلے ملک میں نجی شعبے نے سرمایہ کاری کے پہاڑ لگا دئیے تھے مشیر خزانہ خیبرپختونخوا

رواں سال سرمایہ کاری کا حجم 1500 ارب روپے ہیں مزمل اسلم

موجود حکومت پر عدم اعتمادی اور لا قانونیت اس کی وجہ ہے مزمل اسلم

ازدفتر مشیر خزانہ خیبرپختونخوا

خیبر پختونخوا کے وزیر جنگلات و ماحولیات فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کاروباری افراد کو پر امن اور بہتر ماحول فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے

خیبر پختونخوا کے وزیر جنگلات و ماحولیات فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کاروباری افراد کو پر امن اور بہتر ماحول فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے، ملاکنڈ ڈویڑن میں ٹیکسز کے نفاذ کیخلاف عوام، سیاسی جماعتیں، ممبران اسمبلی اور صوبائی حکومت ایک پیج پر ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین گنڈاپور نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ صوبائی حکومت کو اعتماد میں لئے بغیر کسی بھی قسم کا ٹیکس قابل قبول نہیں، انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کو ٹیکس نٹ میں لانے سے قبل یہاں کے عوام، تاجر اور عمائدین کو اعتماد میں لیا جائے گا، وہ اتوار کے روز سوات کے مرکزی شہر مینگورہ ملا بابا میں صدر پلازہ کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے، اس موقع پر ممبر صوبائی اسمبلی اختر خان ایڈووکیٹ، سوات سٹی میئر شاہد علی خان اور ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم بھی موجود تھے۔صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی نے صدر پلازہ کے افتتاح کے موقع پر مالک اور تاجر برادری کو مبارکباد دی اور کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے اور اس کیلئے پر امن ماحول فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ لوگ آزادانہ طور پر کاروبار کرتے ہوئے رزق حلال کما سکیں، ملاکنڈ ڈویڑن میں ٹیکسز کے نفاذ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ فی الوقت مقامی افراد ٹیکس دینے کے متحمل نہیں، ماضی قریب میں دہشتگردی کی لہر اور پے در پے قدرتی آفات نے ملاکنڈ ڈویژن کی قدرتی ساخت اور کاروباری ماحول کو متاثر کیا، ایسے میں مقامی معیشت کو سہارے کی ضرورت ہے، اور وفاقی حکومت یہاں کے عوام، تاجروں، سیاسی مشران اور تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لئے بغیر ٹیکس لاگو نہیں کر سکتی کیونکہ سوات کے ادغام کے موقع پر یہ معاہدہ طے پایا تھا کہ یہ علاقہ ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگا۔

شہریوں کو ملاوٹ سے پاک خوردونوش اشیاء کی فراہمی صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو

خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کا صوابی، نوشہرہ ملاکنڈ اور مردان میں چھاپے، سینکڑوں لیٹر غیر معیاری اور جعلی مشروبات برآمد،جرمانے بھی عائد، ترجمان فوڈ اتھارٹی

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے صوبہ بھر میں ملاوٹ مافیا اور جعلی خوراکی مصنوعات کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھتے ہوئے فوڈ سیفٹی ٹیموں نے صوابی، نوشہرہ ملاکنڈ اور مردان میں کارروائیاں کیں اور سینکڑوں لیٹرز مضر صحت اور جعلی مشروبات اور غیر معیاری دودھ پکڑ کر ضبط کر لیا اور مالکان پر بھاری جرمانے کیے۔ کاروائیوں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے ترجمان فوڈ اتھارٹی نے بتایا کہ گزشتہ روز صوابی فوڈ سیفٹی ٹیم نے جھانگیرہ روڈ پر ناکہ بندی کی اور خوردونوش اشیاء کے گاڑیوں کی چیکنگ کی اس دوران ایک گاڑی سے 800 لیٹر جعلی مشروبات برآمد کرکے ضبط کر لیا اسی طرح خفیہ اطلاع ملنے پر نوشہرہ ٹیم نے بھی ایک گاڑی کا تعاقب کیا اور گاڑی سے انسپکشن کے دوران 1200 لیٹر جعلی مشروبات برآمد کرکے سرکاری تحویل میں لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق جعلی مشروبات کے مالکان پر بھاری جرمانے عائد اور فوڈ سیفٹی ایکٹ کے مطابق مزید کاروائی کا آغاز بھی کر دیا گیا۔ایک اور کاروائی کی تفصیلات دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ملاکنڈ فوڈ سیفٹی ٹیم نے بھی سخاکوٹ بازار میں خوراکی اشیاء کے کاروباروں کے معائنے کیے اور چیکنگ کے دوران 200 لیٹر دودھ غیر معیاری ثابت ہونے پر تلف کیا اور جرمانے بھی عائد کیے۔اسی طرح مردان فوڈ سیفٹی ٹیم نے تخت بھائی بازار میں مختلف خوردنوش آشیاء کے نمونوں کاموبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیب سے جائزہ لیا اور خراب تیل موقع پر ضائع کیا اسکے علاوہ 80 کلو ممنوع و زائدالمیعاد اشیاء ضبط کرتے ہوئے مالکان پر جرمانے عائد کیے گئے۔ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید نے فوڈ سیفٹی ٹیموں کو کامیاب کاروائیوں پر سراہا اور کہا کہ صوبہ بھرسے ملاوٹ مافیا کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے کاروائیاں جاری رکھیں۔انکا مزید کہنا تھا کہ خوردنوش اشیاء میں ملاوٹ کی بیخ کنی تک کاروائیاں جاری رہیں گی اور کسی کیساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ سیکرٹری محکمہ خوراک ظریف المعانی نے شہریوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ملاوٹ مافیا جیسے عناصر کیخلاف فوڈ اتھارٹی ٹیموں کو بر وقت اطلاع دیں اور ایک ذمہ دار شہری کا فرض نبھائیں۔اس موقع پر صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے اپنے دفتر سے جاری بیان میں فوڈ اتھارٹی کو ملاوٹ مافیا کیخلاف مسلسل کارروائیوں پر شاباش دی اور ہدایت جاری کی کہ فوڈ سیفٹی ٹیمیں انڈسٹری، ڈسٹریبیوٹرز اور ہول سیلرز کے معائنے یقینی بنائیں، وزیر خوراک نے مزید کہا کہ شہریوں کو ملاوٹ سے پاک خوردونوش اشیاء کی فراہمی صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر (ر)سجاد بارکوال نے پشتو زبان کے شہرآفاق شاعر فیض اللہ فیض کے مقبرے پر زیارت تعمیر کرنیکا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے

خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر (ر)سجاد بارکوال نے پشتو زبان کے شہرآفاق شاعر فیض اللہ فیض کے مقبرے پر زیارت تعمیر کرنیکا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مادری زبان پشتو کی ترویج کیلئے اپنی تمام ترصلاحتیں اور وسائل بروئے کار لائیں گے اور ادب سے وابستہ افراد کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائیگا ان خیالات کا اظہار انہوں نے ویلج کونسل جہانگیری کا علاقہ جتان بانڈہ ضلع کرک میں منعقدہ ”جشن فیض” مشاعرے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں خیبرپختونخوا سمیت دوسرے صوبوں سے آنیوالے شعراء و ادیب شریک تھے میجر (ر) سجادبارکوال نے مزید کہا کہ سپینہ کے مقام پر باب لواغر کا قیام، خوشحال خان خٹک یونیورسٹی میں شعبہ پشتو کا قیام، گورنمنٹ ڈگری کالجز میں شعبہ پشتو کلاسسز کے بدستور اجراء سمیت سٹی ہیڈکوارٹر میں قائم لائبریری کو فعال کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے اس موقع پر پروفیسر محمود ایاز، صاحب کمال درویش، قادر شاہ اور ڈاکٹر سراج الدین خٹک نے کلیات فیض پرمبنی نثری مجموعہ بھی صوبائی وزیر کو پیش کیا۔

صوبے میں ہر کھیل کے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں کھیلوں کے لیے سہولیات سے لیس انفراسٹرکچر پر توجہ دے رہے ہیں۔مشیر کھیل

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان نے ایبٹ اباد کا دورہ کیا جہاں پر انھوں نے محکمہ کھیل کے تعاون سے ریجن کی سطح پر منعقد ہونے والے انٹر ڈیپارٹمنٹل کرکٹ ٹورنامنٹ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور فائنل میچ کی دونوں ٹیموں کو انعامات سے نوزا۔ڈائریکٹر جنرل سپورٹس خیبرپختونخواعبدالناصر،ریجنل سپورٹس آفیسر ہزارہ اور ڈویژن کے ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسرز بھی اس موقع پر موجود تھے۔مشیر کھیل نے اس دوران محکمہ پولیس اور اینٹی کرپشن محکمہ جات کی ٹیموں کے مابین فائنل میچ کا نظارہ بھی کیا جبکہ ونر اور رنر اپ ٹیم کی کارکردگی کو سراہا اور ان میں ٹرافیاں تقسیم کیں۔ریجن کی سطح پر انٹر ڈیپارٹمنٹل ٹورنامنٹ میں انتظامیہ اور لائن ڈیپارٹمنٹس کی کل 32 ٹیموں نے حصہ لیا جن میں پولیس اور محکمہ اینٹی کرپشن کی ٹیمیں فائنل تک پہنچیں۔اس موقع پر مشیر کھیل نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہزارہ ریجن میں کھیلوں کے مزید مقابلے بھی منعقد کئے جائیں گے اور یہاں پر کھیل جیسی تفریحی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ ریجن میں آئندہ سپورٹس مقابلوں میں پولیس اور دیگر محکموں کیلئے شوٹنگ کے مقابلوں کا انعقاد بھی کیا جائے گا اور یہاں پر مرحلہ وار ہر طرح کے سپورٹس ایونٹس کو منعقد کیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے میں ہر کھیل کے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کررہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ صوبہ بھر میں کھیلوں کیلئے سہولیات سے لیس انفراسٹرکچر پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم پوری تندہی سے کوشش کررہے ہیں کہ صوبے میں جلد از جلد انٹر نیشنل کرکٹ کو لایا جائے۔مشیر کھیل نے اس موقع پر مختلف محکموں کے مابین کھیلے جانے والے ٹورنامنٹ کو خوب سراہا اور کہا کہ تفریحی مواقع کیلئے سرکاری محکموں کے مابین اس نوعیت کے ایونٹس کا انعقاد ذہنی سکون اور تازگی کیلئے انتہائی ضروری ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکور خان نے آل گورنمنٹ ڈرائیور ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کی نومنتخب کابینہ کی حلف برداری تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکور خان نے آل گورنمنٹ ڈرائیور ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کی نومنتخب کابینہ کی حلف برداری تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ صوبائی وزیر نے ایسوسی ایشن کی نئی کابینہ کے اراکین سے حلف لیا۔ حلف برداری تقریب میں مختلف محکمہ جات کے ڈرائیوروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ ایسوسی ایشن کے صدر محمد فاروق اوردیگر اراکین نے مہمان خصوصی کا استقبال کیا اور تقریب میں شرکت پر خوش آمدید کہا۔ صوبائی وزیر کو ایسوسی ایشن کی جانب سے سپاس نامہ پیش کیا گیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر فضل شکورخان نے یقین دلایا کہ موجودہ صوبائی حکومت ڈرائیورز کے تمام جائز مطالبات کو پورا کریگی اور ان کے مسائل کو حل کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کسی کے ساتھ کوئی زیادتی اور ناانصافی نہیں ہوگی ہر کسی کو اپنا حق ملے گا، صوبے میں عوامی حکومت ہے عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کررہے ہیں۔

خود مختار اداروں بشمول یونیورسٹیوں اور ڈبلیو ایس ایس سیز کو ضروری ڈیٹا محکمہ خزانہ کو جمع کرانے کا پابند کیا گیا ہے جس کے بغیر کوئی گرانٹ یا سبسڈی جاری نہیں کی جائے گی۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کے زیر صدارت تقریباً 30 مختلف محکموں کا مشترکہ بجٹ جائزہ اجلاس کا انعقاد

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کی زیر صدارت تقریباً 30 مختلف محکموں کے ساتھ مشترکہ بجٹ جائزہ اجلاس منعقد ہوا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ حکومتی پالیسیوں اور ترجیحات کو بجٹ میں مؤثر طریقے سے پیش کیا جائے۔ اجلاس میں سپیشل سیکرٹری فنانس خدا بخش، ایس این جی وقاص پراچہ سمیت محکمہ خزانہ، منصوبہ بندی و ترقی کے محکمے کے سینئر حکام اور لائن ڈیپارٹمنٹس کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کا بنیادی مقصد بجٹ 2024-25 پر بحث اور جائزہ لینا اور عوامی بہبود کے منصوبوں کو ترجیح دینا اور ان کی صف بندی کو یقینی بنانا تھا۔ اجلاس کے دوران مشیر خزانہ نے کئی اہم نکات پر زور دیا جن میں پالیسی پر مبنی بجٹ سازی، کفایت شعاری کے لئے اقدامات، سروس ڈیلیوری میں سرمایہ کاری، مالی نقصانات کا ازالہ سمیت عوامی بہبود کی ترجیحات وغیرہ شامل ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ بجٹ کو محض عددی مشق بننے کی بجائے پالیسی مقاصد کے تحت بنایا جانا چاہیے اور یہ نقطہ نظر اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ بجٹ مختص کرنے سے اسٹریٹجک ترجیحات کی عکاسی ہوتی ہے جیسے کہ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا اور صحت کی دیکھ بھال تک رسائی، نہ کہ صرف فزیکل انفراسٹرکچر کو پھیلانا مقصود ہے۔ مشیر خزانہ نے بجٹ کی کارکردگی کو حاصل کرنے کے لیے سخت کفایت شعاری کے اقدامات کو لازمی قرار دیا جن میں غیر ضروری اخراجات کو کم کرنا اور وسائل کو ضروری منصوبوں پر مرکوز کرنا شامل ہے اور بہترین مالیاتی انتظام کے ذریعے بجٹ میں بچت ہو سکتی ہے۔ اجلاس میں مشیر خزانہ نے کہا کہ ایسے منصوبوں کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے جو براہ راست عوامی بہبود اور خدمات کی فراہمی کو بڑھاتے ہیں اور جو عوامی خدمات کو مؤثر طریقے سے بہتر بنانے کے وسیع تر حکومتی اہداف سے ہم آہنگ ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ نئے سکولوں اور ہسپتالوں کی تعمیر کے بجائے موجودہ سکولوں اور ہسپتالوں کے معیار کو بہتر بنایا جائے۔اجلاس کے دوران مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے منصوبوں کی تاخیر سے تکمیل کو پہنچنے والے مالی نقصانات کو نوٹ کیا انہوں نے آمدنی حاصل کرنے اور خدمات کی فراہمی کو بڑھانے کے لیے ان منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنے کی سفارش کی۔ مزمل اسلم نے اس بات پر زور دیا کہ بجٹ کا پالیسی کے نتائج سے قریبی تعلق ہونا چاہیے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ہر مختص رقم حکومت کے اسٹریٹجک اہداف کی حمایت کرتی ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے جائزہ لینے کے عمل کے دوران ممکنہ بچتوں کی نشاندہی کرکے سبسڈی کو کم کرنے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ پبلک سیکٹر کے تمام خود مختار اداروں بشمول یونیورسٹیز، ڈبلیو ایس ایس سیز کو ضروری ڈیٹا محکمہ خزانہ کو جمع کرانے کا پابند کیا گیا ہے۔ اس ڈیٹا کی ضرورت کو پورا کیے بغیر کوئی گرانٹ یا سبسڈی جاری نہیں کی جائے گی۔محکمہ خزانہ نے فورم کو ایک آن لائن پورٹل کے بارے میں بتایا جو ضروری ڈیٹا اکٹھا کرنے میں سہولت فراہم کرتے ہوئے پبلک سیکٹر اداروں (PSEs) کی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ زیادہ شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جاسکے۔

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے مشیر کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان نے جمعرات کے روز پشاور میں وزیر اعلی خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈاپور کی ہدایت پر سلطان ازلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں پہلا گول کرنے والے کھلاڑی زکریا حیات کو 10 لاکھ روپے کا چیک حوالے کیا

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے مشیر کھیل اور امور نوجوانان سید فخر جہان نے جمعرات کے روز پشاور میں وزیر اعلی خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈاپور کی ہدایت پر سلطان ازلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں پہلا گول کرنے والے کھلاڑی زکریا حیات کو 10 لاکھ روپے کا چیک حوالے کیا۔زکریا حیات کا تعلق مردان سے ہے اور انھوں نے اس بین لاقوامی ایونٹ میں اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کرکے ملک کا نام روشن کیا۔صوبے سے تعلق رکھنے والے قومی کھلاڑی زکریا حیات کی حوصلہ افزائی کیلئے وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا تھا۔اس حوالے سے منعقدہ تقریب میں سیکریٹری سپورٹس مطیع اللہ بھی موجود تھے۔مشیر کھیل نے قومی کھلاڑی کو داد دی اور انکی کارکردگی کو سراہا۔انھوں نے کہا کہ ہمارے صوبے کے کھلاڑیوں اور سٹارز کی ہر ممکن معاونت کی جائے گی کیونکہ یہ ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہمارے کھلاڑی باہر دنیا میں ہماری مثبت تشخص کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں اور سپورٹس جیسی مثبت سرگرمیوں کے ذریعے اپنے ملک کا نام روشن کررہے ہیں لہذا صوبائی حکومت انکی ہر سطح پر سرپرستی کرے گی۔انھوں نے امید ظاہر کی کہ زکریا حیات مستقبل میں بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے اور ملک و صوبے کا نام روشن کریں گے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر مواصلات و تعمیرات شکیل احمد نے کہا ہے کہ دیر موٹروے صوبے کی ترقی میں انتہائی اہمیت کا عامل منصوبہ ہے اس لیے یہ منصوبہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے

خیبر پختونخوا کے وزیر مواصلات و تعمیرات شکیل احمد نے کہا ہے کہ دیر موٹروے صوبے کی ترقی میں انتہائی اہمیت کا عامل منصوبہ ہے اس لیے یہ منصوبہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس عوامی پراجیکٹ کی جلد جلد تعمیر کے لیے اقدامات اٹھائیں جا رہے ہیں تاکہ یہ منصوبہ عوامی امنگوں کے مطابق جلد پایہ تکمیل تک پہنچ سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز دیر موٹروے منصوبے کی تعمیر سے متعلق منعقدہ ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں معاون خصوصی برائے بہبود آبادی لیاقت علی خان، دیر سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی، سیکرٹری مواصلات و تعمیرات ڈاکٹر اسد علی،منیجنگ ڈائریکٹر خیبر پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی اسد علی،پراجیکٹ ڈائریکٹر دیر موٹر وے برکت خان سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔ اجلاس میں دیر موٹروے کی تکمیل کو عملی جامعہ پہنانے کے لیے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور منصوبے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی تعمیر کے لیے تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مواصلات و تعمیرات نے کہا کہ دیر موٹروے 30 کلومیٹر پر مشتمل ہے اور اس پر 49 بلین روپے تعمیری لاگت آئے گی۔اس منصوبے میں 6.2 کلومیٹر ٹنل کی تعمیر بھی شامل ہے اس پراجیکٹ کی تعمیر سے دو گھنٹے کا راستہ آدھے گھنٹے میں طے ہوگا جبکہ ان گنجان آباد علاقوں میں ٹریفک کا رش بھی کم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ دیر موٹروے کی تعمیر سے صوبے کی سیاحت کے شعبہ کو بہت فروغ ملے گا اور بیرونی سیاح خیبر پختونخواکے ان خوبصورت اور دلکش علاقوں کا رخ کریں گے جن سے صوبے کی آمدن میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان علاقوں میں نئے روزگار کے ہزاروں مواقع بھی پیدا ہوں گے صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ دو ہفتوں کے اندر اس پراجیکٹ کے کام کے آغاز کے لیے اقدامات کریں

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ شہباز شریف کے جعلی فارم 47 حکومت کا خیبر پختونخوا سے تعصب انتہا کو پہنچ گیا ہے

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ شہباز شریف کے جعلی فارم 47 حکومت کا خیبر پختونخوا سے تعصب انتہا کو پہنچ گیا ہے۔ سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلٹیشن کونسل کی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں خیبر پختو خوا کو نمائندگی سے محروم کیا گیا ہے۔ 25 مئی کو وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقدہ کونسل کے اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبر پختو خوا کو مدعو نہیں کیا گیا ہے۔ مذکورہ سپیشل انوسٹمنٹ کونسل کے اجلاس میں خیبر پختون خوا کے علاؤہ تمام صوبوں کے وزراء اعلیٰ مدعو ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ قدرتی وسائل سے مالامال صوبے کی قسمت کا فیصلہ وزیراعلیٰ کی غیر موجودگی میں قابل قبول نہیں ہے۔ خیبر پختونخوا وفاقی حکومت کے اس متعصبانہ اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ بیرسٹر سیف نے کہا کہ اسلام آباد کے ایوانوں میں صوبے کے وسائل سے متعلق متعصبانہ فیصلے نہیں ہونے دینگے۔ جعلی فارم 47 حکومت ملک کو صوبائیت کی طرف دھکیل رہی ہے۔ خیبر پختونخوا ایک پسماندہ صوبہ ہے اسکو مزید پسماندہ رکھنے کی کوشش قابل مذمت ہے۔ اس کے علاوہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن صوبے کا کردار ادا کررہا ہے۔ ان ساری قربانیوں کے باوجود صوبے کے ساتھ متعصبانہ سلوک کیا جانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ بیرسٹر سیف نے کہا کہ صوبے کے وسائل پر پہلا حق صوبے کے عوام کا ہے۔