Home Blog Page 298

صوبائی وزیر برائے بلدیات ارشد ایوب خان کی زیر صدارت ڈبلیو ایس ایس پی پشاور کے سالانہ مالی سال کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ایم این اے ارباب شیر علی ، ایم این اے اصف خان ، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ داؤد خان ، کمشنر پشاور ریاض مسعود اور دیگر افراد شامل تھے

پشاور : تجاوزات کے خلاف اپریشن انتہائی اہم ہے اس حوالے سے ہم ایک انکروچمنٹ ڈرائیو جلد چلائیں گے۔ صوبائی وزیر ارشد ایوب

پشاور: ڈبلیو ایس ایس پی کے انتظامی مالیاتی اور اپریشنل امور میں بہتری لا رہے ہیں۔ارشد ایوب

پشاور: ٹیوبویل کے سسٹم کو سولرائزیشن کی طرف لے کے جا رہے ہیں۔ ارشد ایوب

پشاور: تجاوزات کے خلاف اپریشن کرنا وقت کی ضرورت ہے اس کے لئے انکروچمنٹ ڈرائیو جلد چلائیں گے۔ ارشد ایوب

پشاور: عوام کو چاہیے کہ اپنے بجلی اور گیس کے بل ایک زمیدار شہری کی طرح ادا کریں۔

پشاور: پشاور زو میں ٹرین سسٹم بہتر بنانے، شاہی کٹہ کی بحالی اور مہمند ڈیم کے لیے فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔ ارشد ایوب

پشاور: ڈبلیو ایس ایس پی کی جانب سے پشاور میں 42 ماڈل سٹریس قائم کئے گئے ہیں۔ ارشد ایوب

پشاور: ڈبلیو ایس ایس پی علماء کرام ، سکول کے بچوں اور میڈیا ارکان کے ساتھ بھی سالانہ اگاہی مہم چلاتی ہے۔ ارشد ایوب

عیدالاضحٰی کے پیش نظر وزیر صحت سید قاسم علی شاہ کا صوبے میں کانگو فیور کے تدارک کیلئے کمشنرز کو ضروری اقدامات اُٹھانے کیلئے ہدایات جاری

پشاور : عیدالاضحٰی کے پیش نظر جانوروں کی خریداری کیلئے کانگو وائرس کی انسانوں میں منتقلی کے خدشات زیادہ ہیں : وزیر صحت کا مراسلہ

پشاور : ان خدشات کے پیش نظر کمشنرز تمام تر وسائل بروئے کار لائیں : وزیر صحت کا مراسلہ

پشاور : مویشی منڈیوں کے داخلے پر مچھر مار ادویات اور داستانوں کا استعمال یقینی بنایا جائے : وزیر صحت کا مراسلہ

پشاور : جن مویشی منڈیوں کے داخلے پر مچھر مار ادویات اور داستانوں کا استعمال یقینی نہیں ان منڈیوں کو سیل کیا جائے : وزیر صحت کا مراسلہ

پشاور : صوبے کے تمام اضلاع کے مویشی منڈیوں میں جانے والے افراد حفا ظتی داستانے پہن کر جائیں : وزیر صحت کا مراسلہ

پشاور : مویشی منڈیوں میں جانے والے افراد مچھر مار ادویات کا استعمال یقینی بنائیں : وزیر صحت کا مراسلہ

پشاور : کانگو فیور متاثرہ جانوروں کے اعضا اور خون کے لمس سے پھیلتا ہے : وزیر صحت کا مراسلہ

پشاور : ذبح کے دوران قصائی داستانوں و دیگر احتیاطی تدابیرکے استعمال کو یقینی بنائیں : وزیر صحت کا مراسلہ

پشاور: کرغیستان سے طلبہ کو لانے والا طیارہ پشاور پہچنے پر صوبائی وزیر میناخان کا طلبہ کو استقبال کے بعد گفتگو

0

پشاور: جب سے یہ خبر آئی اسی دن سے خیبر پختونخواحکومت نے اس مسئلہ کو اٹھایا اور اس کے حل کیلیے بہت سنجیدہ تھی میناخان

پشاور: وفاقی حکومت اور ایمبیسی نے غیر زمہ داری کا مظاہرہ کیا صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم

پشاور: آج یہ بچے بحفاظت پہچنے ہیں اور ان کے چہروں پر خوشی اور عید کا سماں ہے میناخان آفریدی

پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے ہمیشہ سے نوجوانوں پر سرمایہ کاری کی بات کی ہے صوبائی وزیر

پشاور: نوجوان ہمارہ سب سے قیمیتی اثاثہ ہے میناخان

پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے فوری فنانسز ریلیز کی اور طیاروں کا بندوبست کیا صوبائی وزیر

پشاور: ان نوجوانوں کو وہاں سے لانے کیلیے اگر اس سے بھی ذیادہ خرچہ آتا توخیبر پختونخوا حکومت برداشت کرلیتی میناخان

پشاور: ہمیشہ سے ہماری حکومت نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور کھڑی رہےگی صوبائی وزیر

پشاور: ہمیں خوشی ہوتی ہے ان نوجوانوں پر سرمایہ کاری اور خرچ کرنے میں میناخان

پشاور: اگر ضرورت پڑے تو ہماری حکومت مذید طیاروں کا بھی بندوبست کریگی صوبائی وزیر

وزیر اعلیٰ سے ورلڈ بینک کے وفد کی ملاقات، بچوں کی نامکمل نشوونما سے متعلق مسائل پر تبادلہ خیال۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سردار علی امین گنڈاپور سے ماہر اقتصادیات غزالہ منصوری کی سربراہی میں ورلڈ بینک کے وفد نے منگل کے روز وزیر اعلیٰ ہاو¿س پشاور میں ملاقات کی جس میں بچوں کی نامکمل نشوونما(سٹنٹنگ) سے متعلق مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چودھری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری سید امتیاز حسین شاہ، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ حکام بھی ملاقات میں شریک تھے۔ اس موقع پر شرکاءکو صوبے میں سٹنٹنگ کی شرح، اسکے بنیادی محرکات، قومی ترقی پر اس کے اثرات اور دیگر متعلقہ پہلوو¿ں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔علاوہ ازیں سٹنٹنگ کی شرح کو کم کرنے کےلئے ضروری اقدامات اور حکمتِ عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور صوبے میں سٹنٹنگ کی روک تھام کےلئے حکومت اور ورلڈ بینک کے مابین باہمی تعاون سے اقدامات اٹھانے پر اتفاق کیا گیا۔وزیر اعلیٰ سردار علی امین گنڈاپور نے اس مقصد کےلئے ٹاسک فورس تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو پندرہ دنوں کے اندر تفصیلی ورکنگ پلان بھی پیش کرنے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ ضم اضلاع میں سٹنٹنگ کے مسئلے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ سٹنٹنگ ایک چیلنج ہے جس سے نمٹنے کےلئے جامع حکمت عملی کے تحت مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس مقصد کےلئے ماحولیات کے مسائل پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ غذائی قلت کو پورا کرنے، صحت سہولیات تک رسائی یقینی بنانے، اور عوامی سطح پر بھرپور آگاہی مہم کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کی مکمل نشونما یقینی بنانا پی ٹی آئی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل رہا ہے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان نے اس مقصد کیلئے نیشنل نیوٹریشن کوآرڈینیشن کونسل تشکیل دی تھی۔ ہم عمران خان کے وژن کے مطابق سٹنٹنگ کی شرح کو کم کرنے کےلئے کوشاں ہیں۔ علی امین گنڈاپور کا مزید کہنا تھا کہ سٹنٹنگ کی وجہ بننے والے بنیادی مسائل کا تدارک ترجیح ہے۔ اس مقصد کےلئے غذائی قلت کے تدارک، فوڈ سیکیورٹی، شعبہ صحت اور ماحولیات کی بہتری اور دیگر پہلوو¿ں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں متعدد منصوبے پائپ لائن میں ہیں۔ اسی طرح روزگار کے فروغ اور لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنانے پر بھی کام جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نظام حکمرانی کو بہتر بنانے کےلئے بھی کوشاں ہے جس کے ذریعے سماجی خدمات کے اداروں میں سروس ڈیلیوری کے مجموعی نظام کو عوامی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔اگلے ایک سال میں سٹنٹنگ کی شرح میں خاطر خواہ کمی لانا ہدف ہے۔ اس مقصد کےلئے ورلڈ بنک کا خصوصی تعاون درکار ہو گا اور ہم ان کے تجربے سے بھی بھرپور استفادہ کریں گے۔ وفد کے شرکاءنے اس موقع پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سٹنٹنگ کے مسئلے سے نمٹنے کےلئے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا وژن اور اقدام لائق تحسین ہے۔ وفد نے اس چینلنج سے نمٹنے کےلئے صوبائی حکومت سے ہر ممکن تعاون یقینی بنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ مشترکہ اور مربوط کاوشوں کے ذریعے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے امریکن قونصل جنرل شانتے مور کی ملاقات۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور سے پشاور میں تعینات امریکن قونصل جنرل شانتے مور نے منگل کے روز ان کے دفتر میں ملاقات کی اور صوبے میں یو ایس ایڈ کے تعاون سے جاری عوامی فلاح و بہبود کی سرگرمیوں سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں وزیر صحت، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ شانتے مور نے کہا کہ امریکی حکومت یو ایس ایڈ کے تحت صوبے کے مختلف سماجی شعبوں میں کام کر رہی ہے جن میں صحت عامہ، تعلیم، فنی مہارت، واٹر اینڈ سینیٹشن ، زراعت، مواصلات، گورننس اور دیگر شعبے شامل ہیں اور امریکی حکومت مذکورہ شعبوں میں اشتراک کار کو مزید وسعت دینا چاہتی ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت عوامی فلاح و بہبود میں یو ایس ایڈ کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، صوبائی حکومت نوجوانوں کو تکنیکی ہنر سکھانے اور خودروزگاری کو فروغ دینے کیلئے قرضوں کی فراہمی کا پروگرام شروع کرنے کے علاوہ واٹر اینڈ سینیٹشن سروسز کو مزید علاقوں تک وسعت دینے پر کام کر رہی ہے جس کےلئے صوبائی حکومت کو ڈونر اداروں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ پسماندہ علاقوں بشمول ضم اضلاع کی ترقی صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور حکومت اس مقصد کےلئے نئے بجٹ میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کرے گی اور صوبائی حکومت کی خواہش ہے کہ ضم اضلاع میں انفراسٹرکچر کی بہتری اور لوگوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کےلئے ڈونر اداروں بھی صوبائی حکومت کے ساتھ مزید تعاون کریں۔ اس موقع پر صوبائی حکومت اور یو ایس ایڈ کے درمیان سماجی شعبوں میں باہمی اشتراک کار کو مزید بہتر انداز میں آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

پاکستان میں معلومات تک رسائی کے قانون کے نفاذ کا تقابلی جائزہ: سی جی پی اے کی رپورٹ کی رونمائی تقریب۔

پاکستان میں معلومات تک رسائی کے قانون کے نفاذ اور اس پر عملدرآمد کو جانچنے کیلئے سی جی پی اے نامی ایک غیر سرکاری تنظیم نے ایک تقابلی جائزہ پیش کیا۔ جائزے کی رونمائی کیلئے پشاور کے ایک مقامی ہوٹل میں تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں پاکستان انفارمیشن کمیشن اسلام آباد اور خیبرپختونخوا انفارمیشن کمیشن کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ساتھ سابقہ کمشنرز، سول سوسائٹی کے نمائندوں، صحافیوں، وکلاء اور طلبہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ سی جی پی اے کے اس سروے میں ملک بھر میں معلومات تک رسائی کے قانون کے نفاذ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ جائزے میں معلومات تک رسائی کے قانون کے نفاذ اور اس پر عملدرآمد کو جانچنے کیلئے سی جی پی اے نے وفاق سمیت چاروں صوبوں میں معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت مختلف اداروں سے معلومات حاصل کرنے کیلئے 127 درخواستیں جمع کروائیں۔ جن میں وفاق بروقت معلومات فراہم کرنے میں 72 فیصد کے ساتھ پہلے جبکہ خیبر پختونخوامعلومات کی فراہمی میں 45 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ اس کے علاوہ پنجاب 33 فیصد کے ساتھ تیسرے، سندھ 24 فیصد کے ساتھ چوتھے جبکہ بلوچستان 3.7 فیصد کیساتھ آخری نمبر پر رہا۔ خیبرپختونخوا انفارمیشن کمیشن کے سیکرٹری انیس الرحمن نے سٹڈی کے سیمپلنگ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کہ تمام صوبوں میں ایک ہی طرح کی درخواستیں ایک جیسے مخصوص اداروں کو دینی چاہئیے تھی کیونکہ ہر ادارے کی معلومات مختلف نوعیت کی ہوتی ہیں۔ صحافیوں کے سوالات کے جواب میں خیبرپختونخوا انفارمیشن کمیشن کے ڈپٹی رجسٹرار ناظم شہاب قمر نے کہا کہ انفارمیشن کمیشن کی کارکردگی صرف کملینٹس کی بنیاد پر نہیں بلکہ درخواستوں، آگاہی پروگرامات، پروایکٹیو ڈیسکلوزر اور کمپلینٹس کی بنیاد پر ایک وسیع جائزے کے ذریعے جانچا جا سکتا ہے۔ آر ٹی آئی سے متعلق آگاہی پر بات کرتے ہوئے سید سعادت جہاں نے کہا کہ خیبرپختونخواہ انفارمیشن کمیشن وقتا فوقتاً ریڈیو اور ٹی وی پر پروگرامز کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں اس قانون سے متعلق آگاہی پروگرام منعقد کرتا آرہا ہے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا کے ذریعے زیادہ سے زیادہ عوام تک آر ٹی آئی آواز پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم اور وزیر آبپاشی کا ضلع صوابی کی یونیورسٹیوں اور کالجز کا دورہ

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی اور صوبائی وزیر برائے آبپاشی عاقب اللہ خان نے منگل کے روز ضلع صوابی کی مختلف یونیورسٹیوں اور کالجز کا تفصیلی کا دورہِ کیا اور جامعات اور کالجز کو درپیش مسائل معلوم کیئے۔ صوبائی وزیر میناخان آفریدی نے یونیورسٹی آف صوابی کے زیر تعمیر ہاسٹلز کے کام میں سست روی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہاسٹلز کے تعمیراتی کام کو رواں سال دسمبر تک مکمل کرنے احکامات جاری کئے اور ہدایت کی کہ اگر کام مکمل نہ کیاگیا تو ٹھیکیدار کو بلیک لسٹ کیا جائے۔صوبائی وزراء نے یونیورسٹی آف صوابی، وومن یونیورسٹی آف صوابی، گورنمنٹ گرلز کالج آف مینجمنٹ سائنسز کوٹھا صوابی اور گورنمنٹ ڈگری کالج کوٹھا صوابی کے دورے کیے دونوں صوبائی وزراء کو یونیورسٹی آف صوابی کے بارے میں وائس چانسلر نے تفصیلی بریفنگ دی اور یونیورسٹی کو درپیش مسائل اور درکار اقدامات سے متعلق آگاہ کیا بریفنگ میں بتایاگیا کہ مذکورہ یونیورسٹی کے مالی حالات بہتر ہیں اگر یونیورسٹی کو شمسی نظام پر منتقل کیا جائے تو یونیورسٹی کو سالانہ کروڑوں روپوں کی بچت ہوگی اس کے علاوہ بریفنگ میں یونیورسٹی میں بی ایس پروگرام، مختلف ڈسپلن اور دیگر انتظامی امور پر صوبائی وزراء کو تفصیلی طورپر آگاہ کیا گیا اس موقع پر میناخان آفریدی نے کہا کہ یونیورسٹی کو سٹوڈنٹس کی فیس کے علاوہ یونیورسٹی کا ریونیو بڑھانے کیلیے دوسرے ذرائع بھی تلاش کرنے چاہیے انہوں نے کہا کہ کوالٹی ایشورنس سیل کے استحکام اورمعیاری ریسرچ کام پربھر توجہ دے رہے ہیں انہوں نے یونیورسٹی فیکلٹی کو تاکید کی کہ معیاری تعلیم کی فراہمی پر خصوصی توجہ دیں صوبائی وزراء نے اپنا اگلا دورہ وومن یونیورسٹی آف صوابی کا کیا جہاں صوبائی وزراء کا بھر پو استقبال کیا گیا صوبائی وزراء کو یوینورسٹی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی جبکہ صوبائی وزراء کو یونیورسٹی کی زیرتعمیر عمارات پر اب تک ہونے والے تعمیراتی کام کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا صوبائی وزیر میناخان آفریدی نے ہدایت کی کہ زیر تعمیر بلاکس میں جہاں پر 80 فیصد اورزیادہ کام ہوا ہو اسکو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کریں انہوں یقین دلایا کہ یونیورسٹی کا ریگولر وائس چانسلر بہت جلد تعینات ہوجائیگا دونوں وزراء کو گورنمنٹ گرلز کالج آف مینجمنٹ سائینسز کوٹھا صوابی کے دورہ کے موقع پر کالج میں سہولیات کے فقدان اور عملہ کی کمی کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ میناخان آفریدی نے کہا کہ کالج میں سٹاف کی کمی کو نئے تعلیمی سال شروع ہونے سے پہلے مکمل کیاجائیگا۔

تمباکو پر ایکسائز ڈیوٹی صوبے کا حق ہے جو وفاق کو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں حاصل ہو رہاہے۔

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم سے پاکستان ٹوبیکو کمپنی کی وفد نے انکے دفتر سول سیکریٹریٹ پشاور میں ملاقات کی وفد میں پاکستان ٹوبیکو کمپنی کے ہیڈ آف ایکسٹرنل افیئرز سمی زمان اور ریگولیٹری افیئرز جمال تورو نے شرکت کی۔ اس خصوصی ملاقات میں مشیر خزانہ خیبرپختونخوا اور پاکستان ٹوبیکو کمپنی کے حکام ٹوبیکو سیس ڈیویلپمنٹ بڑھانے پر متفق جبکہ صوبائی ایکسائز ڈیوٹی لگانے پر کمپنی وفد نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی ایکسائز ڈیوٹی لگانے سے کمپنیوں پر ڈبل ٹیکسیشن ہو جائے گی جس پر مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ تمباکو پر ایکسائز ڈیوٹی صوبے کا حق ہے جو وفاق کو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں حاصل ہو رہی ہے اور اس ضمن میں تمباکو پر پراونشل ایکسائز ڈیوٹی لگانے کا بل بہت جلد منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا کا اس موقع پر کہنا تھا کہ رواں سال وفاق کو تمباکو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے مد میں ڈھائی سو ارب روپے کی آمدنی ہوگی جو پول میں جاکر دیگر صوبوں سندھ اور پنجاب میں تقسیم کی جا رہی ہے جبکہ 80 فیصد تمباکو پیداوار خیبرپختونخوا سے ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ تمباکو سیس ڈیولپمنٹ اضافے سے حاصل آمدنی متعلقہ علاقوں میں خرچ کی جائیگی انہوں نے کہا کہ کمپنیوں اور کاروبار کی ترقی چاہتے ہیں لیکن صوبے کا حق کسی کو نہیں دینگے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ پرونشل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں حاصل ہونے والی آمدن صحت کے شعبے میں خرچ کی جائے گی۔ انہوں نے وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے تمباکو کے پیسے دیگر صوبوں میں خرچ کیے جا رہے ہیں جو کہ ناانصافی ہے اور اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاق نے تمباکو کو اپنے پاس رکھا ہے جو صوبے کا حق ہے۔

مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف اور وزیر خوراک ظاہر شاہ کی پریس کانفرنس۔*

حکومت خیبر پختونخوا خوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر محمد علی سیف اور وزیر خوراک ظاہر شاہ نے خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام اباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے وزیر خوراک نے کہا کہ اس سال حکومت خیبر پختونخوا درآمد شدہ گندم نہیں خریدے گی، ان کا کہنا تھا کہ فوڈ کے شعبے میں کرپشن ہوتی تھی اس لیے ایپ بنائی گئی تاکہ نظام میں شفافیت لائی جا سکے اور اب تک 14 لاکھ میٹرک ٹن گندم ایپ میں رجسٹر ہو چکی ہے۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں 22 سینٹرز میں گندم کی خریداری کی جا رہی ہے خریداری کے عمل کو انتہائی شفاف بنایا گیا ہے اگر گندم کی خریدداری میں کوئی ہمارے ایس او پیز پر پورا نہیں اترتا تو ان سے خریداری نہیں ہو گی اب تک 27 ہزار 3 سو میٹرک ٹن گندم خرید چکے ہیں۔ اس موقع پر خیبر پختونخوا کے وزیرِ خوراک ظاہر شاہ طورو نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا درآمد شدہ گندم نہیں خریدے گی ہم مقامی کسانوں سے 6 لاکھ ٹن گندم خرید رہے ہیں۔ اسلام آباد میں مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ خوراک ظاہر شاہ طورو نے میڈیا کو یہ بھی بتایا کہ پہلے مرحلے میں 3 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 40 کلو گندم کا ریٹ 3900 روپے رکھا ہے، گندم کی خریداری کے عمل کو انتہائی شفاف بنایا گیا ہے۔ ہماری حکومت کافی عرصے بعد مقامی کسانوں سے گندم خرید رہی ہے،ہم 6 لاکھ ٹن گندم کی خریداری کررہے ہیں 100 کلو گرام گندم کی قیمت 9 ہزار 720 مقرر کی گئی ہے اس موقع پر ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم پنجاب کے کسانوں سے بھی گندم خرید رہے ہیں اور اس خریداری کی شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے مختلف اقدامات کررہے ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ امپورٹ کی گئی گندم خیبر پختونخوا کے لوگ پسند نہیں کرتے، خیبر پختونخوا میں 22 سینٹرز میں گندم کی خریداری کی جا رہی ہے، 20 مئی سے نئے مراحل میں گندم خریدی جائے گی۔ وزیر خوراک نے بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے مقامی کسانوں سے گندم کی خریداری کا جو فیصلہ کیا ہے اس سے صوبے کو 12 ارب روپے کا فائدہ ہو گا۔ وزیرِ خوراک خیبر پختونخوا نے کہا کہ آٹے کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے بعد صوبے میں 120 گرام کی روٹی 15 روپے اور 240 گرام کی روٹی 30 میں روپے کردی ہے جو بھی حکومتی نرخ کی خلاف ورزی کریگا اسکے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائیگی اور انہیں جیل کی ہوا کھانی پڑیگی۔ اس موقع پر خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا، عوام افواؤں پر کان مت دھریں، کسی کے گھر میں کچھ بارودی مواد موجود تھا جس سے دھماکہ ہوا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کرنا بند کرے، وفاق نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور سے وعدہ کیا تھا کہ چیف سیکرٹری کے معاملات کو باہمی رضامندی سے طے کیا جائے گا مگر بدقسمتی سے وعدہ کرنے کے باوجود چیف سیکرٹری نہیں تعینات کیا جا رہا۔ اس موقع پر ان کا مزید کہنا تھا کہ فاٹا (ضم اضلاع) کا بوجھ بھی ہماری حکومت پر ہے پہلے فاٹا کو الگ فنڈ دیا جاتا تھا ہمارے ساتھ شامل ہونے کے بعد فاٹا (ضم اضلاع) کا فنڈ ختم کر دیا گیا (ضم اضلاع) فاٹا کی عوام ہماری ذمہ داری ہے اور وہ ہمارا حصہ ہے ہم ان کی قدر کرتے ہیں مگر وفاق ہوش کے ناخن لے اور (ضم اضلاع) کی عوام کو ان کا حق دے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر جنگلات و ماحولیات فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ عوامی مسائل کا حل ہماری اولین ترجیح ہے، صوبائی حکومت لوگوں کی حالت زندگی بہتر بنانے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کارلا رہی ہے

خیبر پختونخوا کے وزیر جنگلات و ماحولیات فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ عوامی مسائل کا حل ہماری اولین ترجیح ہے، صوبائی حکومت لوگوں کی حالت زندگی بہتر بنانے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کارلا رہی ہے، اس وقت ملک کو عمران خان کی ضرورت ہے اس وقت ملک انتہائی مشکل دور سے گزر رہا ہے، ایماندار اور دیانتدار قیادت کے بغیر ملکی مشکلات کا حل ممکن نہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اپنے حجرہ مکانباغ میں مختلف وفود سے ملاقاتوں کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو مسائل کی دلدل سے نکالنا اور اُن کی حالت زندگی بہتر بنانا ہماری ترجیحات ہے اور اس سلسلے میں صوبائی حکومت تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ملک جن حالات سے گزر رہا ہے ایسے میں ملک کو ایماندار اور دیانتدار قیادت کی ضرورت ہے اور ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کیلئے عمران خان جیسے لیڈر کی ضرورت ہے قائد عمران خان نہ صرف ہمارے بلکہ پورے عالم اسلام کا حقیقی اثاثہ ہیں جو ملک و قوم کا درد اپنے دل میں رکھتے ہیں۔